1,541 Views

تحریر : رفعت وانی

تمام قارئین سے گزارش ہے کہ میری اس تحریر کو کسی شاعر یا فنکار کی تزلیل نہ سمجھا جائے۔ میں ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد کی عزت کرتی ہوں۔ مگر اپنی رائے کا اظہار کر رہی ہوں تو اس میں شائد کچھ لوگوں کی دل آزاری ہو جائے جس کے لیئے معزرت خواہ ہوں۔ مگر میرا مقصد لوگوں کی توجہ اصل مسائل کی طرف لے کے جانا ہے اور لوگوں تک اپنی رائے پہنچانا ہے۔



جس سے لوگ مسلئہ کشمیر کے اصل مسائل سے آگاہ ہوں اور بدلتے وقت کے ساتھ اپنی حکومتوں کو روایتی سیاست سے ہٹ کر عملی اقدامات کرنے اور حکمتِ عملی کی تبدیلی پر زور دیں۔

میں جب سے کرونا وائرس کا شکار بنی تو سوشل میڈیا اور خبروں سے دُور رہی۔ ہسپتال کے کمرے میں حالانکہ بڑا وقت ملا خبریں دیکھنے اور پڑھنے کا مگر صحت نے اجازت نہ دی کہ خبروں پر اس طرح سے نظر رکھ سکوں جیسے مصروفیت کے دنوں میں رکھتی تھی۔ آج تین دن بعد فیس بک کھولا تو دیکھتی ہوں کہ ہمارے لیئے شہراؤں کے نام بدلے گئے ہیں، ہمارے لیئے نئے ملے نغمے گائے گئے ہیں۔ تو سوچا زرا انڈین کی طرف بھی خبروں کا جائزہ لوں کہ شاہراہوں کے نام بدلنے اور ملی نغمے سے انڈیا کتنا بوکھلا گیا ہے۔ سوچا شائد ڈر کے مارے انڈیا نے کشمیر میں آرٹیکل تین سو ستر بحال تو نہیں کر دیا؟
سارا میڈیا رات سے ابھی تک چھان مارا مگر انڈیا کا غرور جوں کا توں تھا۔ اور کشمیریوں کی بے بسی ویسی کی ویسی۔ سوچ رہی ہوں کہ کیا بدلا اس سب سے؟ جس نے گانا گایا اسے تھوڑا بہت لائک شیئر یا تھوڑی سی کمائی۔ کچھ سُننے والوں نے تعریف کی ہو گی اور کچھ نے تنقید۔ مگر آج کے وقت کے مطابق اس سب کا فائدہ کیا ہوا۔

ایک سال سے کشیمری قید و بند کی صعوبتیں جھیل رہے ہیں سگنل ہر کھڑے ہو کر۔ یا اایک منٹ کی خاموشی سے، ترانوں سے، یا شاہراہوں کے نام بدلنے سے کیا بدل گیا؟ یہ تو پُرانے پاکستان میں بھی ہوتا آیا ہے تو اس میں نیا کیا ہے۔ پُرانے پاکستان میں بھی ترانے بنتے تھے اور نئے میں بھی ترانے بن رہے ہیں۔ پُرانے پاکستان میں لفظ مذمت کا بار بار استعمال کیا جاتا تھا نئے پاکستان میں ایک منٹ کی خاموشی ہے۔ مطلب شاہ رگ کٹ رہی ہو تو ایک منٹ کے خاموشی تمام مسائل کا حل ہے۔
میں کبھی کبھی میں سوچتی ہوں کہ تین سو تیرہ مسلمانوں نے ہتھیاروں کی کمی کے باوجود بھی کفار کو کیسے شکست دی ہو گی مگر بات صاف ہے وہ لوگ بھی اگر مذمت کرنے بیٹھ جاتے یا ترانے گانے بیٹھ جاتے تو آج تک اُنکی نسلیں ترانے ہی بنا رہی ہوتیں یا مذمت ہی کر رہی ہوتیں۔ اللہ نے بدر کے واقعے کا زکر قرآن کریم میں یوں کیا ہے۔

وَلَقَدْ نَصَرَكُمُ اللَّهُ بِبَدْرٍ وَأَنْتُمْ أَذِلَّةٌ فَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ ﴿۱۲۳﴾
اور اللہ بدر کی لڑائی میں تمہاری مدد کر چکا ہے حالانکہ تم کمزور تھے، پس اللہ سے ڈرو تاکہ تم شکر کرو۔

