164 Views

سرینگر(ساوتھ ایشین وائر)
مقبوضہ کشمیر میں شمالی کشمیر کے ضلع بارہمولہ کے علاقے پٹن میںایک آپریشن کے دوران حریت پسندوں اور بھارتی فورسز کے درمیان تصادم میں دوکشمیری نوجوان حریت پسند شہیدہو گئے۔
ساوتھ ایشین وائر کے مطابق کشمیر زون پولیس نے بتایا کہ بارہمولہ کے یدی پورہ علاقے میں فورسز کو عسکریت پسندوں کی موجودگی کی اطلاع موصول ہوئی تھی جس کے بعد فورسز نے جمعے کو علی الصبح علاقے کو محاصرے میں لیا اور تلاشی مہم شروع کی ۔بھارتی فورسز نے تین منزلہ مکان میں بارودی مواد نصب کردیا تاکہ مکان کو دھماکے سے اڑا دیا جائے۔ مکان میں اعلیٰ مجاہد کمانڈر سمیت 3حریت پسند محمد عمر لون اور حنیف خان موجود تھے۔ایک مجاہدکے شہید ہونے کے بعد دوسرے مجاہد نے مکان کے شیڈ میں پناہ لے کر مقابلہ جاری رکھا۔ لیکن دن 12بجے کے بعد شدید فائرنگ سے وہ شہید ہو گیا۔
ذرائع کے مطابق علاقے میں3 حریت پسندوں کے چھپے ہونے کی اطلاع تھی۔ اس دوران علاقے کے تمام داخلی اور خارجہ راستوں کو سیل کردیا گیا۔
فوجی ذرائع کے مطابق تصادم میں 29 آرآر کاآرمی میجر روہت مشرا زخمی ہواجسے علاج کے لیے ہسپتال میں داخل کرایا گیا۔ساوتھ ایشین وائر کے مطابق مقبوضہ جموں وکشمیر کے ضلع بارہمولہ میں آج کے واقعے سے قبل 2000سے اب تک 339مختلف واقعات میں 758افراد کو گرفتار کیا گیا ہے جبکہ اسی عرصے کے دوران 1510مختلف واقعات میں اس ضلع میں 1587 حریت پسندوں اور609عام افراد کو شہید کیا گیا۔اسی دوران 474سیکورٹی اہلکار بھی اس ضلع میں ہلاک ہوئے۔ساوتھ ایشین وائر کے مطابق آج کے واقعے سے قبل رواں سال 2020میں96واقعات میں191کشمیریوں کو شہید کر دیا گیا۔جن میں جنوری میں 22،فروری میں 12، مارچ میں 13، اپریل میں 33 ، مئی میں 16،جون میں 51، جولائی میں 24اور اگست میں 20کشمیریوں کو شہید کیا گیا۔جبکہ 45پولیس، اور فوجی اہلکار ہلاک ہوئے۔پولیس کے مطابق رواں سال اسلحہ برآمدگی کے107واقعات ریکارڈ کئے گئے۔ساوتھ ایشین وائر کے مطابق اس سال دھماکوں کے23واقعات میں21شہریوںاور ایک سیکورٹی اہلکار کی اموات ہوئیں جبکہ17سیکورٹی اہلکارزخمی ہوئے۔سال 2020میں93مختلف واقعات میں 193افراد کو گرفتار کیا گیا۔
مقبوضہ کشمیر میںجاری تحریک آزادی کے دوران 1988سے اب تک 25170حریت پسند، 15147عام شہری اور418نامعلوم افراد مختلف آپریشنز اور بھارتی فوج کے ہاتھوں تشدد میں شہید ہو ئے ہیں۔اسی دوران 6989بھارتی فوجی بھی ہلاک ہوئے۔
مقبوضہ جموں و کشمیر پولیس نے عسکریت پسندوں کے استعمال میں ہونے کا الزام لگاکر والی سینٹرو کار کو سیکشن 25 یو اے پی اے، 1967 کے تحت ضبط کرلیا۔پولیس کے مطابق کولگام میں 24 اپریل 2020کو تھانہ یاری پورہ انچارج پولیس چوکی فریسل کو اطلاع ملی تھی کہ ایک پولیس کانسٹیبل سرتاج احمد اتو ولد غلام محمد اتو ساکنہ شرپورہ فریسل کو کچھ نامعلوم بندوق برادروں نے اغوا کرلیا ہے۔ساوتھ ایشین وائر کے مطابق کاروائی کرتے ہوئے کولگام پولیس نے کھارپورہ فریسل میں سیکیورٹی کے دیگر اداروں کے ساتھ مل کر سرچ آپریشن شروع کیا۔سرچ آپریشن کے دوران سنٹرو گاڑی جس کا رجسٹریشن نمبر جے کے 02-9795 ہے، کو روکا گیا۔ روکے جانے پر گاڑی میں بیٹھے افرادباہر آئے ۔اورپولیس کی بلا اشتعال فائرنگ سے دونوں افرادموقع پردم توڑ گئے۔ساوتھ ایشین وائر کے مطابق اس دوران پولیس اہلکار کو بحفاظت بازیاب کرایا گیا اور ڈرائیور عرفان احمد ڈار ولد عبد الحمید ساکنہ شوپیان کو گرفتار کر لیا گیا اور گاڑی کو قبضے میں لے لیا گیا۔پولیس نے اس معاملے میں ایک ایف آئی آر درج کی ہے اور تحقیقات کے دوران بھاری مقدار میں اسلحہ گولہ بارود اور دھماکہ خیز مواد گاڑی سے برآمد کیا گیا۔پولیس نے الزام لگایا ہے کہ اس کار کا استعمال عسکریت پسندوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے کے لیے کیا گیا تھا۔
ساوتھ ایشین وائر کے مطابق پولیس نے جمعرات کے روز شمالی کشمیر کے بارہمولہ ضلع میں ناکے پر چیکنگ کے دوران عسکریت پسندوں کے تین ساتھیوں کو گرفتار کرنے کا دعوی کیا ہے۔ایک بیان میں ، پولیس نے کہا کہ سب ڈویژن پٹن ضلع بارہمولہ میں معمول کی جانچ پڑتال کے دوران نیشنل ہائی وے بارہمولہ روڈ پر زنگم کراسنگ سے مین مارکیٹ پٹن کی طرف جانے والے تین افراد کو مشکوک انداز میں حرکت میں لیا گیا۔پولیس ترجمان کا مزید کہنا تھاکہ موقع سے پوچھ گچھ کے دوران انہوں نے اپنی شناخت عابد پرویز ولد پرویز احمد حاجام ساکن اندرگیم پٹن ، جاوید حسن اتو ولد فاروق احمد اتو ساکن گوشغغ پٹن اور جان نصر خالق ولد عبد الخالق گنی رہائشی کے طور پر ظاہر کی۔ پولیس نے الزام لگایا ہے کہ تینوں لشکر طیبہ تنظیم کے لئے معاونین کی حیثیت سے کام کر رہے ہیں۔
پولیس نے ضلع شوپیاں میں ایک شہید مجاہد کمانڈر کی یاد میں منعقدہ ایک کرکٹ ٹورنامنٹ میں حصہ لینے پر دس کشمیری نوجوانوں کے خلاف یو اے پی اے کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔ ان میں شہید مجاہد کمانڈر کا بھائی سید تجمل عمران بھی شامل ہے۔

Avatar

By ajazmir