Mon. Jan 18th, 2021
206 Views

امریکہ کے نو منتخب صدر جو بائیڈن نے قوم سے اپنے پہلے خطاب میں کہا کہ وہ وعدہ کرتے ہیں کہ وہ ایک ایسے صدر ہوں گے جو تفرقہ پھیلانے کے بجائے لوگوں کو متحد کرے گا، جو نیلی ریاست (ڈیموکریٹس) یا لال ریاست (رپبلکن) نہیں دیکھے گا بلکہ پورے امریکہ کو دیکھے گا اور اپنا پورا دل و جان لگا کر اپنی قوم کا اعتماد جیتنے کی کوشش کرے گا۔
واضح رہے کہ متوقع نتائج کے مطابق جو بائیڈن نے سخت مقابلے کے بعد موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو منگل کو ہونے والے صدارتی انتخاب میں شکست دے دی۔صدر ٹرمپ نے اب تک شکست تسلیم نہیں کی ہے اور ہفتے کے روز انتخاب کے متوقع نتائج کے اعلان کے بعد عوام سے گفتگو نہیں کی ہے اور وہ گالف کھیلنے میں مصروف تھے۔ریاست ڈیلاوئیر کے شہر ولمنگٹن کے چیز سینٹر میں عوام سے خطاب کرتے ہوئے نو منتخب صدر جو بائیڈن نے مزید کہا کہ وہ بہت شکر گزار ہیں کہ ان پر بھروسہ اور اعتماد کیا گیا جس کی مدد سے وہ امریکی صدارتی انتخابات کی تاریخ میں سات کروڑ چالیس لاکھ سے زیادہ ووٹ حاصل کر کے سب سے زیادہ ووٹ لینے والے صدر بن گئے۔’میں نے اس عہدے کے لیے اس لیے مقابلہ کیا تاکہ میں امریکہ کی روح کو دوبارہ بحال کر سکوں، تاکہ اس ملک کو دوبارہ تعمیر کر سکوں، اس کے متوسط طبقے اور پورے امریکہ کے وقار کو دنیا بھر میں بحال کر سکوں، اور اپنے ملک میں ہم سب کو یکجا کر سکوں۔’نو منتخب صدر جو بائیڈن کا مزید کہنا تھا کہ یہ ان کے لیے بہت عزت کا مقام ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں انھیں ووٹ دیے گئے تاکہ وہ اپنے مشن کو پورا کر سکیں۔جو بائیڈن نے افریقی امریکی ووٹرز کا بالخصوص شکریہ ادا کیا جنھوں نے انھیں ڈیموکریٹک امیدوار چننے کے مقابلے جیتنے میں مدد کی تھی۔

،تصویراپنے خاندان اور اپنی نومنتخب نائب صدر کملا ہیرس کا شکریہ ادا کرنے کے بعد جو بائیڈن نے اس تمام اتحاد کا شکریہ ادا کیا جنھوں نے ان کو ووٹ دیا جن میں نوجوان، بڑی عمر کے لوگ، شہروں اور گاؤں میں رہنے والے اور مختلف نسلوں سے تعلق رکھنے والے لوگ شامل تھے۔
اس کے بعد جو بائیڈن نے صدر ٹرمپ کے حامیوں کو بھی مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں ایک دوسرے کو موقع دینا ہوگا۔
‘اب وقت آ گیا ہے کہ ہم سخت الفاظ کا استعمال بند کریں، ماحول کی گرمی کو کم کریں، ایک دوسرے کو دیکھیں، ایک دوسرے کو سنیں، اپنے حریفوں کو دشمن سمجھنا بند کریں۔’عبرانی زبان کی کتاب ایکلیسیاٹیس کا حوالے دیتے ہوئے نو منتخب صدر جو بائیڈن کا کہنا تھا کہ ہر چیز کا اپنا وقت ہوتا ہے اور ‘یہ وقت ہے امریکہ کے زخم مندمل کرنے کا۔’انھوں نے کہا کہ وہ ان افراد کے لیے بھی اتنی ہی محنت کریں گے جنھوں نے ان کو ووٹ نہیں دیا، جتنا ان لوگوں کے لیے جنھوں نے ان کو ووٹ دیا۔جو بائیڈن نے کہا کہ کورونا وائرس کی وبا کو قابو میں لانا ان کا سب سے پہلا کام ہوگا۔ انھوں نے کہا ‘صرف ایسا کرنے کے بعد ہی ہم جینے کا قابل ہو سکیں گے۔’کورونا وائرس کے حوالے سے بات کرتے ہوئے جو بائیڈن کا کہنا تھا کہ وہ پیر کو اپنی کورونا وائرس ٹیم کا اعلان کریں گے۔’میں پیر کے روز اپنی ٹیم کا اعلان کروں گا جو سائنسدان اور ماہرین پر مشتمل ہوگی جو کہ بائیڈن۔ہیرس منصوبے کر عمل درآمد کرے گی جس کا آغاز 20 جنوری 2021 سے ہوگا۔ اور یہ پلان سائنسی بنیادوں پر ہوگا۔’انھوں نے مزید کہا کہ وہ اپنی طور پر مکمل کوشش کریں گے کہ اس مرض پر قابو پایا جا سکے۔اپنی تقریر میں جو بائیڈن نے مزید کہا کہ تاریخی طور پر امریکہ اہم لمحات پر لیے گئے فیصلوں کی بنیاد پر اپنی ڈگر پر چلا ہے اور اس سلسلے میں ماضی کے رہنماؤں نے مشکل فیصلے لیے۔’صدر لنکن نے 1860 میں ہماری یونین کو بچایا، روزویلٹ نے 1932 میں ملک کو ایک نئی راہ دکھائی، جان کینیڈی نے 1960 میں اور پھر باراک اوباما نے 2008 میں کہا کہ ہم کر سکتے ہیں۔ ہمارا ملک ایک ایسی جد و جہد سے گزر کر اپنے مقام تک پہنچا ہے۔’انھوں نے مزید کہا’آج پوری دنیا امریکہ کو دیکھ رہی ہے اور مجھے یقین ہے کہ جب ہم اپنے بہترین کردار کو پیش کرتے ہیں تو پوری دنیا کے لیے مشعل راہ بن سکتے ہیں۔ آئیں، مل کر ایک ایسا ملک بنیں جو ہمیں یقین ہے کہ بن سکتے ہیں۔ ایک ایسا ملک جو متحد ہو، مضبوط ہو، اور صحتیاب ہو۔’

Avatar

By ajazmir