329 Views

پاکستان پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کے مرکزی نائب صدر صاحبزادہ اشفاق ظفر ایڈوکیٹ نے تھانہ چناری کی جانب سے سینا دامن میں رات کی تاریکی میں چادر اور چار دیواری کے تقدس کو پامال کرنے پر انتظامیہ کو پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی کے لیے دودن کی ڈیڈ لائن دے دی۔



صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اشفاق ظفر نے کہا کہ گذشتہ رات تھانہ چناری کے اہلکاروں نے سینادامن میں ظلم و تشدد کر کے مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے مظالم کی یاد تازہ کر دی ایس پی جہلم ویلی چوبیس گھنٹوں کے اندر اندر سینا دامن میں چھاپہ مار کر غریب شخص کے گھر کے دروازے توڑنے،چار موبائل چرانے اور سوئی ہوئی حاملہ خاتون کی چار پائی کو لاتیں مارنے والے پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی عمل میں لائیں بصورت دیگر میں متاثرہ افراد کے ساتھ وزیراعظم،چیف سیکرٹری،آئی جی اور اعلی عدلیہ کے پاس جانے سے بھی گریز نہیں کروں گا اور ہٹیاں بالا میں اس ظلم کے خلاف احتجاج کروں گاانھوں نے کہا کہ اس سے قبل پولیس نے قاری شفیق الرحمن کے بھائی سے چھ ہزار روپے رشوت بھی لی اور اسے تشدد کا نشانہ بنایا یہ سب لوگ فاروق حیدر کے ووٹر ہیں لیکن میں اپنے علاقہ کے عوام کے ساتھ کسی صورت ظلم برداشت نہیں کر سکتا ہوں وزیراعظم فاروق حیدر کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے ووٹرز کا خیال رکھیں اور ایسے پولیس اہلکاروں کو اپنے حلقہ میں تعینات نہ کریں جو ظلم کے پہاڑ غریبوں پر توڑ رہے ہیں اشفاق ظفر نے کہا کہ تھانہ چناری کی حوالات میں بند غریب حافظ شفیق پر پولیس اہلکار تشدد کر رہے ہیں یہ آزاد کشمیر کا تھانہ ہے سرینگر کا تھانہ نہیں ہے وزیراعظم،چیف سیکرٹری،آئی جی آزاد کشمیر کو فوری طور پر نوٹس لینا چاہیے جن پولیس اہلکاروں نے مظلوم اور حاملہ خاتون کو لاتیں ماری کیا ان کے گھر میں مائیں بہنیں نہیں ہیں اس کا حساب ضرور لیں گے اور مظلوموں کو انصاف کی فراہمی تک چین سے نہیں رہوں گا

Avatar

By ajazmir