سانحہ تلی کوٹ اور صحافتی ذمہ داریاں

265 Views

تحریر۔محمد زاہد اعوان
صحافی کسی بھی ملک اور معاشرے میں آنکھ اور کان کی مثال ہوتے ہیں جس طرح آنکھ کا کام دیکھنا اور کان کا کام کسی کی آواز کو سننا ہوتا ہے اسی طرح صحافی بھی دیکھ اور سن کر معاشرے میں رونما ہونے والے واقعات کو ان لوگوں تک پہنچاتا ہے جو رونماہونے والے حالات و واقعات سے بے خبر ہوتے ہیں مگربدقسمتی سے اس موجودہ معاشرے میں جو افراد اس معزز پیشے سے وابستہ ہیں ان کو حقائق سامنے لانے میں جو مشکلات درپیش ہیں یا جن نامساعد حالات میں صحافی حضرات اپنے فرائض سر انجام دے رہے ہیں بجائے ان کو خراج تحسین پیش کرنے کے ان کے راستے میں روڑے اٹکائے جاتے ہیں۔



لوگ اس بات سے بے خبر ہیں کہ صحافی کا کام آنکھوں سے دیکھ کر اور ان حالات و واقعات کا نچوڑ نکال کر عوام کے سامنے پیش کرنا ہوتا ہے۔ان حالات کو بھی صحافی حقائق پر مبنی پیش کرنے کا پابند ہوتا ہے حالیہ تقریبا دو ماہ قبل چناری کے نواحی گاوں تلی کوٹ میں ایک ناخوشگوار واقعہ اچانک پیش آیا جس میں شاہنواز بھٹو کیانی اچانک تصادم کے نتیجے میں شدید زخمی ہوئے تا ہم چھریوں کے شدیدوار کے باعث شاہنواز بھٹو کیانی کو فوری طور ہسپتال منتقل کیا گیا وہ ان زخموں کی تاب نہ لاسکنے کے باعث اس دنیا فانی سے چل بسے۔ان کی موت کی خبر نے ہر درد دل رکھنے والے انسان نے خواہ وہ کسی بھی برادری و قوم سے تعلق رکھنے والا تھا اس دلخراش واقع سے دکھی ہوا اور ہونا بھی چاہیے تھا کیونکہ شاہنواز کیانی بھٹو ہر شخص اور ہر قوم و قبیلے کا غمخوار شخص تھا۔اس کی موت پر تلی کوٹ گاوں میں حالات اس قدر کشیدہ ہوگئے کہ لگتا یوں تھا کہ ابھی تلی کوٹ کی سرزمین خون سے رنگین ہو گی۔جس خطرے کے باعث ڈپٹی کمشنر جہلم ویلی ،اسسٹنٹ کمشنر جہلم ویلی، ایس پی پولیس جہلم ویلی اور مقامی تھانہ چناری کے ایس ایچ او نے حالات کو دیکھتے ہوئے مظفر آباد سے پولیس کی بھاری نفری راتوں رات تلی کوٹ گاوں میں تعینات کر دی مذید تصادم کے خدشات کے پیش نظر تلی کوٹ میں مغل برادری کے رہائش پذیر مردوں۔خواتین اور بچوں کو گھروں سے نکال کردوسرے مقام پر پولیس اور ضلعی انتظامیہ نے منتقل کر دیا۔ تاکہ تصادم ہونے کی صورت میں مذید انسانی جانوں کو بچایا جا سکے۔اس موقع پر ضلعی انتظامیہ اور پولیس آفیسران اور چناری تھانہ کے ایس ایچ او کے منصفانہ اور عدلانہ کردار کے باعث مذید تصادم اور خون ریزی ہونے سے روک دیا۔