ہٹیاں بالا کے مسائل

157 Views

تحریر۔محمد اسلم مرزا
ہر علاقے کے مسائل مختلف نوعیت کے ہوتے ہیں کچھ مسائل ایسے ہوتے ہیں جن سے عوام کا روزانہ کی بنیاد پرواسطہ پڑتا ہے اس کے لیے متحد ہوتے ہیں چیختے چلاتے ہیں کچھ مسائل ایسے ہوتے ہیں جن کا تعلق برائے راست عوام سے نہیں ہوتا عوام اپنی روزی روٹی کے چکر میں مصروف رہنے کی وجہ سےان مسائل کو ریاست کی زمہ داری سمجھ کرخود عہدہ برا ہو جاتے ہیں حقیقت میں ایسے مسائل خطرناک ہوتے ہیں جن کے نقصانات دیر سے ہوتے ہیں لیکن بڑے بھیانک ہوتے ہیں قارئین محترم ایسے ہی مسائل کو آج اجاگر کرنا ضروری سمجھتا ہوں جو مہنگائی کی ماری عوام کو نظر نہیں آتے
آزادکشمیر بلخصوص جہلم ویلی میں صحت کی سہولتوں کی اگر بات کی جائے تو انتہائی مایوس کن صورتحال ہے گذشتہ چار ماہ سے او پی ڈی بند ہے ایمبرجنسی میں مریضوں کو چیک کیا جارہا ہے 80 فیصد عوام موجودہ صورتحال میں محکمہ صحت سے نالاں ہیں بلخصوص تین لاکھ کی آبادی کے لیے قائم ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں گائناکالوجسٹ کی آسامی پر تعبیات خاتون سپشلسٹ ڈاکٹر کو ایمز مظفرآباد سے منسلک کردیا گیا وزیراعظم کے اپنے آبائی ضلع کی حالت زار یہ ہے کہ خواتین کے پیچیدہ مسائل کے حل کے لیے ایک بھی ڈاکٹر نہیں ہے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں کسی بھی طرح کے اپریشن نہیں ہورہے اپریشن تھیٹر غیر فعال ہوگیا ہے دوسرے الفاظ میں اگر یہ کہا جائے کہ اس ضلع کی عوام کو مجبور کردیا گیا ہے کہ وہ مائنر اپریشن کے لیے بھی دوسرے اضلاع جائیں تو غلط نہ ہوگا اپریشن تھیٹر کے غیر فعال ہونے کی وج Anaesthesia سپشلسٹ کی آسامی پر تعینات ڈاکٹرکو آئیسولیشن ہسپتال مظفرآباد میں ولٹینیٹر اپریٹر بنا دیا گیا
اس کے علاوہ ضلع کے مسائل پر اگر تذکرہ کیا جائے ملازمین کے مسائل میں اضافہ ہوتا جارہا ہے اس وقت پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن۔ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن۔پیرامیڈیکس ۔غیرجریدہ ملازمین۔ٹیچرز حضرات سراپا احتجاج ہیں ان میں کچھ تنظمیوں کی ہڑتال دوماہ سے جاری ہے اور کچھ نے علامتی ہڑتال شروع کررکھی ہے اگر یہاں ان تنظیموں میں سے صرف ینگ ڈاکٹرز کے چارٹر آف ڈیمانڈ پر بات کی جائے تو ان کے درجنوں مطالبات ہیں اور سارے کے سارے مطالبات انکے نزدیک درست اور حقائق پر مبنی ہیں لیکن یہاں میں صرف دو کا زکر کروں تو بات سب کی سمجھ میں جائے گئی کہ ڈاکٹرز کی ہڑتال زاتی فائدے کے لیے نہیں بلکہ اس میں عوام کو زیادہ فائدہ ہے مثال کے طور پر ینگ ڈاکٹرز کا ایک مطالبہ ہے کہ آپ دیہی ایریاز کے ہسپتالوں کو strenghten کریں پاکستان اور آزادکشمیر کے ہسپتالوں کا اگر تقابلی جائزہ لیا جائے تو پاکستان میں آر ایچ سی میں سات ڈاکٹر تعینات ہوتے ہیں جب کہ ہمارے ضلع جہلم ویلی کی اگر بات کی جائے تو بارہ آر ایچ سی یا بی ایچ یو میں سے آٹھ میں ڈاکٹرز نہیں ہیں ان میں آر ایچ سی کھلانہ۔