جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے زونل صدر ڈاکٹر توقیر گیلانی کاامریکی صدارتی امیدوار سینیٹر جوبائیڈن کوخط جموں کشمیر کے عوام کو آزادی دلانے میں مدد کرنے کا مطالبہ

986 Views

طویل ترین تنازعہ پر آپ کی فوری توجہ کی ضرورت ہے۔ ریاست جموں کشمیر کے لوگوں کو آزاد ہونے میں مدد کریں۔
ریاستہائے متحدہ امریکہ کے 244 ویں یوم آزادی کے موقع پر امریکی انتخابات کے لئے صدارتی امیدوار سینیٹر جو بائیڈن کو لبریشن فرنٹ کے زونل صدر کا کھلا خط



ترجمہ : اعجازاحمدمیر
سینیٹر جو بائیڈن
ڈیموکریٹ صدارتی امیدوار برائے مریکی انتخابات 2020
ڈئیر سر،
میں آپ کو اور تمام امریکی قوم کو اپنے 244 ویں یوم آزادی کی مبارکباد پیش کرتا ہوں ایک قوم کے لئے اُس کی آزادی کے دن سے بہتر دن کوئی نہیں ہے امریکی قوم کی غیر ملکی قبضے کے خلاف مزاحمت کی ایک بہت بڑی تاریخ ہے اور میں آج کے دن ورجینیا کے رچرڈ ہنری لی کے مشہور الفاظ( جو انہوں نے 7 جون 1776 کو فلا ڈیلفیا کانگریس کے موقع پر کہے تھے ) کو دہراناچاہتا ہوں کہ ”یہ متحدہ نوآبادیات آزاد اور خودمختار ریاستیں ہیں اور انہیں ایسا ہونا بھی چاہیے۔یہ برطانوی بادشاہت کی تابعداری ختم کر چکی ہیں، اور یہ کہ ان کے اور ریاست برطانیہ کے مابین تمام سیاسی تعلق پوری طرح سے تحلیل ہوچکا ہے“۔میں آپ کے حالیہ بیان پر بھی اظہار تشکر کرتا ہوں جس میں آپ نے 5 اگست 2019 سے لیکر آج تک بھارتی مقبوضہ جموں کشمیر میں انسانی حقوق کی مجموعی خلاف ورزیوں، غیرآئینی اور غیر جمہوری اقدامات اور بھارتی حکومت کی طرف سے کیے جانے والے تمام غیر انسانی فیصلوں کی مذمت کی ہے۔
ڈئیر سر،
آپ اس حقیقت سے بخوبی واقف ہیں کہ ہندوستان میں نریندر مودی کی حکومت نے 5 اگست 2019 کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور بین الاقوامی قانون کی صریحاًخلاف ورزی کرتے ہوئے جموں کشمیر کو زبردستی بھارتی یونین کا حصہ بنا دیا اور اس خطے کو دو مرکزی علاقوں میں تقسیم کیا گیا۔ مواصلات اور انٹرنیٹ کے ذرائع منقطع ہونے کے بعد پرنٹ میڈیا کو بھی خاموش کردیا گیا۔صحافیوں کو رپورٹنگ کرنے سے روک دیا گیا اور تمام شہری آزادیاں معطل کردی گئیں۔ تمام نمایاں سیاسی اور آزادی کے حامی رہنما¶ں کو جیلوں میں ڈال دیا گیا۔ سیاسی کارکنوں، مردوں، خواتین حتی کہ بچوںتک کو حراست میں لیا گیا اور صحت عامہ کا بنیادی ڈھانچہ معطل کر دیا گیا۔ جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین اور ریاست جموں وکشمیر کی نمایاں، غیر متشدد اور معتبر ترین آواز وں میں سے ایک محمد یٰسین ملک کے خلاف من گھڑت ، فرضی اور جھوٹے مقدمات بنائے گئے اور انہیں ابھی تک مسلسل انتہا پسند بھارتی حکومت کے جنون اور انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ انہیں قانونی اور طبی امداد سے مسلسل محروم رکھا جا رہا ہے اور وہ گذشتہ سوا سال سے تہاڑجیل نئی دہلی میں قید تنہائی میں رکھے گئے ہیں۔ ہندوستانی حکومت نے اقوام متحدہ سمیت انسانی حقوق کی بین الاقوامی ایجنسیوں اور سول سوسائٹی کی تنظیموں کو جموں کشمیر کی صورتحال کا مشاہدہ کرنے کے لئے ریاست میں جانے کی اجازت نہیں دی ہے
ڈئیر سر،
یہ پریشان کن صورتحال کوویڈ 19 کے وبائی امراض کے آغاز کے بعد سے مزید ابتر ہوگئی ہے۔ حکومت ِہند اس وبا کو ریاست کے عوام کے مزید استحصال کیلئے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کررہی ہے ۔ اس وبا کی آڑ میں وہ اپنی فوج اور قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کوریاست میں عوام کی آزادانہ نقل و حرکت، پرامن اجتماع، سیاسی اختلاف اور اظہار رائے کی آزادیوں سمیت بنیادی انسانی حقوق کو دبانے کے لئے استعمال کر رہی ہے۔ لوگ اپنے پیاروں سے بات نہیں کرسکتے ہیں۔ وہ باقی دنیا سے مکمل منقطع ہیں اور انہیں مختلف مسائل کا سامنا ہے ۔ وادی کشمیرکے اکثر شہروں، قصبوں اور دیہاتوں میں کھانے پینے کی اشیاء، ادویات اور صحت کی سہولیات، ٹرانسپورٹ، کاروبار اور ملازمت تک رسائی تقریباً مسدودہے اورعام لوگوں کی زندگیوں کو مسلسل شدید خطرات کا سامنا ہے۔
اِس ساری صورت حال نے ہندوستان اور پاکستان کے مابین سیز فائر لائن پرکشیدگی کو بھی بڑھاوا دیا ہے۔ یہ وہ لکیر ہے جس نے ریاست جموں کشمیر کو گذشتہ 73سالوں سے ہندوستانی زیر کنٹرول اور پاکستانی زیر کنٹرول علاقوں میں زبردستی بانٹ رکھا ہے۔ سیز فائر لائن پر کشیدگی میں اضافہ اس منحوس لکیر کے ارد گرد بسنے والے ریاستی شہریوں کے جان و مال کو شدید نقصان پہنچا رہا ہے اور انہیں روزانہ کی بنیاد پر دو جوہری طاقتوں کے مابین فائرنگ اور شدید گولہ باری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ریاست جموں کشمیر کے لداخ خطے میں ہندوستان اور چین کے مابین حالیہ جھڑپوں کے بعدپورا خطہ یقینی طور پر ایک ہولناک جنگ کی زد پر ہے جس سے علاقائی اور بین الاقوامی امن و سلامتی کو یقینا بڑا خطرہ لاحق ہے اور جس کے نتیجے میں بڑی تباہی و بربادی ہوسکتی ہے۔

