صاحبزادہ عبدالظاھر سجادہ نشین شنئ بالا کا سانحہ ارتحال

192 Views

مکتوب ھیٹاں بالا عبدالوحید کیانی
صاحبزادہ پیر محمد اسحاق نقشبندی(المعروف حضرت جی صاحب کے فرزند ارجمند سجادہ نشین صاحب ذادہ عبدالظاھر شنئی بالا ضلع مانسہرہ بھی داعی اجل کو لبیک کہہ گئے انھیں سفر آخرت پر روزانہ کرنے کے موقع پر سابق وفاقی وزیر برائے مذہبی امور سردار محمد یوسف کے علاوہ صوبائی وزرا مختلف سیاسی مذہبی جماعتوں سے تعلق رکھنے والی شخصیات اور مریدین سلسلہ نقشبندیہ عوام علاقہ کی بڑی تعداد موجود تھی تاریخ اسلام کے مطالعہ سے ظاہر ھوتا ھے کہ اسلام کی روشنی عرب سے عجم اور پوری دنیا کو منور کرنے نبی کریم صلی علیہ وسلم نے خطبہ حجتہ الوداع میں صحابہ کرام رض کو جو ذمہ داری سونپی اسے نبھاتے ھوئے انھوں نے دعوت تبلیغ کے لیے دنیا کے سفر کئے اور اپنی زندگیوں کو اتباع نبوی میں گزارتے ھوئے بطور نمونہ پیش کیا جن کی لاذوال قربانیوں کے تسلسل کو علمائے کرام صوفیا مشائخ نے جاری رکھا ہوا ہے سلسلہ نقشبندیہ سے تعلق رکھنے والے صاحبزادہ محمد اسحق نقشبندی کا شمار بھی ان ھی ھستیوں میں ھوتا ھے جنہوں نے اپنی ذندگی دعوت اسلام کی تبلیغ کے لیے وقف رکھی اور آذادکشمیر و پاکستان کے مختلف علاقوں میں شنئی بالا سے دور دراز علاقوں میں تبلیغی سفر ذندگی بھر کرتے رہے اور ان کی محنت کوشش سے فرذندان توحید کی بڑی تعداد ان کے ہاتھ پر بعیت ہو کر احکام الہی کی پیروی سنت نبوی صلی علیہ وسلم کے مطابق کرنے کی پابند ہوتی گئی مجھے اپنے برادر اکبر الحاج فیروز الدین مرحوم کے ساتھ حضرت جی کی خدمت میں حاضری کا بچپن میں موقع ملا 18 جنوری 1977 میں پیر محمد اسحاق نقشبندی المعروف حضرت جی صاحب دار الفانی سے دار البقا منتقل ہوئے تو ضلع ھٹیاں بالا کی مشہور درگاہ بنی حافظ سے تعلق رکھنے والے صاحبزادہ محمد اسحاق ظفر سابق صدر پی پی پی کے ھمراہ عرس کی تقریبات میں بھی شرکت کی ان کے داماد صاحبزادہ عبدالقیوم نے حضرت جی کے مریدین کے قلوب کو یاد الہی کی تعلیم و تربیت کا تسلسل جاری رکھا حضرت جی صاحب کے فرزند صاحبزادہ عبدالظاھر دینی و دنیاوی علوم کے حصول سے فراغت کے بعد محکمہ انکم ٹیکس میں خدمات سرانجام دینا شروع ہو گئے کمیشنر انکم ٹیکس کے عہدے سے مدت ملاذمت پوری کی تو صاحبزادہ عبدالقیوم سفر آخرت پر روانہ ہو گئے سلسلۂ نقشبندی کے اس خانوادے کی ذمہ دار ی صاحبزادہ عبدالظاھر کے کے کندھوں تک پحنچ گئی اپنے والد گرامی حضرت جی کے خدمت خلق ذکر الہی کے تسلسل کو برقرار رکھتے ھوئے دعوت و تبلیغ اور مہمان نوازی میں باقی زندگی وقف کر دی مانسہرہ سے ھزارہ یونیورسٹی سے ھوتے ھوئے ڈڈیال سے دائیں ہاتھ رابطہ سڑک پر چند کلیومیڑ کے فاصلے پر واقع شنئی بالا قبرستان میں آرام فرما حضرت جی کے مریدین کی آمد کے پیش نظر صاحبزادہ عبدالظاھر نے قریب ھی مہمان خانہ تعمیر کر اکر اس میں ھمہ وقت قیام شروع کر دیا جہاں ان کی آخری آرام گاہ بھی بنی مجھے اپنے برادرم محترم عبدالحمید کیانی کے ساتھ ان کا مہمان بننے کا موقع ملا تو صاحبزادہ عبدالظاھر رح نے نماز ظہر کی امامت کا شرف بخشاسادہ طرز ذندگی اعلی اخلاق کانمونہ صاحبزادہ عبدالظاھر بھی مہمان نوازی خدمت خلق کو مقصد حیات رکھا جس کے بعد کئی سالوں بعد آذادکشمیر کے سنیئر صحافی جیو نیوز مظفرآباد کے بیوروچیف محمد عارف عرفی کے سر محترم کے انتقال پر ان کے گھر شرف ملاقات ذندگی کی آخری ملاقات ثابت ھوئی حضرت پیر صاحب کے انتقال کی اطلاع خواجہ محمد مسعود پلاننگ چیف لوکل گورنمنٹ سے ملی تو ایک مرتبہ پھر برادر محترم عبدالحمید کیانی کی معیت میں شنئی بالا عازم سفر ھوئے نماز جنازہ میں سردار محمد یوسف سابق وفاقی وزیر برائے مذہبی امور سے ملاقات ھوئی تو انھوں نے اس خانوادے کی دینی خدمات کا اعتراف کیا صاحبزادہ عبدالظاھر کے پر نور چہرے کے دیدار نے ان کی دینی خدمات اور مہمان نوازی کا ثبوت بھی دیا دعا ہے اس کہ اس خانوادے کی ان عظیم ھستیوں کو جنت میں اعلی مقام حاصل نصیب ھو اور ھم اپنی زندگیوں کو احکام الہی اور سنت نبوی کے مطابق ڈھال کر حقیقی کامیابی حاصل کریں(آمین )(ثم آمین )