ایک مشہور محاورہ ہے کہ جب مومن کی تلوار زنگ آلود ہو جائے تو وہ تلواریں صرف رقص کرنے کے کام آتی ہیں جو کہ آج کے مسلمانوں کا حال ہے۔ اگر کشمیری بھی ستر سال سے گانے اور ترانے بنانے بیٹھ گئے ہوتے تو آج کشمیر میں اپنا بالی وڈ ہوتا اور مسلئہ کشمیر کب کا زمین میں دفن ہو گیا ہوتا۔ نہ شہہ رگ نہ اٹوٹ انگ کا راگ آج زندہ ہوتا۔ کشمیریوں نے اپنا خون ، جان مال عزت دے کے اس مسلے کو زندہ رکھا ہے۔

خان صاحب کی گورنمنٹ کی پالسی گزشتہ دو برس سے میری سمجھ سے باہر ہے۔ ان کے وزراء جب ٹی وی پر آتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم صرف کشمیریوں کی اخلاقی حمایت جاری رکھیں گے۔ شاہ محمود قریشی صاحب کا کہنا ہے کہ اب ہماری نظر کشمیر پر ہے اور ایک منٹ کی خاموشی ایک سال کے لاک ڈاؤن پر ہمارا مشن ہے۔ خود وزیراعظم عمران خان صاحب پچھلے دو سال سے اینٹ کا جواب پتھر سے دینے کے لیئے پتہ نہیں کہاں کہاں سے پتھر جمع کر رہے ہیں جو کہ دو سال کا عرصہ گزرنے کے باوجود جمع ہو نہیں سکے۔ عمران خان صاحب ہم آپکی عزت کرتے ہیں مگر آزادی نہ ترانوں سے ملتی ہے نہ کچھ لمحوں کی خاموشی سے۔ مسلمان ممالک آج اسی لیئے تباہ و برباد ہیں کہ انھیں عیاشی ، سستی، فرقہ واریت، آپسی نفرت، کم عملی، فحاشی، اور انھوں علم و ادب سے دوری اختیار کر لی ہے۔

مجھے اس سب سے ایک مشہور لطیفہ یاد آ رہا ہے۔
”کسی ریاست کا دوسری ریاست سے جھگڑا ہو گیا تو ریاست کے بادشاہ نے ریاست میں جنگ کی تیاری کے لئے قاصد بھیجے۔ ایک قاصد میراثیوں کی بستی میں بھی چلا گیا۔ میراثیوں نے ساری بستی کو اکٹھا کیا اور قاصد نے کہا کہ ہمیں لڑنے کے لیئے آپ سب کی خدمات بھی درکار ہوں گی۔ میراثیوں نے قاصد کی بات کو بڑے دھیان سے سنا۔ جب قاصد نے بادشاہ کا پیغام سنایا تو میراثیوں کے سر پنچ نے ریاستی قاصد سے کہا “جناب اگر بات ہم میراثیوں کی جانوں تک پہنچ گئی ہے تو بادشاہ کو کہیں صلح کر لے”۔
عمران خان صاحب یہ لطیفہ سمجھنا اتنا مشکل کام نہیں بس چھپے ہوئے الفاظ میں ایک مشورہ ہے کہ اگر کچھ نہیں کر سکتے تو صلح کر لیں۔
آپ ایک ملک کے سربراہ ہیں اور آپکا دفاعی ادارہ دفاعی کاموں میں کم اور غیر دفاعی کاموں میں زیادہ سرگرم نظر آ رہا ہے۔ آپ کو اپنے دوست ملک چائینا سے بہت کچھ سیکھنے کی ضرورت ہے۔ بنا گولی چلائے بھی کیسے بہتر حکمت عملی سے اپنا دفاع اور سرحدیں محفوظ کی جا سکتی ہیں۔ پاکستان کوئی کمزور ملک نہیں مگر اگر چھوٹے بڑے دفاعی ادارے اپنا کام صحیح سے نہیں کرتے تو ملک کمزور ہو جاتے ہیں۔ ہم پاکستان کے اندرونی مسائل سے بخوبی واقف ہیں اور ہم بھی نہیں چاہتے کہ ہماری وجہ سے پاکستان کو نقصان اُٹھانا پڑے مگر کم سے کم ہماری مشکلوں اور پریشانیوں کا مذاق تو نہ بنائیں۔

ایک سال سے جن مشکلات میں کشمیری ہیں اس کا انذازہ کوئی نہیں لگا سکتا۔ ان کا حوصلہ، ہمت اور عزم ایک سال کی قید و بند کی صعوبتیں بھی توڑ سکیں نہ توڑ سکتی ہیں۔

میں شاعر تو نہیں مگر پھر بھی شعراء سے معزرت کے ساتھ ایک شعر لکھا ہے جو آخر میں آپ سب سے شیئر کرنا چاہوں گی۔
تیرے نغمے چند ساعتوں کو میرا دل تو بہلا سکتے ہیں
مگر اے ناداں سُر سے سوز ملتا ہے آزادی نہیں ملتی
رفعت وانی

Avatar

By ajazmir