Wed. Jan 27th, 2021
231 Views
دنیا مسافر خانہ ہے     “ہر متنفس کو موت کا مزہ چکھنا ہے۔
تحریر۔فرخندہ اسحاق ظفر
 “اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے ہر جاندار کے لئے موت کا وقت اور جگہ متعین کر دی ہے ۔موت بندوں کو ہلاک کرنے والی دلوں کو تھرانے والی ،بچوں کی یتیم کرنے والی ،بستیوں کو اجاڑنے والی اور امیدوں پر پانی پھیرنے والی شے ہے۔ موت نہ چھوٹوں پر شفقت کرتی ہے نہ ہی بڑوں کی تعظیم۔کڑے سفر کا تھکا مسافر ،تھکا ایسا ہے کہ سو گیا ۔خود اپنی آنکھیں تو بند کر لی ،ہر آنکھ لیکن بھگو گیا۔ والد محترم صاحبزادہ اسحاق ظفر کے دوست،لاکھوں دلوں کی دھڑکن  محمد مطلوب انقلابی کی جدائی پر دل خون کے آنسو رو رہا ہے۔ موت ایک اٹل حقیقت ہے زمین کی تہوں میں چھپ جائیں یا آسمان کی وسعتوں میں محفوظ ہو جائیں لیکن موت ہے کہ جب وقت آ جائے ،آکر رہتی ہے ۔یہ اپنے اسباب خود پیدا کر لیتی ہے۔ آذاد کشمیر کی سیاست میں نمایاں مقام رکھنے والے،سابق وزیر تعلیم ،نائب صدر پاکستان پیپلز پارٹی آزادکشمیر محمد مطلوب 26 نومبر کو گھر کی سیڑھیوں سے گر کر شدید زخمی ہو گئے تھے۔ تب سے انکے چاہنے اور جاننے والوں نے ایک ایک لمحہ کرب میں گزارہ۔ محمد مطلوب انقلابی تین، چار دن زندگی اور موت کی کشمکش میں رہنے کے بعد آج اپنے چاہنےاور جاننے والوں کو سوگوار چھوڑ کر اس دار فانی سےکوچ کر گئے۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔
 اللہ سبحانہ و تعالیٰ اپنے پیارے حبیبﷺکے صدقے ان کی بخشش ومغفرت فرماۓ،درجات بلند فرماۓ اورجنت الفردوس میں میں اعلی’ مقام عطافرماۓ اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے۔
 آمین یارب العالمین                          دنیا مسافر خانہ ہے ، مہمان بدلتے رہتے ہیں.
قصہ تو وہی فرسودہ ہے ، عنوان بدلتے رہتے ہیں.
محتاج غنی ہو جاتے ہیں ، شاہوں کو گداہی ملتی ہے.
قسمت کے دوراہے پہ اکثر انسان بدلتے رہتے ہیں.پھر پنڈال سجے گے، جلسے جلوس ہونگے، نعرے گونجے گے، مگر مطلوب انقلابی کا چہرہ کسی کو دکھائی نہیں دے گا اورنہ ہی ان کی آواز سنائی دےگی۔تاہم انکی کمی ہمیشہ محسوس ہوتی رہی گی۔ ان لمحوں کی یادیں سنبھال کر رکھنا ، ہم یادتو آئیں گے لیکن لوٹ کے نہیں ۔مطلوب انقلابی نے والد محترم سے قائم دوستی کے رشتے کو انکے اس دنیا کے چلے جانے کے بعد بھی بخوبی نبھایا۔ وہ ہماری ہر خوشی و غم میں شرکت کرتے رہے ۔محمد مطلوب انقلابی کے آخری سفر نے آج والد محترم صاحبزادہ اسحاق ظفر سے جدائی کا زخم پھر سے تازہ کر دیا۔ یہ کون چل دیا ہے ہمارا شہر  چھوڑ کر
آنکھوں نے  رکھ  دیا    دریا نچوڑ کر
Avatar

By ajazmir