175 Views

مظفرآباد( )پاکستان پیپلزپارٹی آزادکشمیر کے صدر چوہدری لطیف اکبر نے کوہالہ ڈیم ٹنل اور ینگ ڈاکٹرز کے ہسپتالوں میں داخلے پر پابندی کے حوالے سے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ڈاکٹروں کے ساتھ بامقصد مزاکرات کیے جائیں اور ان پر طاقت کے استعمال کی بجائے ان کے مطالبات پر غور کیا جائے جبکہ دریا ئے جہلم کا رخ تبدیل کرنے کی بجائے دریا کے بہاؤ پر چکوٹھی سے کوہالہ تک چھوٹے ڈیم بنائے جائیں جس کے لیے ہم چندہ دینے کیلئے تیار ہیں،جمعہ کے روز سنٹرلپریس کلب میں ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر وں پر تشدد باعث افسوس ہے اور اسکی ذمہ دارحکومت ہے پریس کلب،سنٹرل باراور بچوں پر تشدد کیا گیا ریاست کو پولیس سٹیٹ نہ بنایا جائے لائن آف کنٹرول کی موجودہ صورتحال اور کورونا میں ڈاکٹروں کی خدمات کا اعتراف یہ نہیں کہ ان پر ڈنڈے برسائے جائیں،کوہالہ پراجیکٹ کے حوالہ سے ان کا کہنا تھا کہ نیلم کے بعد جہلم منتقل ہونے سے ماحول پر بہت برے اثرات مرتب ہوں گے دو دریاؤں کو ٹنل کے ذریعہ منتقل کرنا مظفرآباد کے ساتھ انتقام سے کم نہیں ہے۔آزادپتن،کیروٹ اور دیگر منصوبے دریائے کے بہاؤ پر بن رہے ہیں،منگلا،تربیلا،کالا باغ،گل پور سمیت بجلی کے بڑے منصوبے دریا کے بہاؤ پر ہیں ہم منصوبے کے خلاف نہیں تاہم ڈائزئن قبول نہیں ہے،انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ محض ذاتی مفادات کی بنیاد پر منصوبے کے حق میں بیان دے رہے ہیں کچھ لوگوں نے جعلی ٹینٹ لگا کر پکی عمارتوں کے معاوضے وصول کیے ہیں حکومت میں موجود کچھ لوگوں کے عزیزوں،رشتہ داروں کو نوازا اور گاڑیاں ملنی ہیں جبکہ کچھ کو مل چکی ہیں ذاتی مفاد کیلئے پوری نسل کا سودا کیا جارہا ہے جو قبول نہیں جس منصوبے میں صاحب اقتدار لوگوں کی حصہ داری ہو وہ عوام کے ساتھ مخلص نہیں ہو سکتے،حلقہ چار کے علاوہ چکار،باغ اور دیگر علاقوں میں پانی کی شدید قلت ہوگی اور یہ علاقے بنجر ہو جائیں گے اس لیے حکومت ان معاملات کو فوری یکسو کرے۔

Avatar

By ajazmir