جموں کشمیر لبریشن فرنٹ بیلجیئم برانچ کا یورپین پارلیمنٹ کی ہیومن رائٹس سب کمیٹی کے اجلاس کے دوران یورپین پارلیمنٹ کے سامنے زبردست احتجاج

275 Views

برسلز، بیلجیم۔ جموں کشمیر لبریشن فرنٹ بیلجیئم برانچ کا یورپین پارلیمنٹ کی ہیومن رائٹس سب کمیٹی کے اجلاس کے دوران یورپین پارلیمنٹ کے سامنے زبردست احتجاج۔یورپین یونین بھارتی مقبوضہ جموں کشمیر میں انسانی حقوق کی بدترین پامالی رکوانے اور یٰسین ملک، شبیر شاہ، ظہور بٹ، بابا جان اور دیگر اسیران کی رہائی کیلئے اپنا کردار ادا کرے۔ریاست جموں کشمیر کے عوام آزادی پسند اور انسانی حقوق کا احترام کرنے والی اقوام کی حمایت کے منتظر ہیں۔ بھارتی مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقو ق کی پامالی ساری دنیا دیکھ رہی ہے۔ریاست کے عوام عالمی برادری کے دہرے معیار کا شکار ہیں۔سیز فائر لائن پر ریاستی عوام کا قتل عام جاری ہے۔ مسئلہ کشمیر جلد حل نہ ہوا تو جنوبی ایشیا ایک بڑی تباہی کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔ احتجاجی مظاہرین سے مشتاق دیوان، شبیر جرال، اشفاق قمر، مسعود میر اور دیگر کا خطاب
جموں کشمیر لبریشن فرنٹ بیلجیئم برانچ نے یورپین پارلیمنٹ کی ہیومن رائٹس سب کمیٹی کے اجلاس کے دوران یورپین پارلیمنٹ کے سامنے ریاست جموں کشمیر میں انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیاں رکوانے کیلئےاورڈیڑھ سال بھارتی زندان میں محبوس چیئرمین لبریشن فرنٹ محمد یاسین ملک، شہید مقبول بٹ کے برادر اصغر ظہور بٹ،، آزادی پسند راہنما شبیر شاہ و دیگر حریت پسند اسیران اور گلگت جیل میں مقید بابا جان اور دیگر سیاسی اسیران کی رہائی کیلئے زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا۔مظاہرے میں کثیر تعداد میں بچوں اور خواتین نے بھی شرکت کی۔ مظاہرین بالخصوص بچوں اور خواتین نے ہاتھوں میں کتبے اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پہ بھارتی مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں کو رکوانے، چیئرمین محمد یاسین ملک،ظہور بٹ، بابا جان سمیت دیگر اسیران وطن کی رہائی، سیز فائر لائن پر گولہ باری کے خاتمے اور ریاست جموں کشمیر کی مکمل آزادی و خود مختاری کیلئے نعرے درج تھے۔ شرکاء مظاہرہ انسانی حقوق کی کمیٹی کے اجلاس کے دوران زبردست نعرے بازی کرتے رہے ، یورپین پارلیمنٹ کا احاطہ کشمیر میں قتل عام بند کرو، یسین ملک کو رہا کرو، ظہور بٹ، شبیر شاہ، بابا جان کو رہا کرو، ریاست میں ڈومیسائل قانون میں تبدیلی نامنظور، جموں کشمیر بنیگا خود مختار، قاتل قاتل مودی قاتل کے نعروں سے گونج اٹھا۔