ڈئیر سر،
صورتحال کی نزاکت آپ کی فوری توجہ کی متقاضی ہے اقوام متحدہ کی پیدائش کے فوراً بعد سے ہی سلامتی کونسل کی میز پرپڑے ہوئے اس دیرینہ مسئلے کو حل کرنے کے لئے آپ بہت اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ 1947ءکے بعد سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ریاست جموں کشمیر کے عوام کی آزادانہ خواہشات کے مطابق اس مسئلے کو حل کرنے کے لئے ایک درجن سے زیادہ قراردادیں منظور کر رکھی ہیں۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ان قراردادوں میں ریاست جموں کشمیر کے عوام سے وعدہ کر رکھا ہے کہ وہ ریاست سے بھارت اور پاکستان کی افواج کا انخلاءکرواتے ہوئے اسے دوبارہ متحد کر کے چودہ اگست 1947ءکی پوزیشن پر بحال کروائے گی اور ریاست کے عوام کی آزادانہ خواہشات پر مبنی ایک حتمی تصفیہ کروائے گی۔آپ اپنی پوزیشن کو بھارت، پاکستان اور چین کو مجبور کرنے کے لئے استعمال کرسکتے ہیں کہ وہ مسئلے کے بنیادی فریق کے ساتھ بات چیت کے عمل کا آغاز کریں اور ایک لائحہ عمل ترتیب دیں جس کی روشنی میںاور اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی نگرانی میں جموں کشمیر کے مسئلے کو مستقل طور پر حل کرنے کے عمل کا آغاز کیا جائے نیز منقسم ریاست کے تمام حصوں میں موجود سیاسی قیدیوں کو رہا کیا جائے اور افواج کی مکمل واپسی کا عمل شروع کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے چارٹر اور سلامتی کونسل کی 13 اگست 1948 کی قرارداد کے مطابق اس مسئلے کے حتمی اور مستقل طور پر حل ہو جانے تک اقوام متحدہ کی امن فوج کو ریاست میں تعینات کیا جائے۔
ڈئیر سر،
ریاست جموں کشمیر کے عوام کو آپ سے بڑی توقعات ہیں۔ میری آپ سے گزارش ہے کہ ان توقعات پر براہ مہربانی فوری توجہ دیں اور جموں کشمیر کو خطے کی متحارب طاقتوں کے درمیان دشمنی کی وجہ کے بجائے دوستی اور ترقی کا پل بنا کرمستقل امن و استحکام کے حصول میں ہماری مدد کریں۔ جموں کشمیر کے لوگوں کو بھی آزاد ہونے اور آزاد رہنے کا حق ہے اور وہ طویل عرصے سے اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا تسلیم شدہ حق حاصل کرنے کے منتظر ہیں۔
آپ کا خیر اندیش
ڈاکٹر توقیر گیلانی
صدر جموں کشمیر لبریشن فرنٹ آزاد کشمیر گلگت بلتستان زون