82 Views

تین ستمبر کے کامیاب جلسے کے بعد کچھ سیاسی جماعتوں کے سیاسی نابالغ زاتیات پر اتر آئے ہیں اور علاقے کی پرامن سیاسی فضا کو سبوتاژ کرنے کی کوششوں میں مصروف عمل ہیں ہم کسی کو کردار کشی کی اجازت نہیں دیں گئے۔ ان خیالات کا اظہار پاکستان تحریک انصاف آزاد کشمیر کے مرکزی جوائنٹ سیکرٹری چوہدری اسحاق طاہر ایڈووکیٹ نے ڈسٹرکٹ پریس کلب میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران کیا انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کے سربراہان ورکشاپ کا انعقاد کرکے انکی سیاسی تربیت کریں گالم گلوچ،لغو گفتگو اور سوشل میڈیا پر نازیبا الفاظ کا استعمال سیاسی ماحول کو خراب کر رہا ہے پاکستان تحریک انصاف رواداری اور بھائی چارے کی سیاست پر یقین رکھتی ہے ہماری جماعت کے کارکنان نازیبا اور بدکلامی پر آگ بگولہ ہیں لیکن ہم نے انہیں پرامن رہنے کی ہدایات کی ہیں سیاسی جماعتوں کے ایک دوسرے کے خلاف سیاسی اختلاف نظریات پر ہوا کرتے ہیں لیکن زاتیات پر اٹیک کرنا کسی کی زات پر بے بنیاد الزامات لگانا،کیچڑ اچھالنا کسی بڑے تصادم کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتا ہے اسحاق طاہر ایڈووکیٹ کے ساتھ ضلعی صدر اخلاق خان،آصف مغل،ناصر مغل،اسرار خان،عامر روشن اور دیگر نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا مقررین نے کہا کہ آزادکشمیر کی حکومت سے عوام مایوس ہیں ضلع جہلم ویلی کی عوام کو گذشتہ الیکشن میں جھانسہ دیا گیا کہ وہ جیت کروزیراعظم بنیں گے اور علاقے کی تقدیر بدل دیں گے لیکن وزیراعظم کے منصب پر پہنچ کر وہ جہلم ویلی کو بھول گئے اور اقربا پروری کو پروان چڑھایا تمام کلیدی عہدوں پر لیگی جیالوں میں نوکریاں تقسیم کیں یٹیاں بالا اس وقت مسائل کی آماہ جگاہ بن گیا ہے گائناکالوجسٹ کی آسامی پر تعینات ڈاکٹر مظفرآباد میں بیٹھ کر تنخواہ وصول کر رہی ہے یونیورسٹی کیمپس کی تعمیر نہیں ہوسکی۔وزیراعظم کے آبائی ضلع کے پریس کلب کی تعمیر ابھی تک نہیں ہوسکی۔دیگر اضلاع کی تحیصلوں میں پریس کلب کی عمارات تعمیر ہوگئی ہیں لیکن بدقسمت ضلع کی بدقسمتی یہ ہے فاروق حیدر وزیراعظم ہیں جنہوں نے یہاں کی عوام سے اسحاق ظفر مرحوم کے زمانے میں شکستوںکا بدلہ چکا رہے ہیں وزیراعظم کے پاس تعمیر وترقی کا کوئی ویژن نہیں ہے اپنے چہتیوں کو سیکیمیں دے کر نواز رہے ہیں ضلع کی سڑکیں کھنڈرات کا منظر پیش کر رہی ہیں کورونا کے دوران لیے جانے فنڈز کا کوئی حساب نہیں لائن آف کنٹرول پر مورچوں کی تعمیر کے لیے ساڑھے تین ارب روپے کی خطیر رقم وفاقی حکومت نے ارسال کی جس کے بارے میں کوئی علم نہیں کہ کس مد میں خرچ کی گئی۔احساس کفالت پرگرام میں من پسند افراد کو نوازنے کے لیے تعلیمی انتظامیہ کی مداخلت سے حقداروں کو محروم رکھنے کے لیے حکمت عملی طے ہوگئی ہے اب اپوزیشن کا کردار حقیقی معنوں میں ادا کریں گئے

Avatar

By ajazmir