اس موقع پر کیانی برادری سے بالخصوص شاہنواز کیانی بھٹو کے بھائیوں کی جانب سے امن کو بحال رکھنے اور انتظامیہ اور پولیس کے ساتھ تعاون کے مثبت اقدام کے باعث بھی امن و امان کو تقویت ملی جس پر وہ کیانی برادران مبارک باد کے مستحق ہیں۔اس عرصہ میں مغل فیملی سے تعلق رکھنے والے وہ تمام ملزمان جن کے نام ایف آئی آر میں درج تھے مقامی تھانہ چناری کے ایس ایچ او نے قوم اور ملک عوام کی جان و مال کے تحفظ کی خاطر پہنی ہوئی وردی پر عصبیت کا داغ لگنے سے قبل ہی شاہنواز کیانی بھٹو قتل کیس میں ملوث ملزمان کو نہ صرف گرفتار کر کے سلاخوں کے پیچھے بند کر دیا بلکہ چند دنوں اور چند ہفتوں کے اندر ہی اندر آلہ قتل بھی برآمد کر لیا ۔پولیس کے اس اقدام اور منصفانہ رویے کے باعث بھی امن بحال رکھنے میں مدد ملی۔دریں اثناءشاہنواز کیانی بھٹو کیانی کے قتل کے دو ماہ بعد مغل فیملی سے تعلق رکھنے والے سعید مغل کی اچانک طبی موت کے باعث ایک بار پھر دونوں برادری کے افراد سعید مغل کی تدفین کے معاملے کو لے کر ایک بار پھر ایک دوسرے کے سامنے مورچہ زن نظر آئے اور خطرات تصادم اس طرح منڈلانے لگے کہ دونوں برادریوں کے فریقین میں سے کسی ایک فریق یا دونوں برادری فریقین کی جانب سے انسانی جانوں کے ضائع ہو نے کا قوی امکانات اور شدید اندیشہ تھا ۔کیوں کہ اس دوران دونوں برادریوں کے اطراف سے خبر یں یہ موصول ہو رہی تھیں اور کیانی برادری کی جانب سے یہ کہا جارہا تھا کہ ہم کسی بھی صورت میں سعید مغل کی میت کو تلی کوٹ کے قبرستان میں تدفین نہیں ہونے دیں گے ۔جب کہ مرحوم سعید مغل کے ورثاءکی جانب سے زور دیا جارہا تھا کہ ہم تدفین آبائی قبرستان تلی کوٹ میں ہی کریں گے ۔اس صورتحال کو جاننے کے لیے چناری کے مقامی صحافیوں کی ایک ٹیم تلی کوٹ گاوں رات تقریبا گیارہ بجے روانہ ہوئی جس میں صحافی اعجاز احمد میر اور راقم از خود بھی ہمراہ میڈیا ٹیم موجود تھا ۔جب ہم موقع پر پہنچے اور کیانی برادری سے تعلق رکھنے والے مختلف جگہوں سے آئے افراد ا ور ہمراہ خواتین بوڑھے اور بچے اور نوجوان جمع تھے سڑک پر ٹائر جلا رکھے تھے جن کا مطالبہ تھا کہ ہم کسی صورت میں میت کو تلی کوٹ نہیں آنے دیں گے میڈیا ٹیم کو دیکھ کر انہوں نے نعرے بازی شروع کر دی ۔میڈیا نے اپنی کوریج کر کے واپسی کر دی جب کہ اس دوران ضلع جہلم ویلی کے تقریبا تمام تھانوں سے پولیس موقع پر پہنچ چکی تھی ۔اور ضلعی انتظامیہ کے آفیسران اور پولیس کے اعلیٰ آفیسران گوجربانڈی کے مقام پرمذاکرات جاری تھے ۔ ان تمام حالات و واقعات کی بروقت اور دیانتداری اور خلوص کے ساتھ رپورٹنگ کا فریضہ سر انجام دینے میں چناری کے مقامی صحافیوں میں سب سے اہم کردار سینئر صحافی اعجاز احمد میر نے دن رات ایک کر کے عوام کو مثبت اور بروقت اگاہی دیتے رہے اور مجھے کہیں بھی ایسا نہیں لگا کہ صحافی صحافی اعجاز احمد میر نے غفلت کا مظاہرہ کیا ہو۔