اسامہ فیروز کیانی امیدوں کا چراغ گل ھو گیا

386 Views

اسامہ فیروز کیانی امیدوں کا چراغ گل ھو گیا
تحریر عبدالوحید کیانی
پیارا نوجوان بھتیجا اسامہ فیروز کیانی موٹر سائیکل حادثہ میں شہادت کے مرتبے پر فائز ھوگیا نوجوانی کی دہلیز اور تین معذور بہن بھائیوں کا صحت مند بھائی ماں بہنوں سمیت خاندان کی امیدوں کا مرکز تھا اس کی حادثاتی موت نے سارے خاندان کو سمیت ھر درد دل رکھنے والے کو دکھی کر دیا جہاد افغانستان میں سعودی عرب سے تعلق رکھے والے امیر المجاہدین اسامہ بن لادن کی کرشماتی قیادت نے انہیں دنیا بھر کے مسلمانوں میں ایسی عزت دی کہ مسلم گھرانوں میں پیدا ھونے والے بچوں کے نام اسامہ رکھنے کا رجحان ایسا بڑھا کہ اسامہ بن لادن کی ایبٹ آباد شہادت کے بعد ایسے نعرے بلند ھوئے کہ ھر گھر سے اسامہ نکلے گا تم کتنے اسامے مارو گے برادر اکبر الحاج فیروز الدین مرحوم سعودی عرب میں بسلسلہ روزگار عرصہ دراز سے مقیم تھے 1985 میں وطن واپس آئے تو جنرل ضیاءالحق کے مارشل لاءذولفقار علی بھٹو کو تختہ دار تک لے جانے کے سبب ھمارے خاندان کے پیپلزپارٹی کے ساتھ سیاسی تعلق صاحبزادہ محمداسحاق ظفر کی قربت سے غازی ملت جناب سردار محمد ابراھیم خان صدر پاکستان پیپلز پارٹی تک رسائی راقم کی پی ایس ایف کے پلیٹ فارم سے بحالی جمہور یت تحریک میں فعال کردار کے باعث جماعتی بنیادوں پر بلدیاتی انتخابات کے انعقاد پر چناری سے ضلع کونسل کے انتخاب کے لیئے الحاج فیروز الدین کیانی پیپلز پارٹی کے انتخابی نشان تلوار کے ساتھ ایسے وقت میدان میں اترے جب بھٹو کا نام لینا بھی جرم تھا ان کے مد مقابل محترم راجہ فرید خان صاحب مسلم کانفرنس کے انتخابی نشان گھوڑے کے ساتھ تھے انتخابی نتائج میں سارے آزاد کشمیر میں پیپلز پارٹی کا کوئی امیدوارکامیاب نہ ھوا انتخابی دھاندلی کے نعرے کے ساتھ حکومت کے خلاف تحریک شروع ھوگئی جس کے نتیجے میں برادر محترم الحاج فیروز الدین کیانی اس وقت کی اعلی سیاسی قیادت جناب ممتاز حسین راٹھور جناب صاحبزادہ محمد اسحاق ظفر جناب چوھدری لطیف اکبر ایڈووکیٹ میاں غلام رسول جناب محمد حنیف لالہ جناب خواجہ فاروق احمد جناب سید منظور شاہ جناب مقصود حسین کیانی جناب ذاہد آمین کاشف جناب خواجہ عبدالحمید جناب بشیر احمد میر جناب سید آذاد کاظمی سمیت گرفتار ھو کر سینٹرل جیل مظفرآباد پابند سلاسل رہے سیاسی جہدوجہد کے نتیجے میں جمع پونجی سیاست کی نذرھونے کے بعد ایک مرتبہ پھر سعودی عرب منتقل ھوئے سعودی عرب میں حرمین شریفین کے ساتھ مسلم امہ ایمانی رشتہ کی وجہ سے عقیدت ومحبت رکھتا ھے اسامہ بن لادن کے مجاھدانہ کردار نے اسے شہرت کی بلندیوں تک پنچایا اسی بنیاد پر ھمارے گھرانے میں نئے مہمان کی آمد پر اس کا نام اسامہ فیروز رکھا گیا اسامہ کی ولادت دو معذور بھائیوں اور بہن کے بعد صحت مند بچے کے طور پر پورے گھرانے عزیز واقارب کے لیے خوشی کا سبب تھی اور اسامہ فیروز گھر میں ناز ونعم کے ساتھ عمر کی منازل طےکرتے میٹرک میں پہنچ گیا برادر محترم پیرانہ سالی کے باعث وطن پاکستان لوٹے دوسالوں میں زندگی کی شبانہ روز محنت سے سستا بھی نہ پائے تھے کہ2 اپریل2018 کی شام دل کے جان لیوا دورے کے باعث خالق حقیقی کے پاس جا پہنچے تو اسامہ فیروز اس گھرانے کا واحد صحت مند بچہ ھونے کے باعث مذید اھمیت اختیار کر گیا اور تعلیم کا سلسلہ ترک کرکے روزگار کی راہ پر 17 سال کی عمر میں چل نکلا شومئی قسمت کہ موٹر سائیکل سواری کے شوق نے ایسا گھیرا کہ دوستوں کے ساتھ ماحول میں رنگ گیا جمعہ 10جولائی 2020 کی شام چناری میں واقع گھر کے دروازے پر بائیک کی مخالف سمت سے آنے والی تیز رفتار کار کی ٹکرنے امیدوں کے اس چراغ کو ھمیشہ کے لیے گل کردیا اور دوسال کے بعد اپنے والد محترم کے پہلو میں ابدی نیند سو گیا موٹر سائیکل حادثات میں آئے روز قیمتی جانیں کئی گھرانوں کو دکھی کر کے جارہی ھیں جس کے لیے والدین کو کم سن بچوں کو اس سے دور رکھنے کے علاوہ پولیس کو بھی قانون کے مظابق سختی سے حوصلہ شکنی کی ضرورت ھے تاکہ جہاں والدین بے بس ھوں تو قانون حرکت میں آئے دعا ھے کہ اللہ پاک اسامہ کی والدہ سمیت تمام اھل خانہ کو صبروجمیل اجر عظیم عطا فرمائے آمین