سانحہ تلی کوٹ اور ہمارے رویے؟

346 Views

تحریر:سید افضال ہمدانی
معاشرے، روادری، میانہ روی، باہمی افہام و تفہیم، پیار، محبت، صبر، برداشت، عدل و انصاف اور امن و آشتی جیسی صفات کے بل بوتے پر پنپتے ہیں صحافت، ریاست کا چوتھا ستون ہے اور حق و صداقت کے ساتھ اپنے فرائض کی ادائیگی اور اظہار آزادی کے لئے جانی و مالی قربانی دینے والے صحافی لائق صد احترام و تحسین ہوا کرتے ہیں۔



سینئر صحافی اور یونین آف جرنلسٹ ضلع ہٹیاں بالا کے صدر اعجاز احمد میر کا شمار بھی ایسے ہی گنے چُنے لوگوں میں ہوتا ہے جو ہر قسم کے تعصب اور مفاد سے بالا تر رہ کر ظلم کو ظلم کہنے کا نہ صرف حوصلہ رکھتے ہیں بلکہ عملاً صحافتی تقدس کی جنگ لڑتے دکھائی دیتے ہیں۔یونین کونسل گوجربانڈی کے ایک گاؤں میں دو متحارب گروپوں کے مابین قبرستان کا تنازعہ جہاں ایک انسانی جان نگل گیا وہیں علاقہ کا امن و امان چند ناعاقبت اندیشوں کی سوشل میڈیا پر سلگائی ہوئی آگ نے داو پر لگا دیا ہے۔ چونکہ معاملہ عدلات مجاز میں ٹرائل ہو رہا ہے جملہ نامزد ملزمان بعد از گرفتاری تحت قانون تفتیش کے عمل سے گذر رہے ہیں تو بہتر ہوتا کہ ہر دو متحارب گروپ اس معاملہ کو حدود قیود کے اندر رکھتے ہوئے اپنے اپنے نوجوانوں کی اصلاح کرتے لیکن دیکھنے کو مل رہا ہے کہ ایک گاوں میں دو خاندانوں کے بیچ کا معاملہ قتل پر منتج ہو کر اب دو برادریوں کی جنگ کی طرف بڑھ رہا ہے اور موقع پرست اپنے مقاصد کے حصول کے لیے سوشل میڈیا میں مسلسل جلتی پر تیل ڈال رہے ہیں۔بین السطور تمہید کی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ محترم اعجاز میر جو اس حوالہ سے اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں پوری ذمہ داری سے سرانجام دیتے چلے آئے ہیں کو ہر دو فریقین کے موقف اور واقعات کی نسبت حقیقت پر مبنی رپورٹنگ کرنے “قتل” کرنے کی دھمکیاں موصول ہونا شروع ہوئی ہیں اور راقم کی دانست /عملیت میں ضلع جہلم ویلی میں یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے جس سے صرف نظر کرنا کسی طور درست عمل نہ ہو گا۔
ضلعی انتظامیہ و امن و امان کے ذمہ دار اداروں کو اس نوع کے طرز عمل کے کا سختی سے نوٹس لینا ہو گا اور اس قبیح حرکت میں ملوث افراد کے خلاف نیشنل ایکشن پلان کے کارروائی عمل میں لاتے ہوئے اعجاز میر کی زندگی کی حفاظت کو ممکن بنانا ہوگا تاکہ آئندہ کوئی فرد/افراد اس قسم کی بیہودہ حرکت کرنے سے پہلے ہزار بار سوچنے پر مجبور ہوں۔ اللہ رب العزت اعجاز میر اور ان سے جڑے جملہ حق پرستوں کی حفاظت فرمائے (آمین)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ افضالیات ۔۔۔۔۔۔۔۔