مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج ایک قاتل فوج بن چکی ہے۔وزیراعظم آزاد کشمیرراجہ محمد فاروق حیدر خان

128 Views

مظفرآباد (پی آئی ڈی) یکم جولائی 2020
آزادجموں وکشمیر کے وزیراعظم راجہ محمد فاروق حیدر خان نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج ایک قاتل فوج بن چکی ہے۔سوشل میڈیا پر چلنے والی تصویر جس میں پوتا اپنے دادا کی لاش پر بیٹھا ہوا ہے جسے بھارتی فوج نے فائرنگ کر کے شہید کیا نے میرا دل چیر کر رکھ دیا ہے۔انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں اور اداروں سے کہتا ہوں کہ وہ کشمیریوں کے خلاف بھارت کی فوج کی انسانیت سوز کارروائیوں کا نوٹس لیں۔امریکہ،روس،فرانس،برطانیہ،جرمنی سمیت یورپی ممالک سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ کشمیریوں کی آواز کو سنیں بھارتی فوج ایک جارح فوج ہے جو کشمیریوں کی مسلسل نسل کشی کر رہی ہے۔بھارت کشمیر کی شناخت ختم کرنے اور مسلمانوں کی اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنے کے لیے ایک کے بعد دوسرا قدم اُٹھا رہا ہے۔مودی جو گجرات کے قصاب کے نام سے مشہور تھا اب کشمیر کا قصاب بن چکا ہے۔وزیراعظم نے ان خیالات کا اظہار اپنے خصوصی بیان میں کیا۔انہوں نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں نہتے شہریوں کو گولی مار کر شہید کر دیا جاتا ہے۔انہوں نے کہا جس دادا کی لاش پر اسکا پوتا بیٹھا ہوا ہے کیا اس پر عالمی ضمیر یوں ہی بے حس رہے گا۔انہوں نے کہا کہ اس سے زیادہ انسانیت کی تذلیل کیا ہو گی کہ بھارتی فوج اپنی بہیمانہ کارروائیوں کے دوران بچوں کے سامنے انکے پیاروں کو گولیوں سے بھون دیتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ نہتے کشمیریوں کے خلاف بھارت کے بڑھتے ہوے مظالم جنوبی ایشیاء کے امن کو نقصان پہنچائیں گے۔انہوں نے کہا ایک طرف بھارتی فوج کے مظالم جاری ہیں جبکہ دوسری جانب بھارتی حکومت ہزاروں کی تعداد میں غیر کشمیریوں کو ڈومیسائل جاری کر کے اقوام متحدہ کی قرادادوں کی مسلسل اور کھلم کھلا خلاف ورزی کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارتی فوج کی انسانیت سوز کارروائیوں سے کچھ بھی محفوظ نہیں ہے۔انہوں نے کہا تلاشی کی کارروائیوں،نام نہاد آپریشنز کی آڑ میں کشمیریوں کی املاک کو تباہ کرنے سمیت ان کے خاندانوں کو تہہ تیغ کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا مقبوضہ کشمیر ایک ایسی جیل بن چکا ہے جہاں کچھ بھی محفوظ نہیں ہے۔وزیراعظم نے انسانی حقوق کے عالمی اداروں سے اپیل کی کہ وہ کشمیریوں پر ہونے والے مظالم پر آنکھیں بند نہ کریں بلکہ اسکا نوٹس لیں اور بھارت کو ان مظالم سے روکنے کیلیے اپنا اثر ورسوخ استعمال کریں۔
٭٭٭٭٭


