یادرفتگاں مرزا اکرم حسین بیگ

139 Views

یادرفتگاں
مرزا اکرم حسین بیگ
زندگی کچھ ایسے لوگ ہوتے ہیں جو رونق محفل ہوتے ہیں،جن میں مدد کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھر ا ہوتا ہے،معاشرے میں ایسے لوگ نایاب ہوتے ہیں،ان کو اپنی تکلیف کا احساس کم ہوتا ہے یہ خود تکلیف برداشت کرلیتے ہیں لیکن دوسروں کو تکلیف میں دیکھنا گوارا نہیں کرتے،یہ انسانیت کی خدمت کے جذبہ سے سرشار ہوتے ہیں۔
ایسے نایاب لوگوں میں مرزا اکرم حسین بیگ بھی تھے جوبھارتی مقبوضہ جموں کشمیر سے ہجرت کرکے نکیال آئے۔
 مرزا اکرم حسین بیگ 1965ءسے قبل بھارتی مقبوضہ جموں کشمیر میں محکمہ تعمیرات عامہ میں ملازم تھے،انھوں نے اس محکمہ کو چھوڑا اور حریت پسندوں کی خدمت میں مصروف ہوگئے،ان کے بھائی کالا خان اور بہنوئی سردار علی خان نے پیر کلاوہ پہاڑی پر نائیک سیف علی خان نشان حیدر کے ساتھ ملکر بھارتی فوج کا مقابلہ کرتے جام شہادت نوش کیا۔
جس کی کمانڈ کرنل ہدایت خان کررہے تھے،جنھوں نے راجوری کے قریب دھرمسال کے مقام پر بھارتی فوج کے بریگیڈ کا حملہ روکا،جسکی کمانڈ بھارتی فوج کا افسر عثمان کررہا تھا،وہ ہجرت کرنے والے مسلمانوں کی مدد کررہا تھا اسے اس پاداش میں بھارتی فوج نے شہید کردیا تھا۔
1965ءمجاہدین مقبوضہ جموں کشمیر میں گئے تو ان کو پناہ اور کھانا اور
 اشیائے خوردونوش دینے کے لیے مرزا اکرم بیگ پیش پیش رہے، 1965 اور 1971ء کی جنگوں میں بطور رضاکار بھرپور حصہ لیا،1971ء کی جنگ میں زخمی بھی ہوئے۔
انھوں نے سینکڑوں رضاکار بھرتی کیے، جنھوں نے تھنا منڈی اور دھیرہ گلی میں مختلفنرکاوٹیں حائل کرکے دشمن کی سرگرمیوں کو ناکام بنایا۔
بھارتی فوج ان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارنا شروع ہوگئی یہ ہجرت کرکے آزادجموں کشمیر آگئے، ہندوستانی فوج نے ان کے گھروں کو آگ لگادی،جائیدداد کھیت سب کچھ تباہ کردیا۔
مرزا اکرم بیگ نے اپنی زندگی میں متعدد فوجی افسران جنھوں نے ان کی خدمات بطور رضاکار اعتراف کیا کو متعدد بار تحریکیں کیں لیکن آج تک ان کی جانب کوئی توجہ دی جاسکی،اس وقت کے چیف آف آرمی سٹاف جنرل ضیاءالحق نے پنشن کا عمل شروع کیا۔بعینہ ان کو جنرل آصف جنجوعہ نے دوکنال پلاٹ الاٹ کرنے کی حکام کو ہدایت کی لیکن انھیں الاٹمنٹس نہ ہوسکین۔
ان لوگوں نے اپنے گھر بار چھوڑے جائیدادیں سب کچھ قربان کیا،مرزا اکرم بیگ اور ان کا خاندان نکیال میں محلہ بیگ میں رہائش پذیر ہے۔
ہونا تو یہ چاہیےمرزا اکرم بیگ سمیت جن رضاکاروں نے مجاہدین اور پاکستان آرمی کے ہمراہ شانہ بشانہ جنگیں لڑیں اور خدمات دیں ان کا بدل دیا جاتا۔
مرزا اکرم حسین بیگ اپنی زندگی کے ایام وطن عزیز کی آزادی کی ادھوری حسرت لیے فالج کے عارضے میں مبتلا ہوکر 20 جنوری2020ءکو خالق حقیقی سے جاملے۔
اللہ کریم ان کے درجات کو بلند فرمائے ان کے بیٹے مرزا کبیر بیگ،مرزا اختر حسین بیگ،مرزا منیر حسین بیگ کو صبر جمیل اور اس پہ اجر عظیم سے نوازے۔ہم دعا گو ہیں کہ اللہ کریم ہمارے وطن عزیز کو دولت آزادی سے سرفراز فرمائے تاکہ دونوں اطراف کے کشمیری باہم مل سکیں۔