آزاد کشمیریونیورسٹی نزع کے عالم میں وینٹیلیٹرسےواپسی کیسے ممکن؟

341 Views

تحریر ۔۔۔۔۔۔ اعجاز احمد میر
آزاد جموں وکشمیر یونیورسٹی کے موجودہ وائس چانسلر اپنی خدمات کا عرصہ مکمل کرنے پر سبکدوش ہو رہے ہیں جسکےباعث وائس چانسلر کی تعیناتی حکومتی ترجیح ہے ذرائع ابلاغ میں ابھی تک پینل کا زکر زیر اشاعت نہیں جس بناء پربہت سی افواہیں گردش میں ہیں جن کے مطابق سابق چیئرمین ہائیر ایجوکیشن کمشن ڈاکٹر مختار احمد،سابق وائس چانسلرزڈاکٹر حبیب الرحمان،ڈاکٹر خواجہ فاروق ایک ریٹائرڈ جج،ایک ریٹائرڈ جنرل کے علاوہ یونیورسٹی میں درس و تدریس کا طویل ترین انتظامی تجربہ اور بے داغ ریکارڈ رکھنے والےڈاکٹرنثار ہمدانی بھی شامل ہیں دیگر قابل ذکر امیدواران میں یونیورسٹی کی موجودہ رجسٹراراورراجہ برادری کے ایک پروفیسر بھی اس دوڑ میں شامل بتائے جاتے ہیں۔



اگرچہ ریکارڈ گواہ ہے کہ بسا اوقات پینل کی تشکیل ایک خاص مقصد کے تحت کی جاتی ہے اور منظور نظر یا رسائی رکھنے والی شخصیت کے ہاتھ میں پروانہ تقرری تھما دیا جاتا ہے اور آزاد کشمیر میں قائم سرکاری سطح پر واحد جامعہ کو تباہی و بربادی کے دہانے تک پہنچانے کا یہی اساسی سبب ہے۔وائس چانسلر کی تعیناتی فی الواقعہ ایک اہم، حساس اور میرٹ کا متقاضی فیصلہ ہوا کرتا ہے ، تعلیم دوستی اور مستقبل میں اعلیٰ انتظامی، علمی و عملی سرگرمیوں/ خدمات کے لیے ایک باصلاحیت، اہم، نمایاں اور مدبر شخصیت ہی اس منصب کے لیے موزوں ہو سکتی ہے ۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پروفیسر ڈاکٹر سید نثار حسین ہمدانی سے زیادہ اہل ترین اور اے جے کے یونیورسٹی کے جملہ معاملات سے بہترین آگہی رکھنے والی شخصیت کی موجودگی میں ان سے زیادہ موزوں اور کون ہو سکتا ہے؟؟؟
وزیراعظم کے حلقہ انتخاب سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر نثار ہمدانی قریبا چاردہائیوں سے اے جے کے یونیورسٹی سے منسلک ہیں اور اپنے ہزاروں فارغ التحصیل و زیرتعلیم طلباء کی نظر میں انتہائی محترم، مشفق، ہنس مکھ، ملنسار اور ہمہ وقت آمادہ بر تعاون رہنے والی شخصیت کے طور پرجانے مانے جاتے ہیں پروفیسر سے لیکر ڈین اور پھر ڈین سےاکنامکس ڈیپارٹمنٹ کے چئیرمین تک کا بے داغ سفر شاندار خدمات سے بھرا پڑا ہے انگنت نیشنل اور انٹرنیشنل کانفرنسزز کروانے کا اعزاز رکھتے ہیں متوازن شخصیت اور انتظامی امور پر بہترین گرفت اور کماحقہ اگہی رکھتے ہیں انتہائی تجربہ کار ،مخلص اور جامعہ کی ترقی میں نہ صرف زندگی بھر توانائیاں صرف کر چکے ہیں بلکہ اپنے شعبہ میں قومی و بین الاقوامی سطح پر بھی اپنا خاص مقام رکھتے ہیں قبل ازیں بھی پینل کے نام پر وائس چانسلر کے لیے موصوف کا نام گردش کرتا رہا ہے لیکن چونکہ ڈاکٹر ہمدانی سامنے والے دروازے سے آنے جانے کا صاف ستھرا پس منظر رکھتے ہیں شاید اسی لیے وہ استحقاق رکھنے کے باوجود اس منصب پر فائز ہونے سے محروم رہے ہیں البتہ اس مرتبہ اگر وائس چانسلر کی تعیناتی میں انصاف پسندی اور میرٹ سے کام لیا جائے تو ڈاکٹر نثارہمدانی کامل ترین استحقاق کے ساتھ، اپنے علم، تجربہ، کردار، خدمات اور قول و فعل کے بل بوتے پر اے جے کے یونیورسٹی کے مستقبل کے لیے موزوں و مناسب ترین وائس چانسلر ثابت ہوں گے اور واقفان حال بخوبی جانتے ہیں کہ
“موجودہ حالات میں، ونٹیلیٹر پر اکھڑتی سانسوں کے ساتھ موجود مریض کے جیسی کیفیت کی حامل آزاد کشمیر کی سب سے بڑی جامع جس سے چار دوسری یونیورسٹیاں نکلی ہیں کو مکمل تباھی سے بچانے اور ventilator سے نارمل حالت کی جانب منتقل کرنے کے لیے متعلقہ حکام کی جانب سے میرٹ پر فیصلہ کرنا انتہائی ناگزیر ہو چکا ہے”۔ اندریں حالات صدر ریاست سردار مسعود خان اور وزیر اعظم آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر راجہ فاروق حیدر خان ریاست کے سب سے بڑے تعلیمی ادارہ کو مکمل تباھی سے بچانے کے لیے ہمہ جہت شخصیت پروفیسر ڈاکٹر نثار ہمدانی کو انکی قابلیت اور استحقاق کے پیش نظر وائس چانسلر تعینات کر کے حق و انصاف کا بول بالا کریں اور تعلیم سے جڑے لوگ بھی یہ توقع رکھتے ہیں کہ صدر،وزیراعظم آزاد ریاست جموں و کشمیرعوامی رائے کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئےتباہ حال یونیورسٹی کے تابناک مستقبل کی پہلی اینٹ رکھیں گے۔