مظفرآباد (پی آئی ڈی) یکم جولائی 2020
وزیر اعظم آزادحکومت ریاست جموں وکشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان نے بدھ کے روز کشمیر ہسٹری میوزیم کا سنگ بنیاد رکھ دیا۔ منصوبے پر 23.958ملین روپے کی لاگت آئے گی۔ اس منصوبے کے تحت آزاد کشمیر کے ثقافتی ورثے کو محفوظ بنایا جائیگا۔ جبکہ کشمیر ی ثقافت کے لیے کام کرنے والوں کاو ڈیٹا بھی اس میوزیم کا حصہ ہوگا تاکہ آزاد کشمیر کی ثقافت، اسکے قدرتی حسن اور تاریخ کو اجاگر کیا جاسکے۔ میوزیم میں کشمیر کی تاریخ کے حوالہ سے مواد، کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال، قدیم عمارات، کشمیر ی فن تعمیر، خطاطی کے نمونوں، مندر، قلعے، پیالے اور مقبروں کے حوالہ سے مواد کی الگ الگ گیلری بنائی جائیں گی۔اس موقع پرچیئرمین وزیر اعظم معائنہ و عملدرآمد کمیشن زاہد امین، ایڈیشنل چیف سیکرٹری ترقیات ڈاکٹر سید آصف حسین، چیف سیکرٹری جنرل فرحت علی میر، پرنسپل سیکرٹری احسان خالد کیانی، سیکرٹری اطلاعات وسیاحت محترمہ مدحت شہزاد، سیکرٹری فزیکل پلاننگ و ہاؤسنگ منصور قادر ڈار، سیکرٹری تعلیم کالجز ظہیر الدین قریشی، سیکرٹری جموں وکشمیر لبریشن سیل عطا ء اللہ عطا، ڈائریکٹر جنرل تعلقات عامہ راجہ اظہر اقبال، ڈائریکٹر جنرل سیاحت ارشاد احمد پیرزادہ اور دیگر بھی موجود تھے۔
اس موقع پرمنعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان نے کہا کہ اس وقت ہندوستان کشمیریوں کی شناخت چھیننا چاہتا ہے۔ جموں وکشمیر، گلگت بلتستان، لداخ کشمیریت کی شناخت ہیں ہم نے اس شناخت کو تحفظ دینا ہے اور اسے دنیا بھر میں اجاگر کرنا ہے۔ وزیر اعظم آزاد کشمیر نے کہا کہ بیرون ملک آباد کشمیری، تاریخ کشمیر اور کشمیر ثقافت سے متعلق مواد اور معلومات فراہم کریں تاکہ اسے محفوظ بنایا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ لداخ کشمیر کا حصہ ہے۔میں اپنے جموں کے بھائیوں اور لداخ کے بھائیوں سے کہتا ہوں کہ اس کشمیریت کو قائم رکھیں ہندوستان آپ سے یہ شناخت چھیننا چاہتا ہے۔یہ آپ سب کی ذمہ داری ہے اس میں مسلمان، ہندوں اور سکھ بھی شامل ہیں یہ سب کی ذمہ داری ہے وہ اس کو قائم رکھیں۔ انشاء اللہ ریاست جموں وکشمیر کے لوگوں کو یہ حق ضرور ملے گاکہ وہ اپنے مستقل کا فیصلہ خود کریں۔ میں آزاد کشمیر کے لوگوں سے بھی یہ اپیل کرتا ہوں اور پاکستان میں مقیم کشمیریوں اور بیرون ملک آباد کشمیر یوں سے بھی کے جس کسی کے پاس کشمیر سے متعلق کوئی ہسٹری یا کوئی اور اس متعلق چیز ہے ہے وہ اس میوزیم میں رکھے آزاد جموں وکشمیر کی ہسٹری قدیم ترین ہسٹری ہے۔اس کے اندر سنٹرل ایشیاء کا بھی اثر ہے برصغیر ہندوپاک کا بھی اسکے اندر کئی مذاہب کا بھی اثر ہے۔انہوں نے کہا کہ لداخ کا یہ جو علاقہ بہت پرانا اور مشہور علاقہ ہے جس میں کئی لوگ نظر جمائے رکھتے تھے میں نے پڑھا ہے خلیفہ ہارون رشید بھی یہاں فوج کشی کرنا چاہتا تھا۔ ہندوستان مقبوضہ کشمیر میں نسل کشی کر رہا ہے اور ریاستی دہشت گردی کی انتہا کر رکھی ہے۔ پاکستان عالمی سطح پر ہندوستان کے مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں پر ظلم وستم سے باز رکھنے کے لئے کر دار ادا کرے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی میں بھی ہندوستان ملوث ہے۔ پاکستان ہندوستان کی سازشوں کو عالمی سطح پر بے نقاب کرے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ کشمیر متنازعہ علاقہ ہے۔ مسئلہ کشمیر کشمیری عوام کی امنگوں اور اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق ہی حل ہو سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ وہ دن دور نہیں جب کشمیری بھارت کے جبرو استبدادسے آزاد ہوں گے۔
٭٭٭٭٭