ریاست کو اپنے وسائل پرسمجھوتا نہیں کرناچاہیےاس معاملہ کو دوبارہ دیکھا جائے گانیلم جہلم پراجیکٹ کا بھی معاہدہ ہونا چاہیےوزیراعظم کابینہ اور ایوان میں کوہالہ پراجیکٹ والا معاہدہ لائیں یہ معاہدہ ریکارڈ کا حصہ ہونا چاہیے۔سینئر وزیر آزاد کشمیرچوہدری طارق فاروق کا اسمبلی اجلاس سے خطاب

106 Views

مظفرآباد(پی آئی ڈی)29جون 2020
آزاد جموں وکشمیر قانو ن ساز اسمبلی کا اجلاس پیر کے روز سپیکر شاہ غلام قادر کی زیر صدارت شروع ہوا۔ اجلاس میں نظر ثانی میزانیہ 2019-20، تخمینیہ میزانیہ 2020-21 و زائد میزانیہ 2018-19 پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے

سینئر وزیر چوہدری طارق فارو ق نے کہا کہ اللہ کے کرم، عوام کے اعتماد اور ہماری جماعت کی مہربانی سے حکومت میں آنے کا موقع ملا۔ نواز شریف کی شفقت اور مہربانی سے آزادکشمیر کے عوام کو اچھی حکومت ملی۔ انہوں نے کہا کہ دستیاب وسائل کو استعمال کرنے میں ہماری حکومت، انتظامیہ نے بہتر کردار ادا کیا۔ پاکستان سے محبت و تعلق قائم و دائم ہے۔ 5 اگست 2019 ء کے بعد ریاست جموں وکشمیر کس مقام پر کھڑی اور آزادکشمیر کس مقام پر کھڑی ہے یا پاکستان جن مشکلات کا شکار ہے؟ ان کا اثر مقبوضہ کشمیر پر پڑتا ہے۔ پاکستان میں اناؤں کے ٹکراؤ نے معیشت تباہ کر دی۔ پاکستان کے اکابرین کوہوش کے ناخن لینے چاہیے۔ ایک مضبوط و مستحکم پاکستان کشمیر یوں کی آزادی کا ضامن ہے۔ امید ہے قومی سلامتی پر نظر رکھنے والے ادارے مسئلہ کا حل نکالیں گے۔ کشمیریوں کو بے موت نہ مارا جا ئے۔



اوور سیز کشمیر ی آخری امید ہیں وہ بھی فکری انتشار کا شکار ہیں۔ ان کو دوبار ہ منظم کرنے کی ضرورت ہے۔ اس ضمن میں سپیکر صاحب آپ سمیت قائدین کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ہماری حکومت نے پچھلی حکومت نے جو غلطیاں کیں وہ نہیں دہرائی ۔چوہدری طارق فاروق نے کہا کہ پبلک سروس کمیشن اور این ٹی ایس جیسے اہم اقدامات حکومت کے کریڈٹ ہیں۔ ہمارے پاس ایک سال وقت ہے،مزید بہتری لا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پائیدار ترقی کے لئے ہم نواز شریف کے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے فنڈز مہیا کئے۔ اس سلسلہ میں ہمیں کامیابیاں بھی حاصل ہوئیں۔ احتساب اگر اپنے آپ سے شروع ہو تو اس کی کریڈیبیلٹی ہے ورنہ نہیں۔ حکومت نے انفراسٹریکچر کو بہتر بنانے اور رورل ڈویلپمنٹ میں اچھا کر دار ادا کیا۔ ہم نے لوگوں کے فائدے کے لئے کام کیا۔ افتخار آباد سے تاؤ بٹ تک ترقی ہوئی ہے۔ پاکستان کی موجودہ حکومت نے بھی فنڈز فراہمی میں تعطل نہیں آنے دیاجس پر اس کے شکر گزار ہیں۔ موجودہ حکومت نے نہ صرف اپنے شروع کئے گئے منصوبے مکمل کئے بلکہ سابق حکومت کے شروع کردہ منصوبے بھی مکمل کئے۔ قانون سازی جتنی اس حکومت نے کی ماضی میں مثال نہیں ملتی۔ اپوزیشن حکومت کا ایوان میں احتساب کرنے میں ناکام رہی۔ انہوں نے کہا کہ پائیدا ر ترقی کا کام اچھا ہوا۔برقیات میں اچھا کام ہوا۔ جیل خانہ جات کی عمارتوں کی تعمیر ہوئی۔ پچھلی حکومتوں کی طرح کسی ادارے کے اختیارات کم نہیں کئے۔ چاروں صوبوں اور جی بی سے ہماری حکومت کی کارکردگی بہت اچھی رہی اس لیے انہوں نے ہمارے ترقیاتی بجٹ میں کٹ نہیں لگایا۔ چودھوویں ترمیم پر انہوں نے کہا کہ جب تیرہویں ترمیم پاس ہوئی تو لوگوں کا خیال تھا کہ ایسا نہیں ہو گا،یہ تیرہویں ترمیم ہوئی۔ آئین میں ترامیم ارتقائی عمل ہے اس عمل کو آپ روک نہیں سکتے۔ کمی بیشی کو دور کرنا پڑتا ہے۔ یہ کام ابھی ”سم اپ“ نہیں ہوا۔ حکومت جب اپنے طور پر فیصلہ کر لیتی ہے تو اپوزیشن سے مشورہ کرتی ہے۔ حکومت کا اختیار اپوزیشن کو نہیں مل سکتا۔ ہماری حکومت نے تیرہویں ترمیم کا بڑا فیصلہ کیا۔ اب آزادکشمیر کے اندر عوام پر یقین ہے کہ ہمیں پھر منتخب کریں گے۔ سیاست ڈائیلاگ کا نام ہے انا کا نام نہیں ہے۔ جب چودھویں ترمیم ڈرافٹ آئے گا تو ہم اس کو اسمبلی میں لائیں گے۔ اپوزیشن آکر خود کوئی ترمیم کروانا چاہتی ہے تو لے آئے۔ اس حوالہ سے سوشل میڈیا پر باتیں غیر مناسب ہیں۔ عوام کو یقین دلاتے ہیں کہ آپ کی بھلائی اور ملک کے مفاد میں فیصلہ کیا جائے گا۔ بجٹ میں خسارہ نہیں، آمدنی بہتر ہے۔ ریاست کو اپنے وسائل پر سمجھوتا نہیں کرناچاہیے۔ اس معاملہ کو دوبارہ دیکھا جائے گا۔ نیلم جہلم پراجیکٹ کا بھی معاہدہ ہونا چاہیے۔ قائد ایوان کابینہ اور ایوان میں کوہالہ پراجیکٹ والا معاہدہ لائیں۔ یہ معاہدہ ریکارڈ کا حصہ ہونا چاہیے۔ ٹرپل ایم روڈ نہیں بن پائی یہ سی پیک کا حصہ تھی۔ ہمارے وسائل پاکستان کے لیے حاضر ہیں،ٹریفک دو طرفہ چلنی چاہیے۔ سی پیک کے منصوبے دوبارہ مرکزی حکومت میں اٹھانے چاہیے۔ ہم سب وزیراعظم کے ساتھ ہیں امید ہے اپوزیشن بھی ساتھ دے گی۔ ملازمین کی تنخواہیں اور پینشن میں اضافہ ہونا چاہیے۔ ایڈہاک،کنٹریکٹ اور آئی ٹی کے ملازمین کے معاملات ٹھیک ہونے چاہیے۔ میرٹ ہر ادارے میں حاوی ہوناچاہیے اس سلسلہ میں یونیفارم پالیسی ہونی چاہیے۔ جن لوگوں کے حقوق بنتے ہیں ان کو ملنے چاہیے۔ امید ہے کہ میری باتوں کو مثبت لیا جائے گا۔ اپوزیشن سے گزارش ہے کہ بجٹ پاس کرانے میں ہمارا ساتھ دے۔
ممبر اسمبلی/ڈپٹی سپیکر سردار عامر الطاف نے کہا کہ موجودہ حکومت کا سب سے بڑا کام این ٹی ایس کا نفاذ تھا اس سلسلہ میں وزیر اعظم راجہ محمد فاروق حیدر خان اور وزیر تعلیم بیرسٹر افتخار گیلانی کااہم کردار ہے۔ آج بغیر سفارش اور بغیر رشوت غریب کے بیٹے کو بھی میرٹ پر نوکری ملتی ہے۔ پبلک سروس کمیشن سے سیاسی مداخلت ختم کرنا بھی حکومت کا اہم کارنامہ ہے۔ ایوان سے ختم نبوت بل کا منظور ہونا بھی بڑا کارنامہ ہے۔ بچوں پر زیادتی کا بل بھی اہم قانون سازی ہے۔ تیرہویں ترمیم پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت کا سب سے بڑا کارنامہ ہے اس ترمیم سے آزادکشمیر کا تشخص بحال ہوا۔ مسئلہ کشمیر کے حوالے صدر، وزیر اعظم اورسیپکر کی کوششوں سے اس سے مسئلہ کو عالمی سطح پر عمدگی سے اجاگر کیا گیا۔ وہ وقت جلد آنے والا ہے جب مقبوضہ کشمیر آزاد ہو کر پاکستان کا حصہ بنے گا۔