چکاں۔جبڑا۔ریشیاں اور دیگر شامل ہیں اس لحاظ سے پاکستان سے ہم پچاس سال ابھی بھی پیچھے ہیں ایک انتہائی اہم بات ہمارے آزادکشمیر میں جب کوئی VVIP بیمار ہوتا ہے تو وہ پاکستان کے مہنگے ترین ہسپتالوں میں اپنا علاج کراتا ہے وہاں پر کشمیر ہاوس میں اپنا ٹھکانہ پکا کر لیتا ہے واپسی پر دس بیس لاکھ کے ووچرز محکمہ یا حکومت کو تھما دیتا ہے ہرسال سرکاری ملازمین کے علاج ومعالجہ پر حکومت آزادکشمیرکروڑ روپے پاکستان کے ہسپتالوں کو ادا کرتی ہے اور پیسہ عوام کے ٹیکسوں کا جمع شدہ ہوتا ہے عوام جو غریب بے بس اور بے کس تحصیل یا ضلع کے ہسپتالوں میں ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مر جاتے ہیں ان کا علاج کراتے کراتے ان کے گھر والے عمر بھر کے لیے مقروض ہوجاتے ہیں ہمارے سیاستدانوں یا بیوروکریٹس کے لیے ہنگامی ائیر ایمبولینس بھی میہا کی جاسکتی ہے لیکن ہم نے آج تک نہیں سنا کہ ریاست کا عام باشندہ جسے عوام میں شمار کیا جاتا ہو کھبی ائیر ایمبولینس پر سفر کر کے بروقت ہسپتال پہنچا ہو۔ہمارا مطالبہ یہ ہے کہ آزادکشمیر میں امراض قلب کا کوئی ایک ہسپتال نہیں بنایا جاسکتا جہاں آزادکشمیر کی عوام کا علاج ہوسکے اور کروڑوں روپے جو پاکستان کے ہسپتالوں کو دیے جاتے ہیں وہ کو بچایا جاسکے عوام الناس کو مساوی حقوق دینا ریاست کی زمہ داری میں شامل ہے لیکن عوام ان سہولیات سے محروم ہے ڈاکٹرز کا یہ مطالبہ بھی جائز ہے کہ انہیں پنجاب کے برابر مراعات مطلب تنخواہیں دی جائیں پنجاب میں جب ڈاکٹر بھرتی ہوتا ہے تو اسے بنیادی تنخواہ ایک لاکھ بیس ہزار روپے ادا کی جاتی ہے جب کہ آزادکشمیر میں ڈاکٹرز کو بنیادی تنخواہ ساٹھ ہزار روپے ملتی ہے ستم ظریفی کی حد بلکہ میں زاتی طور پر اسکو ظلم عظیم سمجھتا ہوں کہ کہ ایک ڈاکٹر ایف سی پی ایس کی چھ سالہ ڈگری حاصل کرے اور اسے ایم او بھرتی کیا جائے جیسے آزادکشمیر میں یورالوجسٹ ۔پتھالوجسٹ۔ای این ٹی ۔شعبہ پیڈز ۔گیسٹروالوجسٹ۔آرتھوپیڈکس۔جنرل سرجن اور دوسری بیماریوں میں سپشلائزنگ کرنے والے ڈاکٹرز ایم بی بی ایس ایم او کے برابر خدمات سرانجام دیں اور ان کا کوئی پرسان حال نہ ہو حکومت ان کے لیے آسامیوں کی تخلیق نہ کرے تو یہ پروفیشنل ڈاکٹرز دل برداشتہ ہوکرملک چھوڑ کر چلے جاتے ہیں۔ضلع ہٹیاں بالا میں دو تحصیلیں قائم ہیں ان میں تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال نہیں بن سکے چکار اور لیپہ کی عوام کے لیے آر ایچ سی ہسپتال ہیں جہاں صرف آمدآ۔نشتآ و برخاستآ ہوتا ہے ضلع جہلم ویلی میں موجودہ صورتحال میں سب سے بڑا اور خوفناک مسلہ منشیات کا استعمال ہے اس وقت جس تیزی کے ساتھ منشیات کا استعمال جاری ہے اگر اس کی روک تھام کے لیے موثر اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والے تین چار سالوں میں حکومت کو تمام بجٹ ہسپتالوں پر خرچ کرنا پڑے گا کیوں کہ پوری نوجوان نسل بیمار پڑ جائے گئی سماج دشمن عناصر نےمعاشرے کو کھوکھلا کر دیا ہے وہ نوجوان جو کھبی بہتر مستقبل کے خواب دیکھا کرتے تھےآج موت کے سودگروں نے انہیں ایسی لت لگا دی ہے کہ اب وہ منشیات کے لیے کسی حد تک جانے سے گریز نہیں کرتے۔