قربانی سنت ابراہیمی

172 Views

تحریر:فرخندہ اسحاق ظفر
حضرت ابراہیم علیہ اسلام وہ برگزیدہ نبی ہیں جن کو تینوں سامی مذاہب (اسلام، یہودیت اور عیسائیت ) میں اعلیٰ و ارفع مقام حاصل ہے۔ مسلمان، یہودی اور عیسائی حضرت ابراہیم علیہ اسلام کو اپنا پیشوا مانتے ہیں۔ حضرت ابراہیم علیہ اسلام کو خلیل اللہ کو خطاب ملا آپ علیہ اسلام نے ہوش سنبھالتے ہی اپنے والد کو بت تراشتے اور انکی پوجا کرتے ہوئے دیکھا لیکن آپؑ کو اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے بچپن سے قلب سلیم عطا کیا ہوا تھا اس لئے آپ بت پرستی کی طرف راغب نہ ہوئے۔ آپ علیہ اسلام کا عقیدہ تھا ساری کائنات کو پیدا کرنے والا ایک معبود حقیقی ہے جسکا کوئی شریک نہیں ۔

حضرت نوح علیہ اسلام کے بعد حضرت ابراہیم علیہ اسلام توحید کے بڑے علمبردار تھے۔ آپ علیہ اسلام کو بت پرستی کی مخالفت کی وجہ سے گھر سے نکالنے اور قتل کرنے کی دھمکی دی گئی ۔پھر بھی آپ علیہ اسلام صراط مسقیم پر ڈٹے رہے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے آتش نمرود میں آپ علیہ اسلام کو محفوظ رکھا اور وہ آگ آپؑ کے لئے گل گلزار بن گئی۔ حضرت ابراہیم علیہ اسلام نے اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کی اپنے بیٹے اور بیوی حضرت ہاجرہ علیہااسلام کو مکہ مکرمہ کے چٹیل اور بے آب وگیاں پہاڑیوں میں چھوڑ آئے ۔پانی کی تلاش میں حضرت ہاجرہ علیہااسلام نے صفا و مروہ کے درمیان سعی کی جبکہ حضرت اسماعیل علیہ اسلام کی ایڑیوں کی رگڑسےآب زمزم جاری ہوگیا۔حضرت ابراہیم علیہ اسلام کو جب اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی طرف سے سب پیاری چیز کی قربانی دینے کا حکم ہواتو آپ علیہ اسلام اپنے بیٹے کو زبح کرنے کے لئے تیار ہو گئے ۔بیٹے کی اس عظیم قربانی پر قدرت خداوندی جوش میں آئی اور اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے حکم سے حضرت جبرائیل علیہ اسلام جنت کے باغات میں سے مینڈھے کو لے کر حاضر ہوئے۔جب حضرت ابراہیم علیہ اسلام نے آنکھوں سے پٹی ہٹائی تو بیٹے کی جگہ مینڈھا ذبح ہوا تھا اسی اثنا میں غیب سے آواز آئی ۔”اے ابراہیم تو نے اپنا خواب سچا کر دکھایا ۔بے شک ہم نیکی کرنے والوں کو ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں۔آج امت محمدی حضرت ابراہیم کی اسی قربانی کی یاد میں جانور قربان کر رہی ہے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ تمام مسلمانوں کی قربانی کو قبول و منظور فرمائے اور اس کے ساتھ ساتھ صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق فرمائے۔ امین حضرت ابراہیم علیہ اسلام کے واقعات سے ہمیں پتا چلتا ہے اللہ سبحانہ و تعالیٰ چاہے تو کسی مشرک کے گھر بھی مسلمان پیدا ہو سکتا ہے۔ صراط مستقیم پر چلنے والے ہر آزمائش و مصیبت میں سر خر و ہوتے ہیں۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ اسی کو نوازتے ہیں جو اس کی راہ میں خرچ کرتے ہیں۔ عمل سے زیادہ نیت اہمیت رکھتی ہے۔