پولیس والے نے ٹھاہ ٹھاہ ٹھاہ گولیاں ماری اور بڑے پاپا مر گئے

2,772 Views

تحریر: رفعت وانی
آج دُنیا جب چاند اور دیگر سیارے تسخیر کر رہی ہے تو وہیں دُنیا کی جنت کہلائے جانے والے یہ وادی جو نام اور خوبصورتی سے دلوں کو تو موہ لیتی ہے مگر جب وہاں کے رہنے والوں کی داستانیں سُنتے ہیں تو دل و دماغ میں تو ڈر پیدا ہونا فطری بات ہے مگر انسان کی روح تک لرز جاتی ہے۔ انڈیا دُنیا کا آبادی کے لحاظ سے دُوسرا بڑا ملک ۔ جسکی آبادی 130 ارب ہے۔ جہاں بہت سے مذاہب ہیں اور قریبا سو سے زائد زُبانیں بولی جاتی ہیں۔ جی ہاں وہی انڈیا جسے گاندھی کا دیش کہا جاتا ہے۔ وہی انڈیا جہاں سیکولزم کا ڈھول پیٹا جاتا ہے۔ وہی انڈیا جہاں ہندو مسلم سکھ عیسائیوں نے مل کر انگریز سے آزادی کی لڑائی لڑی۔



وہ انڈیا کشمیر پر اپنے تسلط کو مظبوط کرنے کے لئے گزشتہ سات دہائیوں سے ظلم و بربریت کی داستانیں رقم کرتا چلا آ رہا ہے۔ دھوکہ بازی اور وعدہ خلافی تو ہندوستانی خون میں رچی بسی ہے جس کی مثالیں شیخ عبداللہ کے ہندوستان کے ساتھ معاہدے کے ساتھ ہی واضح ہونا شروع ہو چکی تھیں۔ وہی شیخ عبداللہ جو اپنا اور قوم کا مستقبل ہندوستان کے ساتھ محفوظ دیکھتا تھا اُسی شیخ عبداللہ کو انڈیا نے وزیراعظم ہوتے ہوئے اُٹھا کر سالوں زندان میں قید کئے رکھا۔ بعد میں معاہدے کو یک طرفہ تبدیل کرتے ہوئے چیف منٹسر کی پوزیشن تک اور چیف منسٹر سے ان تمام سیاسی قائدین کو جو ہندوستان کی جمہوریت اور آئین پر یقین رکھتے تھے اُنھیں پانچ اگست دو ہزار اُنیس کو قید خانوں کی نظر کر دیا گیا۔ اور ریاست اور ریاستی باشندوں کے تمام اختیارات کو ختم کرتے ہوئے ہندوستان سے آئے آر ایس ایس کے غنڈوں کو وادی میں بسانے کا سلسلہ شروع ہوا جو کہ دن بہ دن زور پکڑ رہا ہے۔ اور مودی گورنمنٹ جلد از جلد کشمیر میں آر ایس ایس کے غنڈوں کو ریاستی باشندہ سرٹیفکٹ دے کے اُن آوازوں کو اپنے غنڈوں کی آوازوں سے بدلنا چاہتے ہیں جو انڈین فوج اور گورنمنٹ کی طرف سے ڈھائے جانے والے مظالم کے خلاف سیسہ پلائی دیوار ہیں۔
گیارہ ماہ سے کرفیو ، انٹرنیٹ سروس کا معطل ہونا، تعلیمی اداروں کا مکمل بند ہونا ، کاروبار اور سیاحت کا ختم ہونا سب ہندوستان کے کشمیریوں کو اپنے سامنے جھکانے کی سازش ہے جس میں مودی سرکار ، آرمی ، پولیس وغیرہ بلکل ناکام ہو چُکے ہیں۔

اور اب مودی سرکار کے پاس ایک ہی راستہ بچا ہے وہ ہے کشمیر میں Genocide ۔ کیونکہ یہ واحد راستہ ہے جس کے زریعہ مودی سرکار اپنے مذموم مقاصد کچھ حد تک حاصل کر سکتی ہے۔ یکم جولائی ۲۰۲۰ کی صبح کا آغاز روایتی صبح کی طرح ہی ہوا۔ موبائل کی گھنٹی بجی اور شہادت کی خبر۔ اور یہ روز کا معمول ہے۔ مگر آج کا واقع اس لئے مختلف تھا کہ اس میں ایک معصوم جان بھی شامل تھی۔ تین سالہ عیاد جو کہ اپنے نانا جی کے ساتھ گاڑی میں اس شوق سے بیٹھا کہ نانا جی گاڑی میں گھمائیں گے۔ جیسا کہ چھوٹے بچوں کو شوق ہوتا ہے اور اس بات کا ذکر خود عیاد نے اپنی ایک ویڈیو میں بھی کیا۔ جب اُس سے سوال کیا گیا کہ بیٹا آپ بڑے پاپا کے ساتھ گاڑی میں تھے تو کیا ہوا۔