لیکن اس تعفن زدہ ماحول میں جب سے پولیس ٹیم کے سپہ سالار ایس پی ریاض احمد مغل نے چارج سمبھالا ہے تو انہوں نے اپنی ترجیعات کا تعین کرتے ہوئے منشیات کے خاتمے کو اولین ترجیع قرار دیاہے اس کے لیے انہوں نے منشیات سپشل سکواڈ بھی تشکیل دیا ہے جس کے انچارج انتہائی ماہر چاک وچوبند نوجوان پولیس آفیسر ضیاءالسلام عباسی کو منتخب کیا جو سی آئی اے میں خدمات سرانجام دے رہے ہیں اس وقت ضلع میں ایس پی ریاض مغل۔ضیاءالسلام عباسی۔منظر حسین ۔تحسین قیوم سمیت دیگر پولیس کی بہترین ٹیم موجود ہے جنہوں نے دس دنوں کے اندر سات کلو چرس برآمد کی ہے اور چھوٹے جہازوں کو پابند سلاسل کیا ہے چھ کلو چرس والا ملزم ابھی پولیس کے ہتھے نہیں چڑھا لیکن اس کے گرد گھیرا تنگ ہے وہ جلد گرفتارہوگا اس کی گرفتاری کے بعد اہم انکشافات سامنے آئیں گئے جن کا شدت سے انتظار ہےریاض مغل ایس پی نے اپنی تعارفی نشست میں ماتحت عملہ کو بتا دیا ہے منشیات فروشوں کے کےساتھ رعایت برتنے والے اور روابط رکھنے والے اب گھر جائیں گئے منشیات فروش خواہ جتنے مرضی بااثر کیوں نہ ہوں ان کو عدالت کے کٹہرے میں لاکھڑا کروں گا
ماہ جون میں ضلع جہلم ویلی میں پہلے اکسٹھ کلومیٹر سڑکوں کی ایک فہرست منظر عام پر آئی بعدازاں ایک اور فہرست جس میں 75 کلومیٹر سڑکوں کی نکاسی اور پختگی کے لیے اربوں روپے مختص کیے جارہےہیں کارکنان دیکھاتے نظرآئے کوروناوائرس کی وباء میں جب چار ماہ میں بڑے بڑے ترقی یافتہ ملکوں نے اپنے اپنے بجٹ صحت کی سہولتوں کے لیے مختص کیے وہاں آزادکشمیر میں اربوں روپے سڑکات پر لگانے سے باشعور حلقے تذبذب کا شکار ہوئے ایک ایکسپرٹ کے مطابق ایک کلومیٹر پختہ سڑک کی تعمیر پر ڈیڑھ سے دوکروڑ روپے خرچ آتا ہے اگر کفایت شعاری کامظاہرہ کیا جاتا تو سڑکوں کے بجائے ضلع جہلم ویلی کے لیے پانچ دس کروڑ روپے مختص کردیے جاتے تو جہلم ویلی میں کورونا ٹیسٹنگ لیبارٹری کا قیام سمیت۔سٹی سکین مشین۔ڈائیلاسز مشین۔ڈیجٹل ایکسرے مشین۔درجنوں ولٹینیٹرز عوام کو میہا ہوسکتے تھے حکومتی وزراء کا موقف یہ ہے کہ ولٹینیٹر کے استعمال صرف Anaesthesia specialist ہی کرسکتا ہے کیاآزادکشمیر بھر میں ہرضلع کے لیے ایک ماہر دستیاب نہیں جو ولٹینیٹر کو استعمال میں لاسکے۔ویسے تو میری معلومات کے مطابق کورونا کا ٹیسٹ بھی ای این ٹی سپشلسٹ کےسوا کوئی نہیں کرسکتا تو پھر کیوں پیرامیڈیکس کوروناوائرس کا ٹیسٹ لے رہےہیں کیا آپ کے پاس ولٹینیٹرز کو استعمال کرنے والے ٹیکنیشن نہیں خدارا کسی کے مرنے کا انتظار مت کیجیے کیوں کہ جو آپ عدم دلچسبی کی وجہ سے مر گیا وہ کسی خاندان کے لیے سب کچھ ہوسکتا ہے