167 Views

تحریر:صاحبزادی فرخندہ اسحاق ظفر
گزشتہ سات دہائیوں سے بھارتی زیر تسلط کشمیر کونیم خودمختار ریاست کی حیثیت حاصل رہی اس کے باوجود وادی میں ظلم و بر بریت کی عظیم داستانیں رقم ہوئیں۔ گوشہ چنار کشمیریوں کے مقدس خون سے رنگین ہوتا رہا۔مائیں اپنے جگر کے ٹکٹروں کو قربان کرتیں رہیں۔ معصوم اور نہتے کشمیری پاکستانی پرچم میں مدفون ہوتے رہے۔ بہنوں کی عصمتیں لٹتیں رہیں۔ سینکڑوں کشمیری بھارتی فوجیوں کی جانب سے پہنچائی جانے والی اذیتوں سے تنگ آکر وادی سے ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے۔اس دوران بھارت میں کئی جماعتیں برسر اقتدار آئیں مگر سب کی کشمیر کے معاملے میں ایک ہی پالیسی رہی یعنی کشمیریوں کا قتل عام۔ مہاراجہ کشمیر کے الحاق ہندوستان کے معاہدے کے تحت ہندوستان کے مکمل آئین کا اطلاق کشمیر پر نہیں ہو سکتا تھا۔ ہندوستانی آئیںن کی شق 370 میں کشمیر کو ہندوستانی وفاق میں ایک مخصوص حیثیت کو برقرار رکھنے کی اجازت دی گئی تھی ۔اس شق کے تحت باشندہ ریاست کا قانون بھی لاگو تھا جس کے مطابق کوئی غیر کشمیری کشمیر میں ذمین کی ملکیت اور سرکاری ملازمت حاصل نہیں کر سکتا تھا۔ ایک سال قبل مودی سرکار نے 5اگست کو ہر قسم کی داخلی خودمختاری کو ختم کرتے ہوئے ریاست جموں و کشمیر کو بھارت کا حصہ بنا دیا ۔ اس کے بعد غیر کشمیریوں ہندوئوں کو کشمیر میں آباد کرنے کےساتھ ساتھ سرکاری عہدوں پر تعیناتی کا عمل بھی جاری ہے۔ دوسری جانب بھارتی فوجیوں نے متوقع احتجاج کو روکنے کے لئے کشمیریوں کو اپنے ہی گھروں میں مقید کیا ہوا ہے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی قدرت پوری دنیا کو وبائی بیماری کی وجہ سے لاک ڈائون کاسامنا کرنا پڑا پھر بھی دنیا کشمیریوں کے دکھ و درد کو سمجھنے سے عاری ہے۔ مقبوضہ وادی میں جگہ جگہ کرفیونافذ ہے۔ جعلی انکاونٹرزاور سرچ آپریشن سے کشمیریوں کی چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال ہو رہا ہے۔فائرنگ ،پیلٹ گنز کا استعمال، عصمت دری اور گھروں کو نذر آتش کرنا روز کا معمول بن چکا ہے۔ کشمیری کس قسم کی ہیجانی کیفیت سے دوچار ہیں اس کا اندازہ لگانا مشکل ہی نہیں بلکے نا ممکن ہے۔ایک تین سالہ معصوم کشمیری بچےجسکےسامنےاسکے بوڑھےنانا کو بھارتی فوجیوں نے شہید کر دیا تھا نےاپنے نانا کے لاشے پر بیٹھ کر دنیا کے منصفوں اور انسانی حقوق کی نام نہاد چمپیئن تنظیموں کی بے حسی پر خوب ماتم کیا۔ کشمیری گوشت پوست سے بنے ہوئے انسان نہیں،کیاانھیں اپنی مرضی سے جینے کا کوئی حق نہیں۔ بھارت جو عالمی مارکیٹ ہے سے عالمی طاقتیں اود کئی اسلامی ممالک مسئلہ کشمیر پر بات چیت کرتے ہوئے کتراتے ہیں۔بد مست ہاتھی( بھارت) کو لگام لگانے والا کوئی نہیں۔ یہ ہی وجہ ہے بھارت وادی چنار میں ظلم و بربریت کی تمام حدیں پار کر چکا ہے۔
ظلم پھر ظلم ہے، بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے
خون پھر خون ہے، ٹپکے گا تو جم جائے گا
ظلم کی بات ہی کیا، ظلم کی اوقات ہی کیا
ظلم بس ظلم ہے آغاز سے انجام تلک ۔ ریاست جموں کشمیر کی خصو صی حیثیت کو ختم ہوئےایک سال مکمل ہو گیا ہے۔ کشمیری سخت ترین پابندیوں کے باوجود بھارتی تسلط سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لئے اپنی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں۔ سات دہائیوں سے زائد موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر لڑنے والے کشمیری بہن بھائیوں کی جراُت کو سلام۔ بھارتی فوجیوں کے جھرمٹ میں جذبہ آزادی پروان چڑھانے والےآزادی کےمتوالوں کو سلام۔۔ مایوسی میں امید کی شمع جلائے رکھنے والے حریت رہنماؤں کو سلام۔

Avatar

By ajazmir