اسلام آباد: تنخواہوں اور پنشن میں اضافے کے بغیر تین ہزار چار سو سینتیس ارب خسارے کا بجٹ پیش کر دیا گیا

210 Views

اسلام آباد: تنخواہوں اور پنشن میں اضافے کے بغیر تین ہزار چار سو سینتیس ارب خسارے کا بجٹ پیش، وفاقی میزانیے کا حجم سات ہزار دو سو چورانوے ارب، کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا۔ نئے مالی سال کے دوران وفاقی اخراجات کا کل تخمینہ سات ہزار ایک سو سینتس ارب، دو ہزار دو سو تئیس ارب روپے کے غیر ملکی قرضے حاصل کیے جائیں گے۔ وفاقی وزارتوں کے لیے چار سو چھہتر ارب مختص، این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبوں کو دو ہزار آٹھ سو چوہتر ارب روپے ملیں گے۔ پنشن کی ادائیگی کے لیے چار سو ستر ارب اور سبسڈیز کے لیے دو سو دس ارب کا بجٹ پیش کیا گیا۔جی ڈی پی گروتھ دو اعشاریہ ایک، کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ ایک اعشاریہ چھ اور مہنگائی کی شرح ساڑھے چھ فیصد پر لانے کا ہدف، معاشی ترقی کا ہدف دو اعشاریہ ایک فیصد مقرر، براہ راست بیرونی سرمایہ کاری میں پچیس فیصد تک اضافے کا ٹارگٹ رکھا گیا ہےوفاقی بجٹ میں بچوں کا درآمدی دودھ سستا، ربڑ، سیمنٹ، موبائل فون سستے، مہنگا، سگریٹ اور سگار پر ٹیکس پینسٹھ سے بڑھا کر 100 فیصد کرنے کا اعلان کر دیا گیا ہے۔سبسڈیز کی مد میں دو سو نو ارب مختص کر دیئے گئے ہیں۔ انفراسٹرکچر کی بہتری پر تین سو چونسٹھ ارب اور توانائی منصوبوں پر 80 ارب خرچ کیے جائیں گے۔ صاف پانی کے لیے ستر ارب، ٹرانسپورٹ اور کمیونیکشن کی بہتری کے لیے ایک سو اناسی ارب کا بجٹ مختص، ایوی ایشن ڈویژن کو ایک ارب بتیس کروڑ اور وزارت آئی ٹی کو چھ ارب سڑسٹھ کروڑ کی گرانٹس دی جائیں گی۔بجٹ میں زرعی شعبے کی ترقی کا ہدف دو اعشاریہ نو فیصد مقرر کیا گیا ہے۔ ٹڈی دل کی روک تھام کے لیے دس ارب مختص، صنعتی شعبے میں نمو کا ہدف صفر اعشاریہ ایک فیصد رکھنے کا اعلان، مقامی صعنتوں پر ڈیوٹی بارہ سے کم کرکے چھ فیصد کر دی گئی۔ ہوٹلز کیلئے چھ ماہ کے لیے ٹیکس کی شرح اعشاریہ پانچ فیصد کرنے کا اعلان جبکہ غیر منقولہ جائیداد کی فروخت سے حاصل منافع ٹیکس سے مستشنیٰ قرار دیدیا گیا۔حماد اظہر نے بجٹ تقریر کے دوران اعلان کیا کہ احساس پروگرام اگلے مالی سال بھی جاری رہے گا۔ نئے بجٹ میں دو سو آٹھ ارب روپے مختص، نیا پاکستان ہاؤسنگ کے لیے تیس ارب جبکہ ریلوے کے لیے چالیس ارب مختص کیے گئے ہیں۔ آمدن کا تخمینہ چھ ہزار پانچ سو تہتر ارب، ترقیاتی پروگرام کے لیے ایک ہزار تین سو چوبیس ارب، دفاع کے لیے ایک ہزار دو سو نواسی ارب روپے مختص، ٹیکس وصولیوں کا ہدف چار ہزار نو سو تریسٹھ جبکہ نان ٹیکس ریونیو ٹارگٹ ایک ہزار چھ سو دس ارب روپے مقرر کر دیا گیا۔ وفاقی وزیر صنعت وپیداوار حماد اظہر کا وفاقی بجٹ پیش کرتے ہوئے کہنا تھا کہ تحریک انصاف کا دوسرا سالانہ بجٹ پیش کرنا میرے لیے اعزاز کی بات ہے۔ اسے وبا کے باعث مشکلات کو مدنظر رکھ کر بنایا گیا ہے۔حماد اظہر کا کہنا تھا کہ گزشتہ دو سالوں کے دوران کرپشن کا خاتمہ، سرکاری اداروں میں شفافیت اور احتساب کا عمل جاری ہے۔ مطلوبہ اہداف کے حصول کے لیے عوام کے تعاون کی ضرورت ہے۔ دو سال کے دوران کرپشن کا خاتمہ اور احتساب رہنما اصول رہے۔ بی آئی ایس پی میں 8 لاکھ سے زائد جعلی افراد کو نکالا گیا۔حماد اظہر نے بجٹ تقریر میں کہا کہ شرح نمو میں بہتری کے لیے ہر ممکن اقدام کیے۔ اقتدار سنبھالا تو ملک معاشی بحران کا شکار تھا۔ تجارتی خسارہ 32 ارب تک پہنچ چکا تھا۔ ہم سے پہلے پانچ سال میں برآمدات میں کوئی اضافہ نہیں ہوا تھا۔ جاری کھاتوں کا خسارہ 20 ارب ڈالر کی انتہائی سطح پر تھا۔ ماضی میں سٹیٹ بینک سے بے تحاشا قرض لیے گئے جبکہ منی لانڈرنگ کی روک تھام کے لیے ماضی میں کوئی انتظام نہیں کیا گیا۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی مصنوعات کو عالمی منڈیوں میں متعارف کرانے کے لیے ’’میڈ ان پاکستان‘‘ پروگرام شروع کیا۔ گزشتہ مالی سال میں کوئی ضمنی گرانٹ نہیں دی گئی۔ سرکاری اداروں میں بہتری کے لیے بنیادی ڈھانچے میں اصلاحات کی گئیں۔ بلوم برگ نے پاکستان سٹاک ایکسچینج کو 10 بہترین مارکیٹ میں شامل کیا۔ اصلاحاتی پروگرام پر آئی ایم ایف نے 6 ارب ڈالر کی اضافی منظوری دی۔ مالی اہداف کو حاصل کرنے کے لیے اہم معاشی اصلاحات کیں۔انہوں نے کہا کہ معیشت کے استحکام کے لیے جو محنت کی اسے کورونا وائرس کی وجہ سے شدید دھچکا لگا۔ بدقسمتی سے اس وبا نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ طویل لاک ڈاؤن کے ذریعے معاشی سرگرمیاں ماند پڑ گئیں۔ کورونا کی وجہ سے تمام صعنتیں اور کاروبار بری طرح متاثر ہوئے۔ حکومت نے کمزور طبقے کے لیے 1200 ارب کا پیکج دیا جبکہ طبی شعبے کیلئے 75 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ کاروبار میں آسانی کے لیے خصوصی اقدامات کیے گئے۔ وزیراعظم نے چھوٹے تاجروں کو خصوصی پیکج دیا۔ تعمیراتی شعبے کو تاریخی مراعات دیتے ہوئے ود ہولڈنگ ٹیکس میں چھوٹ اور اسے صعنت کا درجہ دیا گیاحکومتی اصلاحات بارے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پنشن کے نظام کو جدید بنانے سے 20 ارب کی بچت ہوگی۔ نجکاری کے عمل سے حکومت کے غیر پیداواری بوجھ کو کم کیا جا سکے گا۔ آسان کاروبار میں اصلاحات میں عالمی ریکنگ 136 سے 106 پر آ گئی۔ پٹرولیم مصنوعات میں کمی کرکے عوام کو 70 ارب روپے کا ریلیف دیا گیا۔ طویل مدتی قرضوں کے حصول میں آسانی پیدا کی گئی۔ بینکوں کو 800 ارب قرض دینے کی اجازت دی گئی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ کفایت شعاری اور غیر ضروری اخراجات میں کمی یقینی بنائی جائے گی۔ افواج پاکستان کے مشکور ہیں جس نے کفایت شعاری مہم میں بھرپور تعاون کیا۔ کمزور طبقے کے لیے احساس پروگرام کے تحت مالی معاونت کا سلسلہ جاری رہے گا۔ ٹڈی دل کی روک تھام کے لیے 10 ارب روپے رکھے گئے۔ آئندہ مالی سال کا بجٹ وبا کی بحرانی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تشکیل دیا گیا۔ 200 ارب روپے روزانہ اجرت کمانے والوں کو دیئے گئے ہیں۔وفاقی وزیر نے کہا کہ عوام کو ریلیف پہنچانے کے لیے کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا جا رہا۔ کورونا کے تدارک کے لیے 12 سو ارب روپے سے زائد کے پیکج کی منظوری دی گئی ہے۔ مجموعی طور پر 875 ارب روپے کی رقم وفاقی بجٹ میں رکھی گئی ہے۔ اس کے علاوہ طبی آلات کی خریداری کے لیے 71 ارب روپے، غریب خاندانوں کے لیے 150 ارب، یمرجنسی فنڈ کے لیے 100 ارب روپے، آزاد جموں کشمیر کے لیے 55 ارب، گلگت بلتستان کے لیے 32 ارب، خیبر پختونخوا میں ضم اضلاع کے لیے 56 ارب، سندھ کے لیے 19 ارب مختص جبکہ بلوچستان کے لیے 10 ارب کی خصوصی گرانٹ رکھی گئی ہے۔انہوں نے بتایا کہ آبی وسائل کے لیے مجموعی طور پر 69 ارب روپے، خوراک وزراعت کے لیے 12 ارب روپے، موسمیاتی تبدیلی سے متعلق اقدامات کیلئے 6 ارب روپے، سائنس و ٹیکنالوجی کے لیے 20 ارب روپے، قومی شاہراہوں کے لیے 118 ارب روپے، شعبہ صحت کے لیے 20 ارب روپے اور تعلیم کے لیے 30 ارب روپے مختص کی گئے ہیں۔عام دکانداروں سے سیلز ٹیکس کی شرح 12 فیصد کی تجویز ہے۔ درآمدی سگریٹ اور تمباکو پر ڈیوٹی 65 فیصد سے بڑھا کر 100 فیصد مقرر کر دی گئی ہے۔ شناختی کارڈ کے بغیر خریداری کی حد 50 ہزار سے بڑھا کر ایک لاکھ روپے کرنے کی تجویز ہے جبکہ کورونا اور کینسر کی تشخیص کے آلات کی درآمد پر ڈیوٹی معاف کر دی گئی ہے۔ کیفین والی مشروبات پر شرح 13 فیصد سے بڑھا کر 25 فیصد جبکہ ڈبل کیبن گاڑیوں پر بھی ٹیکس کی شرح بڑھا دی گئی ہے۔آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ میں وزارت صحت کیلئے مجموعی طور پر چودہ ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ پمز میں دو سو بیڈ پر مشتمل حادثات اور ایمرجنسی سینٹر بنانے کا منصوبہ، کوئٹہ میں الرجی سینٹر اور اسلام آباد میں دو سو بیڈز پر مشتمل ہسپتال کی تعمیر کا منصوبہ، وزیراعظم کے پروگرام صحت سہولت پروگرام کیلئے چار ارب روپے، ای پی آئی پروگرام کیلئے دو ارب بیس کروڑ روپے، آزاد کشمیر، گلگت بلتستان میں بہبود آبادی، ہیپاٹائٹس اور ٹی بی پروگراموں کیلئے فنڈز مختص کرنیکی تجویز دی گئی ہے۔