عجب مذاق ہے برپا میری سادگی کے ساتھ

130 Views

تحریر۔۔۔۔ سید افضال حسین ہمدانی
آزاد کشمیر بنیادی سہولتوں کے شدید ترین فقدان کا شکار خطہ اور جامعہ کشمیر کا آن لائن کلاسز و امتحان لینے کا عندیہ، جامعہ کشمیر مال بناو پالیسی سے اجتناب کرے۔ آزاد کشمیر میں 4 جی کے نام پر پہلے ہی موبائل کمپنیاں گھٹیا ترین سروس کے ساتھ کشمیریوں کی مجبوری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے انہیں دونوں ہاتھوں سے لوٹنے میں مصروف ہیں۔میں آن لائن امتحانات اور کلاسز تو تب ممکن ہوں گی جب کشمیر کے چپے چپے میں انٹرنیٹ سروس اپنی تمام ترسپیڈ کے ساتھ میسر ہو لیکن یہاں تو مختلف وجوہات کے نام پر نہ تو براوزنگ سپیڈ میسر ہے اور نہ سیز فائر لائن کی طویل ترین پٹی پر انٹر نیٹ کی سہولت اور نہ ہی ہر کس و ناکس کو انڈورائیڈ موبائل یا لیپ ٹاپ دستیاب ہے اور اس پر طُرہ یہ کہ روزانہ کی بنیاد پر گھنٹوں بجلی غائب اور کسی مضافاتی یا دیہی ایریا کا ٹرانسفارمر جل جائے تو ہفتوں تک تاریکیاں مقدر بنا دی جاتی ہیں۔ ایسے میں آن لائن کلاسز/ امتحانات محض دیوانے کا خواب ہی ہو سکتا ہے یا پھر کورونا سے مارے ہم بےروزگار اور پریشان حال والدین سے پیسہ بٹورنے کا آسان ترین ذریعہ۔
ہمارے بچوں کو کہا گیا ہے کہ وہ کتابوں سے دیکھ کر امتحانی پرچہ جات حل کریں اور انکی تصویر بنا کر متعلقہ پروفیسر کو وٹس اپ کریں۔ اس سے بھی جامعہ کے تعلیمی معیار کی نسبت، کرتا دھرتا ذمہ داران کی سنجیدگی کا بخوبی ادارک ہوتا ہے ۔
لہذا ہم والدین اس طرز عمل کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے یہ بتانا چاہتے ہیں کہ بچوں کے مستقبل کے ساتھ کسی بھی قسم کی ناانصافی قابل برداشت نہیں ہوگی.
اس سوال کا جواب کون دے گا کہ جو طلبہ و طالبات انٹرنیٹ کی سہولت سے محروم ہوں گے, یا دوران امتحان / پرچہ….. انٹرنیٹ /بجلی ساتھ چھوڑ دے تو ایسی صورت میں کیا لائحہ عمل مرتب کیا جائے گا ؟؟
ہم اعلیٰ سطحی وڈیو کانفرنسوں میں انٹرنیٹ منقطع ہو جانا روزانہ کی بنیاد پر دیکھتے ہیں.
کالز کٹ جاتی ہیں.
ویڈیو نظام بیٹھ جاتا ہے.
سگنل منقطع ہو جاتے ہیں.
کہیں بجلی منقطع ہونے پر انٹرنیٹ کام کرنا چھوڑ جاتا ہے.
کہیں رفتار دم توڑ جاتی ہے.
ان حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ کیا جائے.
اس سے بہتر صورت یہ ہے کہ اگلے سمسٹر میں درجہ بندی کی جائے. اور تعلیمی نظام مکمل بحال ہونے پر کمی دور کی جائے.
ورنہ مسائل پیدا ہوں گے اور طلبہ و طالبات کا قیمتی وقت مزید برباد ہو گا.
“شاید کے ترے دل میں اتر جائے مری بات”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ افضالیات ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