997 Views

ہٹیاں بالا(خصوصی رپورٹ۔اعجاز احمد میر)
جعلی نکاح نامہ کیس تھانہ پولیس چناری نے چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کرتے ہوئے،دروازے توڑ کربزرگ عالم دین مولانا محمد الیاس خان مرحوم کے قریبی عزیز کے گھر چھاپہ مار کر انکے بیٹے کو گرفتار کر لیا ضلع جہلم ویلی بھر میں شدید غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی۔



تفصیلات کے مطابق اتوار اور پیر کی درمیانی رات تھانہ چناری کے اے ایس آئی راجہ نصیر نے نصف درجن جوانوں کے ہمراہ سٹی تھانہ ہٹیاں بالا کی حدود میں سینا دامن کے محلہ فیض آباد کھیتاں میں چناری کے رہائشی زعفران شیخ ولد علی اکبر شیخ کے جعلی نکاح کے الزام میں ملوث ہونے پر حافظ شفیق الرحمن ولد حافظ شبیر کو گرفتار کرتے ہوئے خواتین کے ساتھ بدتمیزی اور بد اخلاقی کرنے کے علاوہ گھر کا دروازہ توڑ ڈالا گھر میں سوئی ہوئی خواتین کی چارپائی کو لاتیں مار کر الٹ دیا

