لائن آف کنٹرول سے ملحقہ یونین کونسل وادی کھلانہ کے آر ایچ سی میں پاﺅں پر چل کر جانے والی خاتون سٹریچرپر ہسپتال سے باہر لانا پڑ گئی ورثاءکا ہسپتال عملہ کی مجرمانہ غفلت،لاپرواہی سے خاتون اور انکے پیٹ میں پلنے والے بچے کی موت کا الزام

349 Views

چناری(اعجاز احمد میر،خصوصی رپورٹ)لائن آف کنٹرول سے ملحقہ یونین کونسل وادی کھلانہ کے آر ایچ سی میں پاﺅں پر چل کر جانے والی خاتون سٹریچرپر ہسپتال سے باہر لانا پڑ گئی ورثاءکا ہسپتال عملہ کی مجرمانہ غفلت،لاپرواہی سے خاتون اور انکے پیٹ میں پلنے والے بچے کی موت کا الزام ۔



تفصیلات کے مطابق چند روز قبل یونین کونسل کھلانہ کے گاﺅں کنڈری کی رہائشی حاملہ خاتون مسماة گلناز زوجہ محمد لطیف روٹین کے چیک آپ کے لیے اپنے شوہر کے ساتھ صبح نو بجے کے قریب آر ایچ سی وادی کھلانہ گئی جہاں ڈیوٹی پر موجود اہلکاران نے انھیں چیک اپ کرنے کے بعد ان کے شوہر کے ہاتھ میں ایک پرچی تھما کر کہا کہ میڈیکل سٹور سے یہ انجکشن لائے جائیں محمد رفاقت ہسپتال عملہ کی جانب سے ملنے والے نسخے کے مطابق میڈیکل سٹور سے 3800روپے کے انجکشن لے کر ہسپتال پہنچا تو ڈیوٹی پر موجود عملہ نے وہ انجکشن حاملہ خاتون کو لگا دیے جس کے بعد خاتون کی طبیعت بگڑنا شروع ہو گئی زندگی کی بازی ہارنے والی خاتون کی بہن مسماة (گ)لطیف نے صحافیوں کو مزید بتایا کہ میری بہن کی حالت خراب ہونے کے باوجود آر ایچ سی کھلانہ کا عملہ نہ تو ان کے پاس کسی کو جانے دے رہا تھا اور نہ ہی اصل صورتحال سے آگاہ کر رہا تھا شام چار اور پانچ بجے کے درمیان میری والدہ نے شور ڈالا کہ مجھے میری بیٹی کے پاس جانے دیا جائے جس کے بعد ہسپتال عملہ نے انھیں اندر جانے دیا تب میری بہن بلکل لاغر ہو چکی تھی اور ان کے جسم میں جان نہیں تھی پھر اسی وقت میری بہن کو ڈی ایچ کیو ہسپتال ہٹیاں بالا ریفر کیا گیاجہاں پر اسکی تشویشناک حالت کو دیکھ کر ڈاکٹرز نے اسے مظفرآباد ریفر کر دیا مظفرآباد پہنچتے ہی وہ جان کی بازی ہار گئی میری بہن اور اس کے پیٹ میں پلنے والے بچے کو قتل کیا گیا ہے اور اس قتل کا ذمہ دار آر ایچ سی کھلانہ کا عملہ ہے جن خواتین نے میری بہن کو غسل دیا اور جنہوں نے بھی انھیں دیکھا وہ شدید خوفزدہ ہو گئے تھے انجکشن کے ری ایکشن کے باعث میری بہن کی شکل عجیب ہو گئی اور انھیں دیکھ کر ڈر لگ رہا تھا ہم نے اس واقعہ کی تحقیقات کے لیے محکمہ صحت کے ذمہ داران کو درخواست دے رکھی ہے اور معاملہ کی تحقیقات جاری ہیں ہم پر دباﺅ ڈالا جا رہا ہے کہ ہم راضی نامہ کر لیں اور ساتھ ساتھ ہم سے آر ایچ سی کھلانہ کا عملہ معافیاں مانگھ رہا ہے کہ ہمیں معاف کر دیا جائے لیکن ہم کسی دباﺅ میں نہیں آئیں گے اس واقعہ کی اعلی سطحی تحقیقات کر کے واقعہ میں ملوث غیر ذمہ دار اہلکاران کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کرتے ہوئے انھیں نوکریوں سے برطرف کیا جائے ہمارے ساتھ بہت بڑا ظلم ہوا ہے چند گھنٹوں میں میری بہن کی حالت ایسی خراب ہوئی وہ ہماری بہن دکھائی ہی نہیں دے رہی تھی حق اور سچ کے لیے اگر مجھے اپنی بھی جان دینا پڑی تو دوں گی لیکن ظالموں اور قاتلوں کے ساتھ کسی بھی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا ظالموں نے میری بہن اور انکے پیٹ میں پلنے والے بچے کو قتل کیا ہے جب تک انصاف نہیں مل جاتا اس وقت تک ہم چین سے نہیں رہیں گے عوامی،سیاسی و سماجی حلقوں نے واقعہ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعظم آزاد کشمیر،وزیر صحت،چیف سیکرٹری اور سیکرٹری صحت سے نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ بعض اوقات یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ ہسپتال کا عملہ بلاوجہ نسخہ دے کر میڈیکل سٹورز سے اپنا کمشن وصول کرتا ہے اور یہ بھی شبہ ہے کہ جو انجکشن کھلانہ میڈیکل سٹور سے لائے گئے تھے وہ شاہد ایکسپائر تھے یا پھر کسی غیر معروف کمپنی کے تھے جو خاتون کو لگتے ہی وہ موت کے منہ میں چلی گئیں یاد رہے کہ گذشتہ سال بھی وادی کھلانہ میں ایک میڈیکل سٹور کے مالک کی جانب سے ایک پچپن سالہ خاتون کو ایک انجکشن لگایا گیا جس کے باعث انھیں انفکشن ہوا اور وہ جان کی بازی ہار گئیں بعد ازاں ورثاءکی جانب سے میڈیکل سٹور کے مالک کے ساتھ راضی نامہ کے بعد وہ معاملہ ختم ہو گیاتھا اب کی بار بھی بااثر مافیا غریب خاتون اور ان کے پیٹ میں پلنے والے بچے کی موت کو دبانے کی ہر ممکن کوشش کر رہا ہے عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ کیا وزیراعظم آزاد کشمیر کے حلقہ انتخاب میں ہی آئے روز غلط انجکشن لگانے سے غریب مرتے رہیں گے اور اسی طرح غریبوں کو مار کر امیر امیر تر ہوتے جائیں گے اب کی بار بھی ذمہ داران کا تعین کر کے انھیں سزائیں نہ دیں گئیں تو عوام کا قانون اور انصاف سے اعتماد اٹھ جائے گا خاتون کی موت پر جب ڈی ایچ او جہلم ویلی ڈاکٹر نعمان منظور بٹ سے ان کا موقف لیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ورثاءکی جانب سے کارروائی کے لیے جیسے ہی درخواست موصول ہوئی اسی دن ہم نے تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے دی ہے جو واقعہ کی تحقیقات کر رہی ہے انکوائری مکمل ہونے کے بعد آئندہ دو روز تک رپورٹ پبلک کر دی جائے گی ۔۔۔۔