127 Views

کیا ان چہروں کے تاثرات دیکھ کہ لگتا ہے کہ ان کی بات چیت کامیاب ہو گی؟

تحریر: رفعت وانی
سم لے لو جو ان دونوں کی بات چیت کامیاب ہوئی۔ انڈیا چائنا سے کہہ رہا ہے کہ فنگر چار سے آرمی ہٹا لو ۔ انڈیا میڈیا انڈینز کر بول رہا ہے کہ چائنا فنگر چار پر آیا ہی نہیں۔
چائنا کا بیانیہ ہے کہ جب ہم بمطابق مودی جی انڈین سرحد میں آئے ہی نہیں تو پیچھے کیوں جائیں جو کہ بالکل سہی بیانیہ ہے۔



اس پر ایک لطیفہ کبھی پڑھا تھا وہ یاد آرہا ہے۔
ایک فیملی کہیں گاؤں سے کہیں شہر کی طرف گئی۔ فیملی میں ماں باپ اور اُن کا بیٹا بہو تھے۔ دونوں جوڑوں نے شہر کی چمک دیکھتے ہوئے کہا کہ چلو پہلے شہر گھومتے ہیں اپنے اپنے جوڑے کے ساتھ۔ اُس شخص کا باپ اُسکی والدہ کو لے کر ایک طرف چل پڑا اور بیٹا دوسری جانب۔ تھوڑی دیر میں بیٹا بھاگتا بھاگتا باپ کے پاس پہنچا اور کہا کہ ابا تیری بہو بھیڑ میں کہیں کھو گئی ہے باپ پریشانی کے عالم میں بیٹے کے ساتھ بھاگا اور دونوں مل کے بہو کو تلاش کرنے لگے جب کافی تلاش کرتے کافی دیر گزری اور بہو نہ ملی تو اور اچانک اُسے یاد آیا کہ اُسکی اپنی ماں کہیں رہ گئی ہے۔ اب دونوں ماں کو تلاش کرنے لگے اور جب نہ ماں کا پتا چلا اور نہ بیوی کا تو دونوں باپ بیٹا سڑک پر بیٹھ گئے اور بیٹے منہ سے بے اختیار نکلا اپنی تے لبی نہیں اور ابے کی بھی گنوا دی۔
اب آپ سوچتے ہوں گے کہ اس لطیفے کا چائنا انڈیا سے کیا لینا دینا تو وہ بات اتنی سی ہے کہ چائنا لداخ کے سٹریٹجک پوائنٹس قبضے میں کرنا چاہتا تھا مگر بونس میں آروننچل پردیش بھی بھی مل گیا۔۔۔
اور جہاں چائنا قدم جما چکا ہے وہاں سے تو وہ ہٹنے والا نہیں ہاں آگے مزید نہ بڑھنے پر شائد چائنا بات کرنے پر راضی ہو جائے مگر قبضہ شدہ علاقے چائنا کبھی نہیں چھوڑے گا۔
یا انڈیا کو لداخ اور آروننچل پردیش سے دستبدار ہونا ہے یا علاقے واپس حاصل کرنے کے لیئے جنگ کرنی ہے۔ دوسرا کوئی راستہ انڈیا کے پاس نہیں۔ اور دونوں صورتوں میں مودی سرکار کو جنرل عامر عبداللہ خان نیازی کے روپ میں یاد رکھا جائے گا۔
کیونکہ انڈیا صرف لداخ ہی نہیں آروننچل پردیش سمیت سیون سسٹرز سٹیٹس بھی کھونے کی کگار پر ہے۔

Avatar

By ajazmir