قاری صدیق الرحمن کی حاملہ بیوی کو دھکے مارے گئے جس کے باعث وہ بے ہوش ہو گئیں گرفتار ہونے والے حافظ شفیق الرحمن کے والد حافظ شبیر نے چنار کشمیر نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم کے حلقہ انتخاب میں پولیس نے چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کرتے ہوئے میرے بیٹے کو گرفتار کیا میرا بیٹا بے گناہ ہے اور اسے زعفران شیخ نکاح کا کوئی علم نہیں ہے اگر وہ قصور وار بھی ہے تو ہمیں بتایا جائے کہ کسی ملزم کو گرفتار کرنے کے لیے کیا پولیس کے پاس چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کرنے کی کھلی چھٹی ہے قاری صدیق الرحمن کی حاملہ بیوی کو دھکے دئیے گئے اگر اسے کچھ ہو گیا تو سٹی تھانہ ہٹیاں بالا کے بغیر،بدوں وارنٹ ہمارے گھر میں داخل ہونے والے تھانہ چناری کے اے ایس آئی راجہ نصیر اور ساتھ آنے والے پولیس اہلکاران ذمہ دار ہوں گے تھانہ پولیس چناری نے رات گئے گرفتار ہونے والے حافظ شفیق الرحمن کے بھائی صدیق الرحمن کو بھی جمعہ کے روزتھانہ طلب کر کے ان سے تفتیش کی تھی جس دوران انھوں نے موقف اختیار کیا تھا کہ میں نکاح خواں نہیں ہوں اور نہ ہی مجھے اس نکاح کا کوئی علم ہے میرا نام صدیق الرحمن ہے جبکہ زعفران شیخ کے جعلی نکاح نامہ پر حافظ صدیق احمد لکھا گیا ہے 2017ء میں میں اپنے گاؤں سے بھائی شفیق کا نکاح رجسٹر ہٹیاں بالا تحصیل مفتی کے پاس لاتا اور لے جاتا تھا اس دوران تحصیل مفتی جمال تھے وہ صرف منگل کے روز دفتر آتے تھے اور میں نکاح دجسٹر وہی چھوڑ جاتا تھا جب مفتی کے پاس رجسٹر ہو جاتا تب میں رجسٹر وآپس لے جاتا اسی دوران تحصیل مفتی کے دفتر کے عملے نے نکاح رجسٹر کے صفحات بڑی صفائی کے ساتھ غائب کیے جنہیں ہم نے کھبی چیک ہی نہیں کیا جس وجہ سے آج یہ بڑا مسئلہ بن گیا ہے میں حلفا کہتا ہوں نہ نکاح پڑھایا،نہ اس نکاح کا کوئی علم ہے اور نہ ہی کھبی اس نکاح کو رجسٹر کروانے تحصیل مفتی کے پاس رجسٹر لے کر گیا میرا بھائی حافظ شفیق الرحمن بھی بلکل بے قصور ہے حکام کو اس معاملہ کی اعلی سطحی تحقیقات کرتے ہوئے اس جرم میں شامل اصل کرداروں کو قانون کے کہٹرے میں لانا چاہیے تانکہ اس جعلی نکاح نامہ میں بے گناہ شامل افراد پر جعلی نکاح کا دھبہ ختم ہو اور انھیں انصاف فراہم ہو یاد رہے کہ 23جولائی کے روزکھٹائی کے رہائشی محمد بشیر ولد عبدالجبار بٹ نے تھانہ چناری کو درخواست دی کہ چناری کے رہائشی زعفران اکبرشیخ ولد علی اکبر شیخ نے دو سال قبل مقبول کیانی ساکنہ کھٹائی کے زریعے میری بیٹی مسماة(و) کا رشتہ مانگا جس پر ہم انکاری ہو گئے 23جولائی2020ءکے روز زعفران شیخ نے میرے گھر نکاح نامہ کی ایک عکسی بھیجی اور کہا کہ اپنی بیٹی میرے حوالے کرو جب بیٹی سے اس بارہ میں دریافت کیا اس کا کہنا تھا کہ نکاح نامہ پرجعلی دستخط موجود ہیں اس سے ثابت ہوتا ہے کہ زعفران اکبر شیخ نے جعل سازی،دھوکہ دہی اور فراڈ کرتے ہوئے جعلی نکاح نامہ تیار کروایا ہے سائل اور سائل کی بیٹی کی عزت کو محفوظ کیا جائے محمد بشیر کی درخواست پر اس وقت کے ایس ایچ او تھانہ پولیس چناری منظر حسین چغتائی نے زیر دفعات 165,467,468,471,469,470 کے تحت مقدمہ درج کرتے ہوئے جعلی نکاح کے دو گواہوں کو گرفتار کرتے ہوئے حوالات میں بند کر دیا تھا جنہیں دوران تفتیش بے گناہ ہونے کے باعث پولیس نے چھوڑ دیا تھا 23جولائی کے روز ہی مسماة(و)نے بھی چنار کشمیر نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ میں نے زعفران اکبر شیخ سے کوئی نکاح نہیں کیا نکاح جعلی ہے مجھے اور میرے والدین کو بلیک میل کیا جا رہا ہے چنار کشمیر نیوز نے اس وقت گرفتار دو گواہان سے موقف جانا تو ان کا کہنا تھا کہ ہمیں نہ تو نکاح کا کوئی علم ہے اور نہ ہی ہمارے دستخط اصلی ہیں نکاح نامہ پر گرلز کالج ہٹیاں بالاکے ایک کلرک امتیاز علی نقوی کی مہر اور دستخط بھی موجود تھے جب ان سے موقف جانا گیا تو امتیاز نقوی کا کہنا تھا کہ جب میں گرلز ڈگری کالج ہٹیاں میں تعینات تھا تب کی میری مہر نکاح نامہ پر لگائی گئی ہے میری مہر ٹیبل پر ہوتی تھی کھبی اسے لاک میں نہیں رکھا مہر اصلی ہے لیکن دستخط جعلی ہیں میں نے کوئی نکاح نامہ تصدیق نہیں کیا ہے نکاح نامہ پر نکاح خواں کا نام قاری صدیق احمد ظاہر کیا گیا ہے پولیس نے قاری صدیق کے بجائے حافظ شفیق نامی شخص کو گرفتار کیا ہے گرفتار کرنے والی پولیس پارٹی کے انچارج راجہ نصیر سے جب اس حوالہ سے موقف پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ہمیں تحصیل قاضی آفس سے تصدیق ہوئی ہے کہ نکاح رجسٹرمولوی زبیر کو الاٹ ہواہے جنہوں نے قاری شفیق الرحمن کو منتقل کروایا ہے اسی لیے ہم اس کیس میں قاری شفیق کو گرفتار کر رہے ہیں اس سے قبل اس نکاح نامہ میں تین افراد نے تھانہ چناری کو بیان حلفی دے رکھا ہے کہ انھیں اس نکاح کا کوئی علم نہیں ہے یہ نکاح نامہ مکمل طور پر جعلی اور فرضی بنایا گیا ہے جس میں نصف درجن سے زائد بے گناہ افراد کو پولیس ڑگڑادے رہی ہےرات گئے گرفتار ہونے والے حافظ شفیق سے جب انکا تھانہ کی حوالات میں موقف پوچھا گیا تو انھوں نے روتے ہوئے کہا کہ میں بے گناہ ہوں مجھے اس نکاح نامہ کا کوئی علم نہیں ہے
اس سے قبل دو گواہان،ہیڈ کلرک گرلز کالج ہٹیاں بالا کے بیان حلفی کےبعدایک بات بلکل واضع ہو چکی ہے کہ یہ نکاح نامہ مکمل طور پر جعلسازی سے بنایا گیا ہے اس پر موجود تمام لوگوں کے دستخط جعلی اور فرضی ہیں یہ معاملہ تحقیق طلب ہے کہ کس طرح نکاح رجسٹر کے صفحات غائب ہوئے؟کس طرح گورنمنٹ گرلز کالج ہٹیاں بالا کی مہر اس پر لگائی گئی اور کلرک کے جعلی دستخط کیے گئے؟کس طرح گواہان اور دیگر لوگوں کے اصلی شناختی کارڈ نمبر لکھے گئے اور دستخط جعلی کیے گئے؟پولیس اصل نو سر بازوں کو سامنے لانے کے بجائے صرف بے گناہوں کو ہی کیوں ڑگڑا دے رہی ہے ڈپٹی کمشنر،ایس پی جہلم ویلی کو اس معاملہ کی فوری اعلی سطحی تحقیقات کروا کر اصل کرداروں کو سامنے لانا ہو گا بصورت دیگر آئے روز بے گناہ لوگ ہی قربانی لگتے رہے گیں
عوامی،سیاسی و سماجی حلقوں نے مرحوم عالم دین مولانا محمد الیاس کے قریبی عزیز کے گھر چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کرنے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے وزیر اعظم ،چیف سیکرٹری اور آئی جی آزاد کشمیر سے اس معاملہ کی اعلی سطحی تحقیقات کروانے ،ذمہ داروں کے خلاف سخت ترین کارروائی اور بے گناہوں کو انصاف کی فراہمی کا مطالبہ کیا ہے

Avatar

By ajazmir