Wed. Jan 27th, 2021
432 Views

گزشتہ رات پہلی بار بحریہ ٹاون رات گزارنے کا شرف حاصل ہوا ایسا لگتا نہیں کے آپ پاکستان میں ہیں یوں محسوس ہوتا ہے آپ بیرون دُنیا کسی ترقی یافتہ ملک میں ہیں صفائی ستھرائی بجلی پانی گلیاں سڑکیں تعمیر یہاں کی دکھائی ہی نہیں دیتی بس گھر کی چھت پر چڑھ کر جب ادھر اُدھر نظر دوڑائیں تو ماحول کی آلودگی سے پتہ چل ہی جاتا ہے کے آپ پاکستان میں ہی ہیں
مجھے نہ جانے کیوں ایک بادشاہ کے محل کی کہانی یاد آ گئی جو بہت ہی خوبصورت تھا مگر اُس کا ایک کونا بدصورت رہ گیا تھا جو بادشاہ نے زبردستی کسی غریب بڑھیا کی زمین ہتھیا کر اُس میں بنا لیا تھا بحریہ ٹاون کی کہانی بھی کچھ ایسی ہی لگ رہی ہے اس کا ایک نہیں چاروں کونے ہی خوبصورت دکھائی نہیں دیتے یہاں بادشاہ کو قبضہ مافیا کا سب سے بڑا ڈان کہا جاتا ہے شاید اس لیے بحریہ مجھے خوبصورت ہونے کے باوجود خوبصورت نہ لگا یا شاید میں باقی اکثریتی پاکستانیوں کی طرح ذہنی پسماندگی کا شکار ہوں جو بحریہ کی طرح یا بحریہ والوں کی طرح سوچ نہیں پاتے میرے خیال میں میں واقعی ذہنی پسماندگی کا شکار ہوں ورنہ امریکہ میں کُٹ کے ایک سال کام کر لیا جائے تو زیادہ نہ سہی پانچ مرلے کی کوٹھی تو ڈالی جا سکتی ہے
یہاں رہنے والوں میں اچھی خاصی تعداد ایسے احباب کی ہے جو بیرون ملک محنت مزدوری کر کے بحریہ میں رہائش پذیر ہیں دوسری طرف ایسے بھی ہیں جو بغیر محنت مزدوری کیے بھی یہاں آباد ہیں جن میں اکثریت سرکار اور سرکار کے تنخواہ داروں کی ہے ہو سکتا ہے مجھے سرکار اور سرکار کے تنخواہ داروں سے کوئی خاص حسد ہو جس کی وجہ سے میں بحریہ میں نہیں رہنا چاہتا
اس کے علاوہ اور بھی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں یہاں رہائش پذیر نہ ہونے کی بہرحال ایک وجہ تو بلکل نہیں ہو سکتی کے میں باقی پاکستانیوں کی طرح رہنا چاہتا ہوں کل ایک صاحب بتا رہے تھے کے مخدوم آمین فہیم کے گوٹھ میں لوگوں کی اکثریت کے پاس پہننے کیلیے جوتیاں تک نہیں لوگ کولڈ ڈرنکس کی بوتلوں کی جوتیاں بنا کر پہن لیتے ہیں مجھے کوئی ہمدردی نہیں لوگ ننگے پاؤں چلیں یا جوتیاں پہنیں نہ مجھے اس بات سے غرض ہے کے لوگ غریب ہیں اُن کے پاس کھانے کو کچھ نہیں ہسپتالوں میں بیمار پڑے رہتے ہیں بہتر علاج نہیں کروا پاتے یا سرکاری سکولوں میں بغیر عمارت کے پتھروں پر بیٹھے زیور تعلیم سے آراستہ ہو رہے ہیں پوری زندگی روتے روتے گزار دیتے ہیں میں نہ تو اُن جیسا ہوں اور نہ ہی اُن جیسا رہنا چاہتا ہوں مجھے غریبوں کے مسائل سے کوئی دلچسپی نہیں نہ ہی مجھے غریبوں سے کوئی ہمدردی ہے میرا شوق صرف اتنا ہے کے میں بحریہ ٹاون یا اس جیسی کسی اور جگہ اندرون ملک بسنے والے اُن لوگوں کے راز پا لوں جو کرتے کچھ بھی نہیں مگر رہتے خوبصورت اور عالی شان جہگوں میں کچھ ایسے بھی ہیں جو کل تک تو کچھ بھی نہیں ہوتے بس الیکشن جیت جاتے ہیں پھر سب کچھ ہو جاتے ہیں اسے آجکل شاید ریاضی یا معاشیات کی زبان میں آمدن سے زیادہ اخراجات کہا جاتا ہے جو بھی ہو مجھے یہ راز ضرور جاننا ہے اور ان جیسا ہی بننا ہے کیونکہ مجھے کُٹ کر کام کرنے کی عادت نہیں سہل پسند ہوں آسان راستہ تلاش کرنے کے چکروں میں ہوں اگر بغیر محنت کیے بحریہ میں رہا جا سکتا ہے تو میں بھی بغیر محنت کیے یہاں رہوں گا میں اپنی ضد کی وجہ سے مجبور ہوں مجھے غریبوں کا کوئی خیال نہیں مجھے خیال ہے تو امیروں کا خاص کر اُن امیروں کا جن کا تعلق کبھی غریبوں سے ہوا کرتا تھا اُن میں کئی نامور اور کامیاب سیاستدان سرکار کے ملازم جن کی تنخواہ کے برابر شاید ایک مہینے کا بجلی کا بل آتا ہو مجھے ان جیسا بننا ہے اس راز کو پالینے کے بعد فضل ربی کے ساتھ بحریہ میں اپنی بھی کوٹھی ہو گی جس پے بڑے بڑے الفاظ میں ماشاللہ لکھا ہو گا
محمد امتیاز ظفر
بحریہ ٹاون اسلام آباد

Avatar

By ajazmir