نئے بجٹ میں 94 جاری منصوبوں کیلئے ساڑھے چوبیس ارب روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ ایچ ای سی کیلیے پانچ ارب روپے مالیت کے 23 نئے منصوبے، 15.8 کروڑ روپے مالیت کا پاک یو کے نالج گیٹ وے کا منصوبہ، سمارٹ یونیورسٹیز فیز ون کیلئے ساڑھے 46 کروڑ روپے، سی پیک کنسورشیم آف یونیورسٹیز کے تحت اکیڈمک تعاون منصوبہ اور شمالی وزیرستان میں یونیورسٹی کے قیام کا منصوبہ بھی بجٹ میں شامل کر لیا گیا ہے۔ منصوبے کی فیزیبلٹی سٹڈی کیلئے 75لاکھ روپے کے فنڈز بجٹ میں مختص کرنے کی تجویز جبکہ چترال اور تربت میں یونیورسٹیاں قائم کرنے کے منصوبے بھی نئے بجٹ میں شامل کر لیے گئے ہیں۔وفاقی بجٹ میں آئندہ مالی سال میں مختلف ٹیکسز کے ذریعے 5 ہزار 464 روپے وصولیوں کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ ایف بی آر کے ٹیکسز سے 4 ہزار 963 ارب روپے حاصل کرنے کا ہدف تجویز جبکہ ڈائریکٹ ٹیکسز سے 2 ہزار 43 ارب روپے حاصل ہونے کا تخمینہ ہے۔ انکم ٹیکس کی مد میں 2 ارب تین کروڑ روپے سے زائد، ورکرز ویلفئیر فنڈ سے تین ارب روپے سے زائد کے ٹیکسز، ان ڈائریکٹ ٹیکسز کی مد میں 2 ہزار 920 ارب سے زائد، کسٹمز ڈیوٹیز کی مد میں 640 ارب اور سیلز ٹیکس کی مد میں ایک ہزار 919 ارب روپے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

فیڈرل ایکسائز کی مد میں 361 ارب روپے، موبائل ہینڈ سیٹ لیوی کی مد میں پانچ ارب 80 کروڑ روپے، گیس انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس سے 15 ارب روپے اور قدرتی گیس ڈویلپمنٹ سرچارج سے 10 ارب روپے وصولی کا تخمینہ لگایا گیا ہے جبکہ پٹرولیم لیوی کی مد میں ساڑھے چار سو ارب روپے وصول کئے جائیں گے۔وفاقی وزیر حماد اظہر نے بتایان کہ آٹو رکشا، موٹر سائیکل رکشا اور 200 سی سی تک کی موٹر سائیکلوں پر ایڈوانس ٹیکس ختم کر دیا گیا ہے جبکہ بھاری فیسیں وصول کرنے والے تعلیمی اداروں پر 100 فیصد ٹیکس عائد کر دیا گیا ے۔ دو لاکھ روپے سے زائد سالانہ فیس لینے والے تعلیمی اداروں کو 100 فیصد سے زائد ٹیکس دینا پڑے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایف اے ٹی ایف کے تقاضوں کو بھی بجٹ میں مدنظر رکھا گیا۔ ایک سال میں بیرونی محصولات پر کسی قسم کا ٹیکس نہیں لگایا جائے گا۔اس سے قبل قومی اقتصادی سروے رپورٹ میں کورونا وائرس سے متعلق خصوصی باب بھی شامل کر لیا گیا ہے۔ سروے کے مطابق وبا کے باعث ملک کی 56.6 فیصد آبادی سماجی اور معاشی لحاظ سے غیر محفوظ ہو گئی جبکہ ملک میں خواتین لیبر فورس کم ہو جائے گی۔سروے رپورٹ کے مطابق خواتین اور بچوں کے سب سے زیادہ متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ وائرس کے باعث دوکروڑ 71 لاکھ افراد کے بیروزگار ہونے کا خدشہ ہے۔جزوی لاک ڈاؤن میں زرعی اور غیر زرعی شعبے میں 1 کروڑ 55 لاکھ افراد بیروزگار ہونے کا خدشہ ہے۔ مکمل لاک ڈاؤن کی صورت میں ایک کروڑ 91 لاکھ افراد کی بیروزگار ہو سکتے ہیں۔ہول سیل اور ریٹیل ٹریڈ میں زیادہ افراد کے بیروزگار ہونے کا خدشہ ہے۔ وائرس سے اوورسیز پاکستانیز کے بیروزگاری سے زیادہ متاثر ہوسکتے ہیں، سکولوں کالجزکی بندش سے خواتین کے بیروزگارہونے کا خدشہ ہے۔کورونا وائرس کے باعث ملک میں خواتین لیبر فورس کم ہو جائے گی۔ ایف بی آر کی ٹیکس وصولیوں کو دھچکا لگا۔ بجٹ خسارہ 9.4 فیصد تک پہنچنے کاخدشہ ہے جبکہ ملکی برآمدات متاثر ہوئی ہیں۔ایک سال میں بھینسوں کی تعداد میں 12 لاکھ کا ہوا، بھینسوں کی تعداد 4 کروڑ سے بڑھ کر 4 کروڑ 12 لاکھ ہو گئی۔ ایک سال میں بھیڑوں کی تعداد میں 3 لاکھ کا اضافہ ہوگیا۔ بھیڑوں کی تعداد 3 کروڑ 9 لاکھ سے بڑھ 3 کروڑ 12 لاکھ ہوگئی۔بکریوں کی تعداد میں 21 لاکھ کا اضافہ ہو گیا، بکریوں کی تعداد 7 کروڑ 61 لاکھ سے بڑھ کر 7 کروڑ 82 لاکھ ہوگئی، گھوڑوں، اونٹوں اورخچروں کی تعداد میں کوئی اضافہ نہیں ہوا۔گھوڑوں کی تعداد 4 لاکھ اور خچروں کی تعداد 2 لاکھ برقرار ہے، ملک میں اونٹوں کی تعداد 11 لاکھ ہے، مویشیوں کی تعداد 18 لاکھ کا اضافہ ہوا، مویشیوں کی تعداد 4 کروڑ 78 لاکھ سے بڑھ کر 4 کروڑ 96 لاکھ ہو گئی۔ ایک سال میں پولٹری کی تعداد میں 12کروڑ 20 لاکھ کا اضافہ ہوا۔پولٹری کی تعداد ایک ارب 32 کروڑ 10 لاکھ سے بڑھ کر ایک ارب 44 کروڑ 30 لاکھ ہو گئی، گدھوں کی تعداد میں ایک لاکھ کا اضافہ ہو گیا۔ گدھوں کی تعداد 54لاکھ سے بڑھ کر 55لاکھ ہوگئی۔رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ کورونا وائرس سے قبل اقتصادی ترقی کی شرح کا تخمینہ 3.3فیصد تھا، وباء کے بعد اقتصادی ترقی منفی 0.4 فیصد ہو گئی، کورونا سے زرعی، خدمات اور صنعتی شعبے کی ترقی متاثر ہوئی، سرمایہ کاری بھی متاثر ہوئی، تعلیمی اداروں میں جانے والے 4 کروڑ بیس لاکھ طلباء وطالبات براہ راست متاثر ہوئے۔بڑے صنعتی شعبوں کی شرح نمو 5.4 فیصد کم ہوئی، معدنیات کے شعبے میں شرح نمو منفی 8.8 فیصد رہی، جولائی تا اپریل ٹیکس آمدن 3300 ارب روپے رہی، جولائی تا اپریل ٹیکس آمدن میں 10.8 فیصد اضافہ ہوا، نان ٹیکس آمدن جولائی تا مارچ 30 فیصد بڑھی، نان ٹیکس آمدن جولائی تا مارچ 1095 ارب روپے رہی۔