اور کہیں بھی ایسا نہیں لگا کہ حقیقت سے ہٹ کر انھوں نے خبر لگائی ہو۔اب ان حالات میں صحافی اعجاز احمد میر پر کیانی برادری کی جانب سے یہ الزام لگانا کہ اعجاز احمد میر دو برادریوں کے حوالے سے خبریں لگا کر برادریوں کو لڑانا چاہتا ہے۔اور کیانی برادری کی جانب سے چناری کے سینئر صحافی اعجاز احمد میر کو ماں بہن کی گالیاں دی گیئں ۔اور ایسے نازیبا الفاظ ادا کیے گئے جن کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے ۔بعض سرکاری ملازمین کی جانب سے صحافی اعجاز احمد میر کو سوشل میڈیا پر یہ بھی کہا گیا کہ ان کا ڈی این اے کرایا جائے ۔ میرا ایک زندہ ضمیر لوگوں سے سوال ہے کیا ایسے الفاظ کسی کے بارے میں کہنا مناسب ہیں ۔اگر نہیں تو پھر جو لوگ بلا تنخواہ عوام کی خدمت کی خاطر اپنے عزیز رشتوں اور دوستوں کی دوستی کی پرواہ کیے بغیر کام کر رہے ہیں اور جو صحافی ہر وقت بے سہارا اور کمزور لوگوں کی آواز بنے رہتے ہیں آج ان لوگوں کے حق میں آواز کون بلند کرے گا ۔میں کہتا ہوں کہ اگر دو گاوں کی لڑائی تھی تو باقی علاقوں کے میرے بھائی کیا کرنے گئے تھے۔میرا خیال تو یہ کہتا ہے کہ اگر صحافی حضرات بروقت ان حالات کی خبریں نہ لگاتے تو انتظامیہ حرکت میں کیسے آتی ۔اور تدفین کے معاملے کو معمولی سمجھا جاتا تو اچانک تصادم ہو جاتا تو پھر ضرور انسانی جانوں کا ضیاع کا اندیشہ تھا اور اگر اللہ نہ کرے کسی بھی جانب سے مذید انسانی جان چلی جاتی تو پھر ذمہ دار کون ہوتا ۔میں تو چاہتا ہوں کہ اللہ کرئے دو گھروں کا تنازعہ بھی نہ رہے سب آپس میں بھائی بھائی بن جائیں۔یہ صحافتی ذمہ داری میں شامل ہے اصل واقعات لوگوں کے سامنے لانا۔ہم صحافی بعد میں ہیں پہلے مسلمان ہیں اور مسلمان ہونے کے ناطے ہمارا بھی حق بنتا ہے کہ بحثیت مسلمان امن کی دعا کریں۔ اور دو لڑنے والوں میں صلح کا کردار ادا کریں ۔اور اللہ جانتا ہے کہ ہم نے اپنی طرف سے کوشش کی کہ آپس لڑیں نہیں ۔اگر ہم بعض لوگوں کی ذاتی خواہشات کے مطابق رپورٹ کرنا شروع کردیں یہ قرین انصاف نہ ہے۔ہم اب بھی دعاگو ہیں کہ شاہنواز کیانی بھٹو کے قتل سے پیدا ہونے والا بھائی چارے کا خلا پر ہو ہوجائے۔اور تمام لوگ اپنے اپنے اپنے گھروں میں خوش و خرم پہلے کی طرح ہنسیں اور بسیں اس میں کسی کو کیا تکلیف ہے۔لیکن گزارش ہے کہ صحافیوں پر بلاوجہ الزمات نہ لگائے جائیں ہر شخص اپنی اصلاح کرے یہی بہتر ہوگا۔