Mon. Dec 6th, 2021
297 Views

گلگت بلتستان کے تخت پر کس کا راج ہوگا؟ فیصلے کی گھڑی آگئی۔ پولنگ کا وقت ختم ہونے کے بعد ووٹوں کی گنتی شروع کر دی گئی ہے۔ تحریک انصاف، پیپلز پارٹی اور ن لیگ میں کانٹے کا مقابلہ متوقع ہے۔تفصیل کے مطابق گلگت بلتستان کے انتخابات میں کون سی سیاسی جماعت میدان مارے گی اور حکمرانی کا تاج کس جماعت کے سر سجے گا؟ اس کا فیصلہ آج ہوگا۔ تحریک انصاف، پیپلز پارٹی اور ن لیگ میں انتخابی معرکہ ہوگا۔دس اضلاع کے 23 حلقوں سے 7 لاکھ سے زائد ووٹرز نے اپنا حقِ رائے دہی استعمال کیا جبکہ گلگت حلقہ 3 میں تحریک انصاف کے صدر جعفر شاہ کی اچانک موت کے بعد اس حلقے میں انتخابات 22 نومبر کو ہونگے۔

الیکشن کا عمل بغیر کسی وقفے کے صبح 8 بجے سے شام 5 بجے تک جاری رہا۔ الیکشن کمیشن گلگت بلتستان نے پولنگ سٹیشن کے اندر موبائل فون لے جانے پر مکمل پابندی عائد کی تھی۔اس کے علاوہ پولنگ سٹیشن کے 100 میٹر حدود کے اندر پوسٹرز اور بینرز لگانے اور چار سو میٹر کے اندر انتخابی مہم چلانے پر بھی پابندی عائد تھی۔ انتخابات کو صاف، شفاف، غیر جانبدار اور پرامن بنانے کیلئے الیکشن کمیشن گلگت بلتستان اور صوبائی حکومت نے تمام تر انتظامات مکمل کئے تھے۔اس سلسلے میں 15 ہزار سے زائد سکیورٹی اہلکاروں نے پولنگ سٹیشنز پر خدمات سرانجام دیں۔ گلگت بلتستان کے انتخابات کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ملک کے دیگر صوبوں سے بھی پولیس اور نیم فوجی اہلکاروں کے خصوصی دستوں نے بھی یہاں خدمات سر انجام دیں۔انتخابات کیلئے ایک ہزار ایک سو ساٹھ پولنگ سٹیشنز قائم کیے گئے تھے جن میں سے 311 کو حساس اور 428 کو انتہائی حساس قرار دیا گیا تھا۔ پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا، بلوچستان اور مقامی پولیس کے دس ہزار اہلکارڈیوٹی پر تعینات کئے گئے تھے۔ اس کے علاوہ پیراملٹری فورسز نے بھی فرائض انجام دیے۔

گلگت بلتستان انتخابات میں 7 لاکھ 45 ہزار 361 ووٹرز نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیام۔ ان میں چار لاکھ پانچ ہزار تین سو پچاس مرد اور تین لاکھ انتالیس ہزار نو سو بانوے خواتین شامل ہیں۔

تحریک انصاف (پی ٹی آئی)، پیپلز پارٹی (پی پی) اور مسلم لیگ (ن) میں کانٹے کا مقابلہ متوقع ہے۔ سیاسی جماعتوں نے گلگت بلتستان میں بھرپور انتخابی مہم چلائی۔ حکمران جماعت پی ٹی آئی، پی پی اور نواز لیگ نے جلسے، ریلیوں اور کارنر میٹنگز میں خوب جان ماری۔ امیدواروں نے کامیابی کے دعوے بھی کئے۔کورونا صورتحال کے پیش نظر تمام پولنگ سٹاف، سکیورٹی اہلکاروں اور ووٹرز کو ماسک بھی مہیا کئے گئے تھے۔ اس کے علاوہ پولنگ سٹیشنوں پر پولنگ عملے کو حفاظتی سامان کے آٹھ ہزار بیگ تقسیم کئے گئے تھے۔ حفاظتی سامان میں ماسک، گلوز، ہیڈ سینی ٹائزر، معلوماتی پوسٹر اور پلاسٹک فیس کور شامل تھے۔ پولنگ سٹیشنوں کے اندر ووٹرز ایک دوسرے سے چھ فٹ کے فاصلے پر رکھا گیا۔

کچھ مقامات پر پولنگ کے عمل میں سست روی کی شکایات بھی سامنے آئیں۔ انتخابی عمل اور سیکیورٹی کا جائزہ لینے کیلئے چیف الیکشن کمشنر نے مرکزی کنٹرول روم اور پولنگ سٹیشنز کا دورہ کیا۔چیف الیکشن کمشنر راجہ شہباز خان نے انتخابی عمل اور سیکورٹی انتظامات پر اطمینان کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام ذمہ داری کیساتھ اپنا حق رائے دہی استعمال کر رہے ہیں۔نگران وزیراعلیٰ گلگت بلتستان میر افضل خان کا کہنا ہے کہ عوام میں ووٹ کا حق استعمال کرنے کیلئے شعور اجاگر ہوا۔ مثالی الیکشن کا انعقاد یقینی بنایا۔

By ajazmir