اچھائی اور قلبی سکون

95 Views

اچھائی اور قلبی سکون
تحریر: فرخندہ اسحاق ظفر
دنیا میں مذہب کی تاریخ بھی اتنی پرانی ہے جتنی انسانی ارتقاء کی۔انسان اپنے روحانی تقاضے پورے کرنے کے لئے جو امتناعات ،پابندیاں اصول و ضوابط اپناتا ہے ان کا مجموعہ مذہب کہلاتاہے ۔مذہب چند اعتقادات اور آداب بندگی کا نام ہے جبکہ دین کا مطلب مکمل ضابطہ حیات ہے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے نزدیک دین صرف اسلام ہے اور جس نے اسلام کے سوا کوئی دوسرا دین چاہا تو وہ اس سے ہرگز قبول نہ کیا جائے گا اور آخرت میں وہ نا مرادوں میں سے ہو گا۔اللہ وسبحانہ تعالیٰ نے اپنے ہر رسول کے ذریعے انسانیت کے لئے دین اسلام ہی بھیجا ۔شریعت موسوی اور شریعت عیسوی اسلام پر مشتمل تھی۔ان شریعتوں سے انحراف ہواتو اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے اپنے آخری رسول صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے توسط سے انسانوں کو مکمل طور پر منظم دین دیا ۔دنیا کا کوئی مذہب بے اصول زندگی گزارنے کی تلقین نہیں کرتاجبکہ اسلام مکمل دین ہے جو دنیا و آخرت کی کامیابی کاضامن ہے۔ہر مذہب معاشرے میں نیکی اور بدی کے تصور کو اخلاقیات کی بنیاد بناتا ہے۔ فتہ فساد،قتل و غارت ،چوری ،جھوٹ ،دھوکہ فریب ،ناپ تول میں کمی وغیرہ ایسی بیماریاں ہیں جو کسی بھی معاشرے میں پسند نہیں کی جاتی ۔یہ ایسی برائیاں ہیں جو پورے معاشرے کے لئے نقضان دہ ہوتیں ہیں۔جبکہ ہوس ،لالچ تنگ نظری اور علیحدیت جیسی برائیوں سے انسان اپنی زات کو نقصان پہنچاتا ہے۔ہر انسان میں برائی اور اچھائی موجود ہوتی ہے یہ انسان پر منحصر ہے کہ وہ کس چیز کو خود پر غالب کرتا ہے۔اچھے اور نیک انسان سے معاشرے میں موجود افراد کو فیض ملتاہے جبکہ برا انسان اپنے رویے سے لوگوں کو خار کی طرح زخمی کرتارہتا ہے۔انسان ایک طرف اپنے نفس کی پرستش میں درندہ صفت بن جاتا ہے دوسری جانب وہی انسان اپنی خوبیوں کو بروئے کار لا کر معاشرے کا بہترین شہری ثابت ہو سکتا ہے۔ موجودہ دور کی تمام تر ترقی وعروج اور سہولیات کے باوجود انسان کو قلبی سکون حاصل نہیں اس کی وجہ چند برائیاں ہیں جو معاشرے میں بری طرح سرائیت کر چکی ہیں۔ امیر غرور و تکبر میں مبتلاہیں اس کے علاوہ اپنی حیثیت کو بر قرار رکھنے کے لئے فکر مند بھی۔ غریب غربت و زلت پر شکوہ کناں ہونے کے ساتھ ساتھ حسد جیسی بیماری کا شکار۔ کوئی پوری دنیا کی سیر کر کے بھی پریشان ہےتو کسی کو دنیا کی سیر کرنے کی چاہت خوش نہیں ہونے دیتی۔ کسی پر پیسہ کمانے کی دھن سوار ہے تو کوئی بے شمار دولت کے باوجود سکون کا متلاشی ہے۔اگر انسان کو قلبی سکون چاہیئے تو اسکو شک سے یقین ،جہالت سے نور غفلت سے زکر گناہ سے توبہ ,جھوٹ سے سچ،سستی سے چستی ،غرور سے عاجزی ،بے عملی سے عمل ،ناشکری سے قناعت کی جانب گامزن ہونا پڑے گا۔