دریا بچاؤ تحریک نے کوہالہ ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کےمعاہدے کو مسترد کرتے ہوئے اس کیخلاف 6جولائی کو سینٹرل پریس کلب کے سامنے احتجاج کا اعلان کردیا

136 Views

مظفرآبا( )دریا بچاؤ تحریک نے کوہالہ ہائیڈرو پاؤر پراجیکٹ کےمعاہدے کو مسترد کرتے ہوئے اس کیخلاف 6جولائی کو سینٹرل پریس کلب کے سامنے احتجاج کا اعلان کردیا۔قانونی کارروائی کیلئے عدالت رجوع کرنیکا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔ گزشتہ روز دریا بچاؤ تحریک کے رہنماؤں راجہ امجد علی خان ایڈووکیٹ‘ شوکت نواز میر‘ افضال سلہریا‘ شاہد اعوان‘ سردار مظہر اللہ‘ وقار کاظمیایڈووکیٹ‘راجہ ابرار حسین ایڈووکیٹ‘ظہر میر‘ زاہد کاظمی‘ راجہ عمر‘ عباس قادری‘ خورشید مغل‘ ذوالقرنین جعفری‘ عامر یوسف زرگر‘ بشارت اعوان‘ ذیشان خلیل‘ عمران پنڈت‘ راجہ سرفراز‘ فیصل جمیل کشمیری‘شیخ راشداور دیگر نے پرمرکزی ایوان صحافت میں پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ اسلام آبادمیں ڈرامہ رچایا گیا۔ نام نہاد معاہدے کی کاپی ابھی تک نہیں مل سکی۔ دریا بچاؤ تحریک حال ہی میں ہونے والے کوہالہ ہائیڈرو پاؤر پراجیکٹ کے نام نہاد معاہدہ کو مظفرآباد کے عوام کیساتھ صریحاً دشمنی تصور کرتی ہے۔ اس معاہدے کو فوری پبلک کیا جائے۔ دریا بچاؤ کمیٹی آزادجموں کشمیر میں کسی بھی دریا کا رخ موڑنے کو فطرت اور یہاں کے لوگوں کیساتھ ظلم عظیم تصور کرتی ہے۔ یہ یہاں کے ماحول کے ساتھ حکومتی سرپرستی میں کھلواڑ ہے اور عوام دشمنی ہے۔ دریابچاؤ تحریک اپنے چارٹرپر سختی سے قائم ہے۔ ہم دریاؤں کے رخ کی تبدیلی کو غیر فطری اور غیر انسانی فعل سمجھتے ہیں اور فطرت کے ساتھ کھلواڑ کی اس خطے میں لینے والے لوگوں کا مستقبل تباہ کرنے کی کوشش تصور کرتے ہیں۔ ہم یہ مطالبہ کر چکے ہیں کہ نیلم جہلم ہائیڈرو پاؤر پراجیکٹ کیلئے ادارہ تحفظ ماحولیات کی جانب سے جاری کردہ مشروط عدم اعترا ض سرٹیفکیٹ پر مکمل اعتماد کیا جائے اور حکومت آزاد جموں وکشمیر کیساتھ بجلی کے تمام منصوبوں پر معاہدات کئے جائیں۔ دریا بچاؤ کمیٹی پن بجلی کے ان تمام منصوبوں کی حمایت کرتی ہے جو دریاؤں کا رخ تبدیل کئے بغیر بنائے جائیں گے۔ ہمارا یہ مطالبہ ہے رہا ہے کہ آزاد جموں وکشمیر کو بلا تعطل اور باشندگان مظفرآباد کو بلا قیمت بجلی فراہم کی جائے۔ دریائے نیلم میں 60فیصد پانی بہر صورت برقرار رکھا جائے۔ انہوں نے کہاکہ ہمارا مطالبہ رہا ہے کہ پن بجلی منصوبوں میں ہونے والی بے لگام کرپشن کا احتساب کیا جائے جس میں پورے پاکستان کی جیبوں پر بالعموم اور باشندگان آزادجموں وکشمیر کی جیبوں پر بالخصوص ڈاکہ ڈالا جارہاہے۔دریا بچاؤ کمیٹی نے پاکستان سینٹ اور قومی اسمبلی کے علاوہ آزادجموں وکشمیر کی تمام سیا سی جماعتوں کے قائدین کے سامنے اپنا موقف پیش کیا جسے نہ صرف تمام فورمز اور مقتدر شخصیات نے پذیرائی بخشی بلکہ کمیٹی کے تمام مطالبات کو جائز قرار دیا۔ آزادجموں وکشمیر ہائیکورٹ نے اپنے فیصلہ محررہ 15نومبر 2019میں واپڈا کو پابند کیا کہ وہ 4ماہ کے اندر حکومت آزادجموں وکشمیر کے ساتھ نیلم جہلم ہائیڈروپاؤر پراجیکٹ کا معاہد ہ کرے اور ادارہ تحفظ ماحولیات کی جانب سے پراجیکٹ کو جاری کئے گئے مشروط عدم اعتراض سرٹیفکیٹ پرعملدرآمد کو یقینی بنائے مگر واپڈا نے توہین عدالت کا مسلسل ارتکاب کرتے ہوئے کسی ایک بھی حکم پر عمل نہیں کیا۔دریا بچاؤ کمیٹی ہر حوالے سے قانونی کارروائی کیلئے عدالت سے رجوع کرے گی۔آزاد جموں وکشمیر واپڈا یا کسی چائینز کمپنی کی چراہ گاہ نہیں کہ جہاں قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے من مانیاں کی جائیں۔اگر آزادجموں کشمیر کی سیاسی قیادت اس تمام معاملے پر مجرمانہ خاموشی اختیار کئے ہوئے ہے تو دریا بچاؤکمیٹی خطے کے مستقبل کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک بار پھر بھرپور مزاحمت کا لائحہ عمل مرتب کرے گی اور شہریوں کو مظفرآبا د دشمنوں پر مطلع کرے گی۔ انہوں نے بتایا کہ اس حوالے سے پانچ جولائی 2020کو کمیٹی کا ایک بھرپور اجلاس کا اہتمام کرے گی جس کے اگلے روز 6جولائی 2020کو مظفرآباد شہر کو تباہ کرنے اور کوہالہ ہائیڈرو پاؤر پراجیکٹ کے نام نہاد معاہدہ کے خلاف سینٹرل پریس کلب میں احتجاج کیا جائے گا۔