167 Views

تحریر:بابر بشیر
برصغیر پاک ہند کی تقسیم کا اعلان 03جون 1947ء کو قانون تقسیم ہند کے تحت کیا گیا جبکہ اس پر عمل درآمد 14اگست کو ہوا اس لحاظ سے پاکستان کا یوم آزادی 14اگست اور بھارت کا 15اگست کو ہے۔جس قانون تقسیم ہند کے تحت برصغیر کی ساڑھے پانچ سو سے زائد ریاستوں کو یہ اختیار دیا گیا تھاکہ وہ پاکستان اور بھارت میں سے جس کے ساتھ چائیں اپنی اکثریتی آبادی کی رائے کے مطابق الحاق کرلیں۔ ریاست جموں و کشمیر کی واضح اکثریتی آبادی مسلمانوں پر مشتمل تھی جنہوں نے قانون تقسیم ہند کی منظوری کے بعد 19جولائی 1947ء کو قرار داد الحاق پاکستان کے ذریعے رائے کا اظہار کرتے ہوئے اپنے مستقبل کو واضح طور پر تعین کر دیا تھا لیکن بھارت نے قانون تقسیم ہند کو صریحً طور پر اپنے قدموں تلے روند ڈالا اور کشمیریوں کو اس حق کے تحت ملنے والی آزادی کی راہ میں روڑے اٹکاتے ہوئے فوج کشی کر کے کشمیر کے ایک حصے پر قبضہ کر لیا، کشمیر ہر سال بھارت کے یوم آزادی کو یوم سیاہ کے طور پر مناتے ہیں اس دن پورے کشمیر اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں مقیم کشمیری ہڑتالیں،جلسے،جلوس اور مظاہرے کرتے ہیں جس میں بھارت مخالف نعرے لگائے جاتے ہیں اور عالمی دنیا کی توجہ مسئلہ کشمیرپر مبذول کروائی جاتی ہے لیکن اس موقع پر سکیورٹی کے سخت ترین انتظامامات کیے جاتے ہیں اور عملاً پورے کشمیر کو ایک فوجی چھاونی میں تبدیل کر دیا جا تا ہے۔جہاں ایک جانب سرکاری سطح پر یوم آزادی بھارت کی تقریبات کا اہتمام کیا جا رہا ہوتا ہے اور دوسری جانب عوام یوم سیاہ کے احتجاجی جلوسوں اور مظاہروں کا انعقاد کر رہے ہوتے ہیں۔ یہ کشمیریوں کی بھارت سے نفر ت اور اس سے آزادی کے حصول کی واضح اور روشن مثال ہے۔05اگست 2019ء کو بھارت نے آرٹیکل 35اے اور 370کو ختم کر کے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنے کی کوشش کی ہے، تاکہ وہ کشمیر پر اپنے جابرانہ قبضے کو دوام بخش سکے دونوں اطراف کے کشمیریوں نے اسے ہر گز قبول نہیں کیا،مقبوضہ کشمیر میں مزاحمتی تحریک کا آغاز ہوچکا ہے اور دنیا بھر میں مقیم کشمیریوں نے اسے مسترد کر دیا ہے۔افواج ِپاکستان،حکومت پاکستان اور بالخصوص پاکستانی عوام نے بھی کشمیریوں کا اس تحریک میں بھر پور ساتھ دیا ہے۔اب وقت آگیا ہے بیروں ممالک آباد کشمیری کشتیاں جلا کر میدان عمل میں نکلیں اور بھارت کے مستقبل کے بارے میں مکروہ عزائم کو خاک میں ملا دیں۔ پچھلے ایک سال میں کشمیریوں کو عالمی سطح پر کامیابیاں ملیں ہیں اور جدوجہد آزادی کے سفر میں پہلے سے زیادہ تیزی آئی ہے۔15اگست بھارت کے یوم آزادی کے موقع پر عالمی برادری بالخصوص اقوام متحدہ کو بھارت کی جانب سے کشمیریوں پر ہونے والے مطالم کا نوٹس لینا چاہیے اور کشمیر یوں کو ان کا حق خودارادیت دلوانے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے تاکہ جنوبی ایشیاء میں امن قائم ہو سکے۔وقت کا تضاضاً ہے کہ عالمی برادری اور اقوام متحدہ بھارت پر دباؤ ڈالیں کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں ایک سال سے جاری لاک ڈاؤن اور ختم کرئے ذرائع ابلاغ پر عائد ناروا پابندیوں کو فی الفور ختم کیا جائے اور بھارتی جیلوں میں قید کمسن بچوں سمیت تمام سیاسی کارکنوں اور سیاسی قائدین کو رہا کیا جائے،مقبوضہ جموں و کشمیر کے حوالے سے بھارت کے غیر آئینی اقدامات اور مقبوضہ ریاست کے اندر انسانی حقوق کی پائمالیوں اور کشمیری عوام کے بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حق خودارادیت کو اب تسلیم کرنے کا وقت ہے،ایک سال کے قبل غیر آئینی اقدامات اور مقبوضہ کشمیر میں ایک سالہ کرفیو اور لاک ڈاؤن کے بعد عالمی اور سفارتی سطح پر مسئلہ کشمیر پر کی جانے والی جدو جہد میں تیزی آئی ہے۔

Avatar

By ajazmir