ممبر اسمبلی محترمہ نسیمہ خاتون نے کہا کہ بہترین بجٹ پر اپنی حکومت کو مبارکباد پیش کرتی ہوں۔ کرونا کے پھیلاو کو روکنے میں حکومت نے احسن اقدامات اٹھائے۔ مہاجرین آزادکشمیر کے مسائل کو بھی ایڈریس کیا جانا چاہیے تھا۔ ان کوروزگار، تعلیم اور صحت کی سہولیات کی فراہمی کے لیے مزید فنڈز مختص کیے جائیں۔ مہاجرین 1989 ء کے لیے اسمبلی میں خصوصی نشست مختص کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ سابق وزیراعظم پاکستان نواز شریف کے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے ہمارا ترقیاتی بجٹ دوگنا کیا۔
وزیر قانون و پارلیمانی امور سردار فاروق احمد طاہر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سب سے پہلے وزیر خزانہ کو مبارکباد دینا چاہتا ہوں کہ ایک بہترین بجٹ پیش کیا۔ یہ بجٹ دستیاب وسائل میں بہترین بجٹ ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کے عوام ہندوستان کے جبر کے خلاف دلیری سے لڑ رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی قربانیاں کو رائیگاں نہیں جانے دے گا۔ خدا کرے ریاست کے مسلمانوں کو حق خودارادیت ملے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ میرا آزادکشمیر کے پارلیمانی سسٹم سے بہت دیرینہ تعلق رہا ہے۔ ہمارے پبلک سروس کمیشن پر عوام نے اعتماد کا اظہار کیا جس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ ہماری حکومت کا بڑا اقدام ہے۔ این ٹی ایس پر اسی طرح اعتماد کا اظہار کیا گیا۔ ترقیاتی بجٹ 24 ارب سے زائد تک لے جانے پر قائد مسلم لیگ محمد نواز شریف اور قائد ایوان راجہ محمد فاروق حیدر خان کے شکر گزار ہیں۔ ایکٹ 70 ہماری طویل سیاسی جدوجہد کے نتیجہ میں ملا۔ماضی میں بہت سے قائدین ایوان نے کشمیر کونسل کے اختیارات واپس حاصل کرنے کی کوشش کی مگر یہ اعزاز اس اسمبلی کو ملا کہ حکومت آزادکشمیر کو بااختیار بنایا۔ ہماری حکوت میں ختم نبوت بل پاس ہوا۔ انہوں نے کہا کہ 100 سے لگ بھگ مسودات اسمبلی میں لائے، 95 مسودات منظور ہو چکے،5 کے قریب زیر کارہیں۔ سیز فائر لائن پر شہادتوں اور زخمیوں کے حوالے سے قانون میں ترمیم کی گئی اور مالی امداد میں اضافہ کیا گیا۔شہداء کی فیملی کی کفالت کا سلسلہ شروع کیا گیا اور ماہانہ بنیادوں پر مالی امداد کا سلسلہ شروع کیا۔ ہیومن رائٹس کمیشن کا قانون بنایا گیا۔ احتساب ایکٹ میں ترمیم کی گئی۔ سوشل میڈیا کے حوالے سے سی پی سی میں ترمیم کر کے مادر پدر آزاد ی پر چیک قائم کیا۔ ناظرہ قرآن کی تعلیم کو لازمی قرار دیا۔ ٹور ازم کے فروغ کے لیے پالیسی ترتیب دی۔ چائلڈ لیبر کے حوالہ سے قانون سازی کی۔ نا بالغ بچوں سے زیادتی کے حوالے سے بھی قانون سازی کی۔ فیملی کورٹس میں اسامیاں مہیا کیں۔ عدلیہ میں اسامیاں مہیا کیں۔ 6 ہزار مقدمات کے فیصلے کیے۔ 24,670 مقدمات کا ہائیکورٹ سے فیصلہ ہوا۔ 6104 مقدمات کا سروس ٹریبونل سے فیصلے ہوئے۔
٭٭٭٭٭
مظفرآباد(پی آئی ڈی)29جون 2020
