119 Views

تحریر فرخندہ اسحاق ظفر
اہل وطن کو تہتر واں یوم آزادی مبارک ہو۔دعا ہےیہ وطن تا قیامت آباد و شاد رہےاور اس میں محبت،امن اور بھائی چارے کو فروغ ملے۔قائداعظم محمد علی جناح نے بمبئی میں 14 اگست 1924 کو ایک انٹریو میں فرمایا۔”نہیں مسلمانوں اور ہندوئوں کے درمیان خلیج اسقدر وسیع ہے کہ اسے کبھی بھی پاٹا جا سکتا ہو۔آپ ان لوگوں کو ایک ساتھ اکٹھا کر سکتے ہیں ؟جو ایک چھت کے نیچے کھانا کھانے کے لئے تیار نہیں ۔کیا آپ کر سکتے ہیں ؟یا مجھے یہ بات اسطرح کہنے دیں ہندو گائے کی عبادت کرنا چاہتے ہیں جبکہ مسلمان اسکو کھانا چاہتے ہیں ۔”جبکہ مہاتما گاندھی کا کہنا تھا۔ “ہندو اور مسلمان میری دو آنکھیں ہیں یہ ماضی کی افسوسناک تاریخ بھول کر بھائیوں کیطرح اکٹھے رہ سکتےہیں” تہتر سال پہلے انگریزوں کے برصغیرپاک وہند چھوڑنے کے ساتھ ہی ہندوستان دو حصوں میں تقسیم ہو گیا اور دو آزاد ممالک کاجنم ہوا بھارت اور پاکستان۔ بعض نام نہاد دانشور دو قومی نظریہ کو اہمیت نہیں دیتے ۔ان کے خیال میں اگر پاکستان اور بھارت اکٹھے ہوتے تو ہندوستان ایک بہت بڑی قوت بن کر ابھرتا ۔ جبکہ بھارت کی انتہا پسند تنظمیں بر ملا یہ نعرہ لگاتی ہیں کہ غیر ہندوئوں کو بھارت دھرتی سے نکال دینا چاہئے۔ بھارت میں جنونی ہندو اکثریت مسلمانوں کے بہیمانہ قتل و غارت کے ذریعے پوری دنیا کو یہ پیغام دے رہی ہے کہ مسلمان اور ہندو کبھی ایک قوم نہیں ہو سکتے ۔ بھارت میں مسلمانوں کو ٹارگٹ کرنا غیر منصفانہ و متنازعہ شہریت بل کا نفاز مسلم دشمنی کا منہ بولتا ثبوت اور سکولر اور جمہوریت کے دعوے دار بھارت کے ماتھے پر کلنک کا ٹیکا ہے۔ جب ہم بھارت میں مسلمانوں کی حالت زاردیکھتے ہیں تو دوقومی نظریے کی اہمیت کا احساس ہوتا ہے۔ بے کس و لاچار مسلمانوں کی آہ و بکا سننے والا کوئی نہیں مسلمان عورتوں کی عزت و عفت محفوظ نہیں ۔انتہا پسند ہندوئوں مسلمانوں کی املاک کو نقصان پہنچانے کے ساتھ ساتھ مساجد اور مذہبی درس گاہوں کو پامال و مسمار کر رہے ہیں۔ بھارت نے سکولر کا جو نقاب پہنا ہوا تھا وہ بی جے پی کی حکومت نے اتار دیا ہے۔ بھارت آج ایک ایسی انتہا پسند ہندو ریاست میں تبدیل ہو چکا ہے جس میں غیر ہندوئوں خاص کر مسلمانوں کا جینا محال ہے۔ یہ تو وہ مسلمان جو بھارت کو اپنا مانتے ہیں جب کہ دوسری جانب تہتر سال سے بھارتی ظلم و بربریت کا شکار کشمیری مسلمان بھارتی فوجیوں کی چھاونیوں کے درمیان زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ آزادی کی قیمت مظلوم و نہتے کشمیریوں سے بہتر کون جان سکتا ہے؟ پاکستان اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا انعام ہے اسکی قدر کریں۔ خدا کرے میری ارض پاک پر اترے وہ فصل گل جسے اندیشہ زوال نہ ہو یہاں جو پھول کھلے وہ کھلا رہے برسوں یہاں خزاں کو گزرنے کی بھی مجال نہ ہو یہاں جو سبزہ اگے وہ ہمیشہ رہے سبز اور ایسا سبز کہ جسکی کوئی مثال نہ ہو گھنی گھٹائیں یہاں ایسی بارشیں برسائیں کہ پتھروں کو بھی روئیدگی محال نہ ہو خدا کرے نہ کبھی خم سر وقار وطن اور اسکے حسن کو تشویش ماہ و سال نہ ہو ہر ایک ہو خود تہذیب و فن کا اوج کمال کوئی ملول نہ ہو کوئی خستہ حال نہ ہو خدا کرے کہ میرے اک بھی ہم وطن کے لئے حیات جرم نہ ہو زندگی وبال نہ ہو۔

Avatar

By ajazmir