ہٹیاں بالا کے مسائل

170 Views

تحریر۔محمد اسلم مرزا
ضلع جہلم ویلی کے مسائل پر جب بھی تحریر کا موقع ملتا ہے عوام کی دلچسبی اور حوصلہ افزائی پر دل کو تسکین بھی ملتی ہے ہمشیہ سے کوشش رہی ہے ان مسائل کو اجاگر کروں جن کا عام آدمی کو فائدہ ہو کیوں کہ متوسط طبقہ موجودہ حالات میں بری طرح پس رہاہے ایسے مسائل بھی ہمارے معاشرے میں جنم لے رہے ہیں جو وقت کی تبدیلی کی وجہ سے پیدا ہورہے ہیں جن میں موبائل سروس۔موبائل انٹرنیٹ۔سوشل میڈیا ۔فیک آڈیز وغیرہ ان مسائل کو زیر بحث لانا بھی اب ضروری ہوگا کیوں کہ ایسے ہی مسائل کی وجہ سے انسانی جانیں ضائع ہورہی ہیں اور کئی گھر اجڑ رہے ہیں سب سے پہلے زکر کرتے ہیں موبائل سروس کا۔آزادکشمیر میں زلزلہ 2005 کے بعد موبائل کمپنیوں کو جنرل پرویز مشرف کے دور اجازت ملی اس کے بعد موبائل کمپنیوں کی لاٹری نکل آئی کیوں کہ شہروں میں عوام کو شعور ہوتا ہے کہ موبائل کو صرف ضرورت کے وقت استعمال میں لانا ہے لیکن پسماندہ پہاڑی علاقوں میں موبائل میٹھا زہر ہے جس کے استمعال کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے ہر گھر میں چار پاچ موبائل ہیں اور اوسطآ دو سو سے تین سو کا موبائل لوڈ ڈیلی استمعال کیا جارہا ہے اس مد میں کمپنیاں اربوں روپے سادہ لوح عوام سے بٹور رہی ہیں اس کے لیے جو سروس فراہم کی جارہی ہے وہ انتہائی تھرڈکلاس ہے ضلعی ہیڈ کوارٹر بازار ہٹیاں بالا میں فور جی کے نام پر عوام کو لوٹا جارہا ہے سروس ٹو جی کے برابر نہیں ہے ٹیلی ناراو زونگ کی سروس 9،10 kbsسے زائد نہیں ہوتی ہفتے اور مہینے کا انٹر پیکیج لگوانے والوں کو خون کے آنسو رلایا جاتا ہے پی ٹی سی ایل کی EVO پر بھی سروس نہ ہونے کے برابر ہے مہینے کا پیکیج پندرہ دنوں میں ختم کردیا جاتا ہے کمپنیوں کی اس لوٹ مار کی شکایت راقم نے ازخود درجنوں بار کی ہے اور انتظامیہ بلخصوص ڈپٹی کمشنر سردار وحید خان نے بھی پاکستان ٹیلی کیمنکیشن اتھارٹی کے ڈپٹی ڈائریکٹر کو اپنے آفس طلب کر کے عوام کے تحفظات سے آگاہ کیا انہوں نے ایک ماہ کی مہلت لی لیکن اس کے بعد سروس پہلے سے زیادہ خراب کردی گئی ہے ان کمپنیوں کو لگام دینے کے لیے مجبورآ عوام کو سڑکوں پر نکلنا ہوگا ٹیکنالوجی کے دور میں بھی عوام سنگلز کی تلاش میں اونچے ٹیلے پر یا کوریج ایریا میں جانے پر مجبور ہیں پاکستان سمیت دیگر دنیا میں فائیو جی لانج ہوچکی ہے لیکن جہلم ویلی میں عوام آج بھی صرف جی جی جی پر ہی گزارا کر رہے ہیں۔موبائل کے منفی استعمال کی وجہ سے نوجوان نسل اخلاقی بے راہ روی کا شکار ہورہی ہے جب سے موبائل کا دور شروع ہوا کئی باعزت گھرانے اپنی عزتوں کو پامال کر بیٹھے جس کی زندہ مثال ہٹیاں بالا کا جنسی اسکینڈل جس کی وجہ سے انسانی جان گئی۔سوشل میڈیا پر فیک آئی ڈیز کا استعمال بھی ابھی تک نہیں رک سکا سیاسی قائدین کی تصویریں لگا کر اور آپس کے اختلافات کو سوشل میڈیا پر لاکر گھر گھر لڑائیاں جھگڑے معمول بن گئے ہیں۔ ہٹیاں بالا کے مسائل میں ہسپتال کے مسائل بجائے کم ہونے کے دن بدن بڑھ رہے ہیں وزیراعظم کے آبائی ضلع کی تین لاکھ کی آبادی کے ہسپتال میں ایک بھی گائناکالوجسٹ نہیں ہٹیاں ہسپتال کی آسامی پرتعینات گائناکالوجسٹ مظفرآباد میں تنخواہ وصول کر رہی ہے Anaesthesia کے ڈاکٹر صاحب چار ماہ سے لاپتہ ہیں ہاں البتہ تںخواہ ہر ماہ باقاعدگی سے وصول کر رہے ہیں ۔ہٹیاں بالا ہسپتال میں نہ سٹی سکین مشین نہ نومولد بچوں کی نرسری۔نہ ہارٹ کے مریضوں کا وارڈ۔نہ ایم آر آئی کی سہولت۔حتی کے چھوٹے بڑے ٹیسٹ کے لیے مریضوں کو مظفرآباد کے پرائیوٹ ہسپتالوں کا رخ کرنا پڑتا ہے۔جناب وزیراعظم ایک مہربانی کریں اپنے ضلع پر۔آزادکمشیر کے باقی ماندہ سات اضلاع میں آئی سی یو وارڈز کی منظوری دی گئی ہے اگر آٹھواں ضلع ہٹیاں بالا یا دس کے دس اضلاع میں آئی سی یو وارڈز تمام سہولیات کے ساتھ بنا دیے جائیں تو عوام آپ کو دعائیں دیں گئے ریاست کی وفاداری کا لیکچر دینے والوں کو غریب کا اکلوتا بچہ ایڑیاں رگڑ رگڑ مرتا نظر کیوں نہیں آتا جب کہ منشیاتیوں اور سماج دشمن عناصر کے بچے مہنگے ترین ہسپتالوں میں علاج اور مہنگے ترین سکولوں میں پڑھتے ہیں جناب وزیراعظم چار سال کے عرصہ اقتدار میں آپ کسی ایک میگا پراجیکٹ کا بتا دیں جس کا زکر ہم فخر سے کرسکیں آپ عرصہ 2008 تا 2016 کا تقابلی جائزہ لینے کے لیے ایک دن اپنی مصروفیات میں سے وقت نکال کر علی سوجل اور چکسواری کے حلقوں کی تعمیر وترقی دیکھ لیں سابق وزراءاعظم چوہدری عبدالمجید اور سردار یعقوب خان نے اپنی دھرتی کے ساتھ کتنی وفاداری کی آپ کو علم ہوجائے گا جہلم ویلی کی عوام آپ سے کوئی انوکھا مطالبہ نہیں کر رہی صرف اتنی درخواست ہے کہ کسی بھی ریاست کی عوام کو بنیادی سہولیات میں صحت۔تعلیم اور صاف پانی کی فراہمی شامل ہوتی ہے عوام علاقہ جہلم ویلی تمام بنیادی سہولیات فراہمی کا تقاضا کر رہے ہیں آمدہ الیکشن کا بگل بج چکا ہے نئے حلقہ جات کی منظوری کے بعد تمام سیاسی جماعتوں کے امیداروں سمیت ایک سو ستر خودساختہ امیدوار میدان میں کود پڑے ہیں لیکن انہوں نے جہلم ویلی کی عوام کے حقوق کے لیے کس قدر کردار ادا کیا ان کو اس کا جواب دیناہوگا عوام اب باشعور ہوگئی ہے اب جھرلو ٹھپے کا نظام ختم ہوگیا اب کارکردگی کی بناء پر کامیابی ملے گئی اب بھی الیکشن کو تقریبآ ایک سال باقی ہے وزیراعظم صاحب آپ محمد بن قاسم بنیں یا صلاح الدین ایوبی لیکن خدارا اب جہلم ویلی پرتوجہ دیں۔اللہ پاک نے آپ کو موقع دیا ہے اور موقعے باربار نہیں ملا کرتے اس لیے ہٹیاں بالا میں یونیورسٹی کی عمارت۔پوسٹ گریجویٹ کالج۔سٹیڈیم کی تعمیر۔دیہی علاقوں کے ہسپتالوں کو strenghten کریں بلخصوص ضلعی ہیڈ کوارٹر ہسپتال کی ناگفتہ بہہ حالت پر توجہ دیں آپ اپنے ضلع میں ایک سٹی سکین مشینکی تنصیب۔ڈائیلاسز سنٹر۔اپریشن تھیٹر کو فعال بنائیں ڈاکٹرز کی آسامیوں میں اضافہ کریں۔