آزادجموں وکشمیر قانون ساز اسمبلی کے پیر کے روز ہونے والے اجلاس میں ایم ایل اے و سابق وزیر اعظم سردار اعتیق احمد خان کی طرف سے پیش کی گئی قرار داد اتفاق رائے سے منظور ہو گئی۔ قرارد اد کا متن یہ ہے۔ ”آزادجموں وکشمیر قانون ساز اسمبلی کا یہ اجلاس اہل بیت،اطہار، خلفائے راشدین، عشرہ مبشرہ اور جمیع صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین کے حسن کردار و عمل کو تمام امت مسلمہ کے لیے مشعل راہ اور ہدایت کا عمدہ نمونہ سمجھتا ہے۔ جن کا ہر قول و فعل، صدق و صفاء، اخلاق و وفا جسی صفات متصف ہے۔ جن کا نادر یقین اور اعتماد ہر دور کے نامساعد حالات میں ملت اسلامیہ کی رہنمائی کا بہترین ذریعہ رہا ہے۔ جن کے بارے میں نبی ﷺ کا ارشاد مبارکہ ہے ”حضرت ابو سعید حذری کہتے ہیں کہ رسول ﷺ نے فرمایا میرے صحابہ کرام کو گالی نہ دینا کہ ان کا مقام تو اتنا بلند ہے کہ اگر تم میں سے کوئی شخص احد پہاڑ کے برابر سونا صدقہ کرے تو صحابہ کرام کے آدھے مد کے برابر بھی نہ ہو گا“
اور پھر یہی وہ مقدس ہستیاں ہیں جو نبی کریم ﷺ اور امت کے درمیان رابطے کا ذریعہ بھی ہیں۔ اکثر مشاہدرے میں آیا ہے کہ چند زندیق و شرپسند عناصر موجود ہ دور میں فرقہ واریت کو ہوا دینے اور اتحاد بین المسلمین کو پارہ پارہ کرنے کے لیے مختلف طرح کے سازشی ہتکھنڈے استعمال کرنے میں مصروف ہیں۔یہی فتنہ پرور اور گمراہ کن عناصر ان مقدس اور عالی مقام ہستیوں (جن کا احترام ہمارا جزو ایمان ہے) کے خلاف گاہے بگا ہے ہزرہ سرائی کرتے ہوئے اپنے قلبی بغض کا اظہار کرتے ہیں۔ ان کی شان میں گستاخانہ، انتہائی گھٹیا اور توہین آمیز الفاظ کا استعمال کرتے ہیں۔ ان لعنتی، فاسق وفاجر عناصر کی یہ مفسدانہ و معاندانہ حرکات اور رویہ کھلی اسلام دشمنی ہے جس کو کوئی مسلمان برداشت نہیں کر سکتا۔
اجلاس کی رائے میں اتحاد بین المسلمین کے ساتھ ساتھ بین المذاہب ہم آہنگی کے لیے اقدامات ناگزیر ہیں۔ صرف اسی صورت میں دنیا میں مذہبی اور تہذیبی تصادم سے بچا جا سکتا ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ مسلمان ریاستیں اپنے ہاں عظمت انبیاء، عظمت اہل بیت اور عظمت صحابہ کرام کے لیے قانون سازی کریں اور مسلم امہ مل کے عالمی سطح پر عظمت انبیاء،عظمت اہل بیت اور عظمت صحابہ کرام کے لیے اپنی کوششیں یکجا کر دیں۔
OICاور دیگر مسلم تنظیمات ہا کو مل کر اس بات کے لیے کاوشیں یکجا کرنی چاہیں کہ خطبہ حجتہ الوداع جو قیامت تک تمام مذاہب، تمام ادیان، تمام انسانوں بلکہ تمام عالم انسانیت کی رہنمائی کے لیے ایک جامع اورمکمل دستور کی حیثیت رکھتا ہے، کو اقوام متحدہ کے چارٹر میں شامل کروائیں۔
آج کا یہ اجلاس معزز ایوان سے مطالبہ کرتا ہے کہ ان دشمنان اسلام کی منافقانہ چالوں کو اسلام اور شعائر اسلام کے خلاف کھلی سازش کا سختی سے نوٹس لیا جائے۔ ایوان ایسے عناصر کی رقیق و ارزل حرکات کو اسلام پر حملہ تصور کرتے ہوئے اس کی شدید مذمت کرتا ہے۔
آج کا یہ اجلاس ایوان سے مطالبہ کرتا ہے کہ ان مذموم حرکات کو روکنے کے لیے آزادکشمیر میں قانون سازی کی جائے تاکہ آزادکشمیر میں اتحاد بین المسلمین کو قائم رکھنے اور مضبوط تر کرنے کے لیے ایک نظام وجود میں آسکے اور اس مقدس مشن کے لیے کام کرنے والوں کو مزید تقویت حاصل ہو سکے۔