اُس معصوم ننھی جان کا کہنا تھا کہ ہم بہت مزہ کر رہے تھے اور پھر پولیس والے نے بڑے پاپا کو ٹھک ٹھک اور ٹھاہ ٹھاہ ٹھاہ گولی مار دی۔ اور بڑے پاپا مر گئے۔سی آر پی ایف کا کہنا ہے کہ مسجد میں سے فائرنگ شروع ہوئی اور چار سی آر پی ایف والے زخمی جب کہ ایک سی آر پی ایف والا مارا گیا۔ اسی دوران محمد بشیر ساکنہ سوپور کی گاڑی وہاں سے گزری اور وہ دونوں اطراف سے فائرنگ کی زد میں آ کے شہید ہو گئے جبکہ یہ سراسر بے بنیاد باتیں ہیں۔ عینی شاہدین کے مطابق جب سنٹرل ریزرو پولیس فورس پر گولی چلنے کے بعد جنگجو وہاں سے بھاگ چُکے تھے۔ مگر CRPFنے یک طرفہ گولیاں چلانا شروع کر دیں۔ کچھ دیر میں بشیر احمد صاحب کی گاڑی وہاں پہنچتی ہے جن کے ساتھ فرنٹ سیٹ پر اُن کا نواسہ بھی ساتھ بیٹھا ہے اور گاڑی کو روک لیا جاتا ہے اور سی آر پی آیف والا انھیں گاڑی سے اُترنے کو کہتا ہے وہ وجہ پوچھتے ہیں مگر انھیں قمیض سے پکڑ کر زبردستی اُتارا جاتا ہے۔ اور زمین پر گرا کر گولیاں ماری جاتی ہیں۔ اس کے بعد سی آر پی ایف والا جو مختلف پوزیشنز میں کھڑے تھے ان میں سے ایک بچے کو اُٹھا کر نانا کے خون آلود سینے پر بیٹھا دیتا ہے اور تین سال کا بچہ حیران و پریشان اور روتا ہوا نانا کے سینے پر بیٹھا ارد گرد کو دیکھنے اور حالات کو سمجھنے کی کوشش میں ہے۔ اور اسی اثناء میں سی آر پی ایف والے خود بچے کی تصاویر بناتے ہیں اور خبر پھیلا دی جاتی ہے کہ دو طرفہ فائرنگ میں ایک سی آر پی ایف والا مارا گیا اور ایک مقامی شخص کی شہادت ہوئی۔ مگر عیاد یہ سب دیکھتے ہی نانا کا خون اپنے کپڑوں میں سموئے نانا کے سینے سے اُٹھ کھڑا ہوتا ہے اور جو سی آر پی ایف والا تصاویر بنانے کے لیئے نقلی پوزیشن لینے کا ڈرامہ کرتا ہے اُس کی جانب پتھر لیکر لپکتا ہے اور تصویر میں صاف دیکھا جا سکتا ہے کہ وہ سی آر پی ایف والا عیاد کو روکنے کی کوشش کر رہا ہے اور عینی شاہدین کا بھی یہی کہنا ہے کہ اتنے میں دوسرا سی آر پی ایف والا آتا ہے اور بچے کو لے جا کہ فوٹو سیشن کرتا ہے اُسے چاکلیٹس اور ٹافیاں دیتا ہے۔ اور ڈرے سہمے عیاد کی شارٹ ویڈیوز اور تصاویر پھیلا دی جاتی ہیں اور انڈین میڈیا کا پروپگنڈہ شروع ہو جاتا ہے کہ سی آر پی ایف کے جوانوں نے ایک بچے کی جان بچائی جبکہ اُس کا نانا جان کی بازی ہار گیا مگر ڈرامے کا ڈراپ سین تب ہوتا ہے جب مقامی افراد بشیر صاحب کے بچوں کو فون کر کے ساری صورتِ حال بتاتے ہیں دوسرا بچے کے گھر پہنچتے ہی جب اُسے سوالات کیے گئے تو بچے نے سب کے سامنے جواب دیا کہ پولیس والے نے ٹھک ٹھک اور ٹھاہ ٹھاہ ٹھاہ گولی ماری اور بڑے پاپا مر گئے۔