402 Views

سرینگر//کشمیر میں بیہائی گئی پاکستانی کشمیر کی خواتین نے سفری دستاویزات اور شہریت دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے پریس کالونی لالچوک میں خاموش احتجاج کیا۔ محفوظ راہداری کے دوران 2010 کے بعد سرحد پار سے سابق عسکریت پسندوں کے ہمراہ آئی خواتین گذشتہ روزپریس کالونی میں جمع ہوئیں اور خاموش احتجاج کرتے ہوئے ہند و پاک سربراہوں سے انہیں میکے جانے کی اجازت دینے کی اپیل کی۔



سرینگر سے شائع ہونے والے اردو روزنامے کشمیر عظمی کے مطابق احتجاجی خواتین میں شامل بارہمولہ میں بیاہی گئی ایک خاتون صوفیہ نے نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 2010میں سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کے دور حکومت میں محفوظ راہداری کی پالیسی کے اعلان کے بعد350 کے قریب پا کستانی کشمیر کی خواتین خاوندوں اور بچوں کے ساتھ کشمیر وارد ہوئیں تاہم یہاں آ نے کے بعد انہیں تمام شہر ی حقوق سے محر وم رکھا گیاہے۔ صوفیہ نے کہا کہ سفری دستا ویزات نہ ملنے کی وجہ سے وہ اپنے میکے نہیں جا پا رہی ہے اورکئی رشتہ دار فوت ہوئے لیکن وہ تعزیت کیلئے بھی نہیں جاسکی۔ ایک اورخاتون نے کہا’’سابق عسکریت پسند وں کو اسی طرح کی بازآبادکاری پالیسیوں کے تحت سہولیات فراہم کی جانی چاہئے جس طرح پنجاب اور شمال مشرقی ریاستوں کی حکومتوں نے اپنی ریاستوں کے سابق جنگجوئوں کے لئے دیں‘‘ ۔ احتجاجی خواتین نے مطالبہ کیاکہ انکے بچوں کو مفت تعلیم ، آسان داخلہ، حج اور عمرہ کیلئے پاسپورٹ کے علاوہ دیگرسہولیات بھی دئیے جائیں۔انہوں نے کہاکہ کشمیری نوجوانوں کے ساتھ شادی کرنے کے بعد نہ تو انہیں یہاں کی شہریت دی جاتی ہے اور نہ ہی پاکستان جانیکی اجازت ملتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ سرحد پار سے اُن سے ملنے کیلئے والدین ترس رہے ہیں لہذا اُنہیں بھی ویزا فراہم کیا جائے ۔

Avatar

By ajazmir