ظفرآباد(پی آئی ڈی)29جون 2020
آزادجموں وکشمیر قانون ساز اسمبلی کے پیر کے روز ہونے والے اجلاس میں سابق وزیر اعظم سردار عتیق احمد خان نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اس ایوان کو قرارداد ختم نبوت، نعت رسول کی قرارداد، خطبہ حجتہ الوداع کو انسانی حقوق کا حصہ بنانے کے لیے قرارداد منظور کرنے کا اعزاز حاصل ہے۔حکومت کے اچھے کام کی تعریف اور حمایت کرنی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ این ٹی ایس، بائیومیٹرک حکومت کے قابل تحسین اقدامات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مالی و انتظامی اختیارات آزادکشمیر حکومت کا حق ہے۔ آئینی اختیارات کے تحت کشمیر کونسل کو بحال کیا جائے۔ریاست جموں و کشمیر ناقابل تقسیم وحدت ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کی صورتحال بدترین ہے۔ آج سرینگر میں چین کے حق میں نعرے لگ رہے ہیں۔ سردار عتیق احمد خان نے کہا کہ کشمیر کی تحریک کو عالمی سطح پر منظم کرنے کرنے کی کوششیں کرنی چاہیےَ۔بھارت تمام سرحدوں پر بری طرح الجھا ہوا ہے۔ بھارت کا نظام دنیا بھر کے لیے خطرے کا سبب ہے۔مہاجرین جموں وکشمیر کے مسائل کو حل کرنے کی ضرورت ہے۔۔انہوں نے کہا کہ بجٹ ماضی کی کارکردگی، حال کی منصوبہ بندی کا عکاس ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ کرونا وباء کے حوالہ سے حکومت کے فیصلوں پر ساتھ دیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان نے LOC پر کمیونٹی بنکرز کے لیے رقم فراہم کی اس پروفاقی حکومت کے شکر گزار ہیں۔ احساس پروگرام میں توسیع اچھا اقدام ہے۔سردار عتیق احمد خان نے کہا کہ تمام تر مشکلات کے باوجود محکمہ مالیات اور PNDکے ملازمین نے بجٹ تیار کیا ان کی حوصلہ افرائی کی جائے۔ہم اداروں کو محترم اور مضبوط دیکھنا چاہتے ہیں۔تراڑکھل THQکے حوالہ سے عوام احتجاج کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ڈی ایچ کیو باغ میں ڈائیلائسز سینٹر کی سہولت مہیا کی جائے۔انہوں نے کہا کہ بشارت شہید روڈ سمیت دھیرکوٹ کی متعدد سڑکات کے مسائل بھی حل کیے جائیں۔
مظفرآباد(پی آئی ڈی)29جون 2020
ممبر اسمبلی و سابق وزیر اعظم بیرسٹر سلطان محمود نے آزادکشمیر کے نظر ثانی میزانیہ 2019-20،تخمینہ میزانیہ 2020-21، پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ آزادکشمیر کی داخلی خودمختیاری، تحریک آزادی کشمیر، ریاستی تشخص اور تعمیر وترقی کے لیے حکومت کے ساتھ چلنے کو تیار ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ رواداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپوزیشن کو ساتھ لے کر چلے۔انہوں نے کہا کہ بجٹ میں عوام کی فلاح وبہبود و ترقی اور عوامی نوعیت کے منصوبوں کو ترجیح دی جائے تاکہ بجٹ کا عام آدمی تک فائدہ پہنچ سکے۔ انہوں نے کہا کہ 5اگست سے مقبوضہ جموں وکشمیر میں مکمل لاک ڈاؤن ہے اوربھارت کی 9لاکھ فوج مقبوضہ کشمیر پر ظلم وستم کے پہاڑ ڈھا رہی ہے۔ نوجوانوں کو شہید کیا جا رہا ہے لیکن کشمیری عوام بھارتی ظلم کا دلیری سے مقابلہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں مل کر تحریک آزادی کے لیے جدوجہد کرنا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک کشمیر ی ہمارا اثاثہ ہیں۔ بیرون ملک کشمیریوں نے مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر زندہ رکھا ہوا ہے۔ بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے کہا کہ بیرون ملک کشمیریوں کو ووٹ کا حق ملنا چاہیے۔ انہوں نے کہ اکہ آزادکشمیر میں سیاحت اور ہائیڈرل کا بے پناہ پوٹینشل موجود ہے۔ حکومت کو سیاحت کی ترقی کے لیے خصوصی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے کہا کہ حکومت پاکستان کا 3ارب احساس پروگرام کے تحت دینے، بجلی میں ریلیف اور تاجروں کو ریلیف دینے پر شکر گزار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لائن آف کنٹرول پر رہنے والوں کے لیے ساڑھے تین ارب کے پیکج پر بھی ہم حکومت پاکستان کے شکر گزار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک کشمیریوں کو ووٹ کا حق دینے کے علاوہ بیرون ملک کشمیریوں کے لیے نشستوں میں اضافہ بھی کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ آزادکشمیر اسمبلی میں خواتین کی نشستوں میں بھی اضافہ کیا جائے۔ بیرسٹر سلطان محمو د چوہدری نے کہا کہ ہمیں اقتصادی طور پر مضبوط ہونا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ احتسابی عمل کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ آزادکشمیر میں انفراسٹرکچر کے استحکام اور دیگر چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے حکومت کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہیں۔
٭٭٭٭٭
مظفرآباد(پی آئی ڈی)29جون 2020
بجٹ پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے ممبر اسمبلی ماجد خان نے کہا کہ بجٹ میں عوامی نوعیت کے منصوبوں کے لیے فنڈز مختص کیے جائیں تاکہ عام آدمی تک بجٹ کے اثرات پہنچ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ لائن آف کنٹرول پر رہنے والے متاثرین کے لیے خصوصی پیکج دیا جائے۔ ریاست کے لوگوں کے حقوق کا تحفظ ہماری ذمہ داری ہے۔ ہم نے مل کر ریاست کے لوگوں کی فلاح وبہبود و خوشحالی کے لیے کام کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ممالک کشمیری ہمارا اثاثہ ہیں ان کو ووٹ کا حق دیا جائے۔ بیرون ملک آباد کشمیری مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کے لیے اہم کردار ادا کررہے ہیں۔
ممبر اسمبلی دیوان غلام محی الدین نے بجٹ پر عام بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ آزادکشمیر کے عوام،مہاجرین کے حقوق کی حفاظت اور فلاح کے لیے مل کر کام کریں گے۔ عوام کی خدمت اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارامقابلہ ایک مکار اور چالاک دشمن سے ہے اس لیے ہمیں متحداور متفق ہو کر بھارت جیسے دشمن کا مقابلہ کرنا ہے۔
٭٭٭٭٭٭