آس موقع پر خطاب کرتے ہوئے مظاہرین میں صدرلبریشن فرنٹ بیلجیم برانچ مشتاق دیوان، سابق صدر یورپ زون شبیر جرال، ڈپٹی جنرل سیکریٹری یورپ زون محمد اشفاق قمر، جنرل سیکریٹری بیلجیئم برانچ مسعود اقبال میر، ترجمان یورپ زون نقاش مشتاق دیوان اور دیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ریاست جموں کشمیر کے عوام عالمی برادری کی بے حسی اور دہرے معیار کا شکار ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی حکومت نے گزشتہ ایک سال میں ریاست جموں کشمیر کے اندر تمام بنیادی انسانی حقوق کو معطل کر رکھا ہے اور ایک کروڑ سے زیادہ لوگوں کو دنیا کی سب سے بڑی اوپن جیل میں قید کیا گیا ہے جہاں اظہار رائے کی مکمل پابندیوں سمیت صحت، تعلیم، روزگار، علاج، زرائع ابلاغ اور رسل و رسائل کے تمام ذرائع محدود و مسدود کر دیے گئے ہیں۔ بھارتی فوج نے ریاست کے اندر بے گناہ عوام اور شہریوں کا قتل عام شروع کر رکھا ہے اور کرونا وبا کی آر میں بھارتی حکومت تیزی سے ریاست کی ڈیمو گرافی کو تبدیل کرنے اور غیر ریاستی باشندوں کو ریاستی شہری بنانے میں مسروف ہے۔ مقررین نے کہا کہ جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے چئیرمین محمد یسین ملک کوریاست میں نافذ غیر انسانی اور کالے قوانین کے ذریعے فروری 2019سے دہلی کی تہاڑ جیل میں قید کر کے انہیں قانونی اور صحت کی تمام سہولتوں سے محروم کر دیا گیا ہے اور ان پر جھوٹے اور بے بنیاد مقدمات قائم کیے گئے ہیں۔لبریشن فرنٹ کے قائد ظہور احمد بٹ اورحریت راہنما شبیر شاہ سمیت سینکڑوں قائدین اور ہزاروں نوجوانوں کو کالے قوانین کے تحت جیلوں میں تشدد اور انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے جبکہ مودی حکومت تمام تر بین الاقوامی قوانین اور قراردادوں کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے ریاست جموں کشمیر کے ٹکڑے کر کے اسے زبردستی بھارتی یونین میں ضم کر رہی ہے۔مقررین نے کہا کہ یورپ میں آباد لاکھوں کشمیری تارکین وطن یورپ کے مختلف ممالک کے پرامن شہری اور ٹیکس دہندہ ہیں اور وہ یہاں کے شہری ہونے کے ناطے بھی یورپین یونین سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ ریاست جموں کشمیر میں بھارتی ظلم و بربریت رکوانے، سیز فائر لائن پرگولہ باری بند کروانے، ریاست میں موجود سیاسی زعما کی جیلوں سے رہائی اور مسئلہ جموں کشمیر کو پرامن اور مستقل طور پر حل کروانے کیلئے اپنا کردار ادا کرے۔ مقررین نے کہا کہ بھارتی مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیاں پوری دنیا کے سامنے ہیں اور اقوام ِ متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن کی رپورٹس بھی دنیا کے سامنے آ چکی ہیں اس کے باوجود عالمی برادری کی خاموشی اور سرد مہری افسوسناک ہے۔ مقررین نے متنبہ کیا کہ اگر مسئلہ جموں کشمیر جلد حل نہ ہوا تو بھارت، پاکستان اور چائینہ جیسی جوہری طاقتوں کے ٹکراؤ کے نتیجے میں ریاست جموں کشمیر سمیت پورا جنوبی ایشیا ایک بہت بڑی تباہے کی زد میں آ سکتا ہے۔اس موقع پر راجہ طارق، چودھری جمیل، راجہ ظہیر، طارق مغل، ندیم جرال، متین ملک، شہزاد مغل، حبیب ملک، لطیف بٹ، بنارس ٹھاکر، طارق اعوان، سجاد وانی، بشیر چودھری، علی رضا، راجہ نصیر، راجہ فہیم، ظہیر جرال، خواجہ جاوید، خواجہ ظفرالدین اور دیگر نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