انڈین فورسز کے پاس کسی بھی سوال کا تسلی بخش جواب موجود نہ تھا نہ ہے۔ بشیر احمد صاحب کی شہادت کے بعد جس طرح سے اُن کی لاش کی بے حُرمتی کی گئی۔ اور بچے کو اُن کے خون آلود سینے پر صرف اپنے مضموم مقاصد حاصل کرنے کے لئے بٹھایا گیا عیاد کے ماں باپ کی رضامندی کے بنا اُن کے بچے کی تصاویر اور ویڈیوز خود انڈین فورسسز نے وائرل کیں جو کہ قانونی اداروں پر بے شمار سوال کھڑے کرتے ہیں۔ یہ واقعہ ذہن میں پیوست ہو گیا اس لیے میں پوری رات سو نہیں سکی اور جب نیند نہیں آئی تو عیاد کے مختلف ویڈیوز بار بار دیکھ رہی تھی۔ عیاد میں مجھے اپنی بیٹی کا چہرہ اور میرے وطن کے ہزاروں بچوں کا آئندہ آنے والا کل دکھائی دے رہا تھا۔ اس کشمکش میں پوری رات کٹ گئی اور صبح کے چار بجے یہ آرٹیکل لکھ رہی ہوں۔ آرٹیکل لکھنے کی ایک وجہ اور بھی ہے۔ وہ یہ کہ آج سے دو ماہ قبل اگر ہماری یاداشت کو زنگ نہ لگا ہو تو کہنا چاہوں گی کہ چار مئی ۲۰۲۰ کو ہندواڑہ میں سی آر پی ایف کے کیمپ پر ایک حملہ ہوا۔ میرے پاس جو سی سی ٹی وی فوٹیج ابھی بھی موجود ہے اُس کے مطابق ایک شخص کیمپ کے باہر آتا ہے جس نے فیرن پہن رکھا ہے اور کیمپ میں گرنیڈ پھیک کر بھاگ جاتا ہے اور وہ شخص اکیلا دکھائی دیتا ہے اس ویڈو میں اور اُس کے سوا اُس کے پاس کوئی ہتھیار موجود نہیں ہے اور گرنیڈ پھنکنے کے بعد وہ وہاں سے بھاگ جاتا ہے ۔ سی آر پی ایف جتنی دیر میں سنبھلتے اُتنی دیر میں وہ شخص رُو پوش ہو چُکا ہوتا ہے۔ اور پیچھے تین سی آر پی ایف والوں کی لاشیں اور بدلہ لینے کے لئے تیار سی آر پی ایف کے باقی پولیس اہلکار اُسی راستے سے چلتے ایک شخص کو گولیوں سے بھون دیتے ہیں اور دوبارہ انڈین میڈیا خبر نشر کرتا ہے کہ خود کُش بمبار کو ہماری بہادر سینا نے مار گرایا۔ جو کہ اپنے جسم پر بم باندھ کر دہشتگردی کی کوئی بہت بڑی کاروائی کرنے جا رہا تھا مگر ہماری سینا نے بہادری اور جواں مردی سے اُس آتنگ وادی کو مار گرایا ہے اور ہمارے تین جوان اس میں شہید ہوئے ہیں۔ مگر اس کہانی کا ڈراپ سین بھی کچھ ہی لمحوں میں ہو جاتا ہے جیسے ہی وہ جوان کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوتی ہیں۔ جس میں ایک ذہنی معذور چودہ سال کا بچہ باسم سامنے آتا ہے اور انڈین فورسز اور میڈیا کا جھوٹا پروپگنڈہ بے نقاب ہو جاتا ہے مگر بات وہی ہے جس کی لاٹھی اُسکی بھینس ہم کشمیریوں کی اس سے بھی بڑی درد ناک کہانیاں موجود ہیں اور وہی باسم کے ساتھ ہوا۔ انڈین فورسز نے پیدائشی ذہنی معذور باسم کو دہشتگرد قرار دے کر اُس کی لاش اس کے گھر والوں کو دینے سے انکار کر دیا اور ماں کے حصے میں صرف باسم کی خون آلود چپل آئی جسے وہ دُنیا کی تمام انسانی حقوق کی تنظیموں اور ہندوستان کے لوگوں ، حکومت ، فورسسز اور ہمدوستان کے اندر کام کر رہی انسانی حقوق کی تنظیموں کو دکھا رہی تھیں اور کہہ رہی تھیں کہ یہ خون آلود چپل نہیں ہندوستان کے مظالم کا آئینہ ہے جسے سب کو دیکھنے کی ضرورت ہے۔ انشاء، حباء ، جُنید، باسم اب عیاد اور ہزاروں اور بچے جو کشمیر کے مسئلہ سے ہی ناآشنا تھے اُنھیں دودھ پینے کی عمر میں ہی یا تو جسمانی معذوری جیسے انشاء حباء کو پیلٹس سے چھلنی کیا گیا۔ وہیں جُنید کو گھر کے اندر گھس کی گولیوں سے بھونا گیا ، وہیں باسم کو ذہنی معذور ہوتے ہوئے بھی دہشتگردی کا لیبل چپکا کہ شہید کیا گیا اور گھر والوں سے آخری دیدار اور تدفین کا حق تک چھینا گیا اور اب عیاد کے سامنے اس کے نانا جی کو شہید کر کے معصوم دماغ پر اس کے نانا جی کی شہادت کے نا مٹنے والے نقوش چھوڑ دیئے۔ یہی وجہ ہے کہ کشمیر میں آج کا پی ایچ ڈی نوجوان گن اُٹھا رہا ہے کیوں کہ ان میں سے کوئی باسم ہے تو کوئی جُنید کا بھائی، کوئی انشاء یا حباء ہے تو کوئی عیاد ۔ یہ سلسلہ نہ جانے کب اور کہاں رُکے گا۔۔۔۔۔ کشمیر کا مسئلہ تو حل ہوتا دکھائی نہیں دے رہا مگر کشمیر کا مستقبل تاریک ضرور ہو رہا ہے۔ اور وجہ ہماری خاموشی، بے اعتنائی، لاپرواہی ، غیر مستقل مزاجی ، آپسی رنجشیں اور نااتفاقی ہے۔ کل کی بشیر صاحب کی وہ تصویر جس میں ان کے مردہ جسم پر ایک انڈین فورس والا کھڑا ہے۔ اس تصویر نے مجھے جارج فلوئیڈ کی یاد دلا دی۔

مگر جارج فلائیڈ خوش قسمت تھا کیونکہ اُسکی قوم کے لوگ زندہ تھے۔ جنہوں نے جارج فلوئیڈ کے لئے اپنا سب کچھ داؤ پر لگا دیا۔ بعد میں اس تحریک میں بھی کچھ فتنہ پرست شامل ہوئے مگر جو جارج کے انصاف کے لئے لڑ رہے تھے اُن کا مقصد صرف اتنا تھا کہ آئندہ مستقبل میں کوئی دوسرا جارج فلوئیڈ کی طرح قتل نہ ہو۔ اب کشمیری قوم کو طے کرنا ہے کہ کیا آیا مستقبل میں بھی ہمیں بشیر صاحب کی طرح بھیڑ بکریوں کی طرح شہید کیا جائے گا اور ہمارے بچوں کو عیاد بنایا جائے گا یا ہم نے جارج فلوئیڈ کو انصاف دلوانے والوں کی طرح کم ست کم اپنے حقوق کے لیئے مشترکہ لڑائی لڑنی ہے۔ کیونکہ اگر آج وہاں عیاد تھا تو کل ہم میں سے کسی کا بچہ ہو گا۔ اللہ ہمارے مستقبل پر رحم فرمائیں۔ آمین
کچھ دن تک آپ کے سامنے روزانہ انکاؤنٹرز کے پیچھے کے حقائق ، وجوہات اور عزائم پر اگلا مفصل آرٹیکل سامنے لاوں گی۔ جس میں کچھ ایسے انکشافات ہیں جو کہ آپ سب کو چونکا دیں گے کہ کیسے انڈین فورسز یہ روز کے انکاؤنٹرز میں کشمیری نوجوانوں کو شہید کر رہے ہیں اور اُنھیں کس طرح سے ٹریس کیا جا رہا ہے۔