322 Views

تحریر:فرخندہ اسحاق ظفر
کہتے ہیں وقت زخموں کا مرہم ہے ۔مگر کچھ زخم وقت گزرنے کے ساتھ بھی مندمل نہیں ہوتے۔ ان کا تعلق یادوں سے ہوتا ہے۔یادیں کبھی نہیں مرتیں ۔اس لئے زخم بھی نہیں بھرتے۔ زخم بھرتا ہی نہیں تیری جدائی کا مگر پھر تیری یاد نیا درد اگل جاتی ہے والد محترم صاحبزادہ اسحاق ظفر کو بچھڑے ہوئے چودہ سال گزر گئے مگر ان کی یادیں اور ان سے جدائی کا غم ابھی بھی تازہ ہے ۔میں تو ان کے جسم کا حصہ ہوں ان کو کیسے بھول سکتی ہوں۔ جب کہ ان کے ساتھ چلنے والےاب بھی ان کی یادوں کے دیپ جلاتے اور ان کی جدائی پر اشک بہاتے ہیں۔محبان ظفر نےانھیں زندہ رکھا ہوا ہے۔وہ نظروں سے اوجھل ہو کر بھی کہیں آس پاس ہی موجود ہیں ۔ نگاہیں آج بھی ان کا رستہ تکتیں ہیں اور کان ان کی آواز سننے کے لئے ترستے ہیں ۔ تری خوشبو نہیں ملتی ،ترا لہجہ نہیں ملتا ہمیں تو شہر میں کوئی ترے جیسا نہیں ملتا۔ دلوں پر حکومت کرنے والے صاحبزادہ اسحاق ظفر 12 ستمبر 1944 کو بنی حافظ میں پیدا ہوئے ۔آپ کی پیدائش سے دو ماہ قبل والد کا انتقال ہو گیا تھا۔آپ کے تایا میاں محمد یونس رحمتہ اللہ نے آپکی پرورش و تربیت کی۔ابتدائی تعلیم چکار سے حاصل کی۔ اردو اور سیاسیات میں ماسٹرز کے علاوہ جامعہ کراچی سے ایل ایل بی کی ڈگری لی ۔انھیں مذہب ،تاریخ ،ادب اور سیاست پر دسترس حاصل تھی ۔عملی زندگی کا آغاز بطور معلم کیا۔ بعدازاں وکالت شروع کر دی ۔1971ء میں باقاعدہ سیاست کا آغاز کیا۔ انہوں نے حقیقی معنوں میں غریب ، مظلوم اور پسے ہوئے طبقےکی ترجمانی کی۔برادری ازم اور دیگر تعصبات سے دامن پاک صاف رہا یہی وجہ تھی وہ اپنے حلقہ انتخاب میں تا حیات ناقابل شکست رہے اور اس دنیا سے کوچ کرجانے کے بعد بھی لوگوں کے دلوں پر راج کر رہے ہیں۔ صاحبزادہ اسحاق ظفر دوستوں کے دوست اور مخالفین کےلئے اعلیٰ ظرف حریف تھے ۔شخصیت میں فقیری و درویشی تھی۔ پاکستان کے نامور سیاست دانوں کے ساتھ محترمہ بے نظیر بھٹو بھی آپ کی ذہنی صلاحیتوں اور فن خطابت سے متاثر تھیں۔ ہمارے ہاں سیاست میں دو چیزیں کو کامیابی کی ضمانت سمجھا جاتا ہے ۔ایک سرمایہ اور دوسرا کسی سیاسی گھرانے سے تعلق ۔صاحبزاہ اسحاق ظفر کا تعلق نہ تو سیاسی گھرانے سے تھا اور نہ ہی وہ سرمایہ دار تھے اس کے باوجود انھوں نے دنیائے سیاست میں اپنا ایک مقام بنایا۔ آزاد کشمیر کی سیاسی دنیا میں صاحبزادہ اسحاق ظفر جیسے تحمل مزاج ۔بردبار اور معتبر سیاستدان کی کمی صدیوں تک محسوس ہوتی رہے گی کیوں کہ بڑی مشکل سے ہوتا ہے دیدہ ور پیدا۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ صاحبزادہ اسحاق ظفر اور انکے ساتھ وفات پاجا نے والے بھتیجے صاحبزادہ خورشید انور کی مغفرت کرےاور انکے درجات بلند کرے۔ امین

Avatar

By ajazmir