کرونا کی وبا کا تیزی سے پھیلاﺅ تشویشناک ہے اگر صورتحال کنٹرول میں نہ رہی تو مائیں اپنے بچوں،بہنیں اپنے بھائیوں اور باپ اپنے بچوں سے محروم ہو جائیں گے۔راجہ محمد فاروق حیدرخان

187 Views

مظفرآباد (پی آئی ڈی )1 1 جون2020
وزیر اعظم آزادحکومت ریاست جموں وکشمیر راجہ محمد فاروق حیدرخان نے کہا ہے کہ لاک ڈاﺅن کے دوران سیاسی قیادت نے حکومتی اقدامات کی بھرپور حمایت کی جس پر ان کے شکرگزار ہیں ، ان سے مشاورت کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔ اداروں کو مضبوط بنانا چاہتے ہیں تاکہ افراد کے آنے جانے سے ان کی کارکردگی پر اثر نہ پڑے۔ سفارش اور پسند و ناپسند کے کلچر نے پورے ملک کو تباہ کر دیا۔ حلفاً کہتاہوں کہ تین سال میں پبلک سروس کمیشن کے ذریعے تعینات ہونے والے کسی ایک افسر کی بھی سفارش نہیں کی۔ مظفرآباد کے قبرستانوں میں زلزلے کے بعد جگہ پہلے ہی بہت کم ہے اب مزید کسی بڑے سانحہ یا ایسی تباہی کے متحمل نہیں ہو سکتے ۔ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ محسن کمال کا شکرگزار ہوں جنہوں نے میری درخواست پر پبلک سروس کمیشن کی سربراہی سنبھالی اور تین سالوں میں پبلک سروس کمیشن کی شاندار خدمات رہیں جس کی مثال ماضی میں نہیں ملتی۔ نیا پبلک سروس بھی میرٹ پر بنایا گیا ہے جو گزشتہ روایت لیکر چلے گا۔ مظفرآباد شہر کے بعد بھمبر کو بھی لاک ڈاﺅن کرنے کا سوچ رہے ہیں ۔ احتجاج کرنے والے اساتذہ دفعہ144کی خلاف ورزی کے مرتکب ہورہے ہیں ۔ مقبوضہ کشمیرکے لوگ کرونا کے ساتھ بھارتی لاک ڈاﺅن کی دوہری مصیبت کا شکار ہیں ۔وہ جمعرات کے روز آزادجموں وکشمیر قانون ساز اسمبلی میں اظہارخیال کررہے تھے ۔ اجلاس کی صدارت پہلے ڈپٹی سپیکر سردار عامر الطاف اور بعدازاں سپیکر شاہ غلام قادر نے کی ۔ ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر اعظم راجہ محمد فاروق حیدرخان نے کہاکہ کرونا کی وبا کا تیزی سے پھیلاﺅ تشویشناک ہے ۔ اگر صورتحال کنٹرول میں نہ رہی تو مائیں اپنے بچوں ، بہنیں اپنے بھائیوں اور باپ اپنے بیٹیوں سے محروم ہو جائیں گے ۔ ہم سب کو ملکر کر اللہ رب العز ت سے دعا کرنی ہے جو سب سے بڑا طبیب اوروہی ہمیں اس لاعلاج بیماری سے بچا سکتا ہے ۔ وزیر اعظم نے کہاکہ جنرل محسن کمال کی سربراہی میں آزادجموںوکشمیر پبلک سروس کمیشن نے میرٹ پر کام کیا جس اعتراف اپوزیشن نے بھی کیا۔ عینی شائد ہوں کہ ماضی میں بپلک سروس کمیشن کے ساتھ کیا ہوتا رہا مگر اس بحث میں نہیں جاناچاہتا۔ ہم اداروں کو مضبوط کرناچاہتے ہیں تاکہ افراد کے آنے جانے سے فرق نہ پڑے ۔ انہوںنے کہاکہ لاک ڈاﺅن کے حوالہ سے ہم نے قومی پالیسی پر عملدرآمد کرنا ہے ۔ کچھ معاملات میں صوبوں اور مقامی انتظامیہ کو اختیار دیا گیاہے کہ صورتحا ل کے مطابق فیصلہ کر سکتے ہیں ۔ انہوںنے کہا کہ ایوان جوابدہی کی جگہ ہے اور حکومت سے جوابدہی کرنا اراکین کا حق ہے ۔ کرونا سے بچنے کا واحد علاج احتیاط ہے ۔ لوگ جنازوں میں جوق درجوق شرکت کر کے کرونا کے پھیلاﺅ کا سبب بن رہے ہیں ۔اپوزیشن کے ہر سوال کا جواب دینگے ۔ کرونا سے نمٹنا چیلنج بن چکا ہے ۔ لوگوں کی بے احتیاطی کے باعث صورتحال تشویشناک ہورہی ہے ۔ ہم سب کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا ۔کرونا کے مزید پھیلاﺅ کو روکنے کےلئے اقدامات اور مزید پالیسی بنانے کےلئے اپوزیشن کی طرف سے تجاویز کا خیر مقدم کرینگے ۔ انہوںنے کرونا کے پھیلاﺅ کی روک تھام میں حکومت پاکستان، این ڈی ایم اے ، پاک فوج اوروزارت صحت سے ملنے والے تعاون پر شکریہ ادا کیا۔ وزیر اعظم راجہ محمد فاروق حیدرخان نے کہا کہ کرونا کی روک تھام میں ہم نے پہلے مرحلے میں قومی سطح پر سبقت حاصل کی مگر عید کے قریب لاک ڈاﺅن میں نرمی سے کروناپھیلااور اب مظفرآباد ہاٹ سپاٹ بنتا جارہاہے ۔ مظفرآباد کو لاک ڈاﺅن کرنے جارہے ہیں اور بھمبر کو بھی لاک ڈاﺅن کرنے کا سوچ رہے ہیں ۔ وزیر اعظم نے کہاکہ لاک ڈاﺅن میں نرمی سے حالات خراب ہوئے ۔ ہماری بے احتیاطی کی وجہ سے چھوٹے سے خطے میں صورتحال بگڑ رہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ قوم کی رہنما ئی کرنا حکومت واپوزیشن کی ذمہ داری ہے ۔ ممبر اسمبلی عبدالماجد خان کی تحریک التواءکے حولے سے وزیر اعظم نے کہاکہ حکومت اپوزیشن کے سوال کا جواب دے گی ۔ اساتذہ کے احتجاج پر افسوس کا اظہا ر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہاکہ وہ قانون کی خلاف ورزی کررہے ہیں۔ سڑک پر جمع ہوکر کرونا پھیلانے کا سبب بننے کے بجائے ان کی یونین اگر رجسٹر ہے تو سیکرٹری تعلیم سے رجوع کریں ۔ مقبوضہ کشمیر کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہاکہ مقبوضہ میں میں ہمارے بھائی دہری مصیبت کا شکار ہیں ۔ایک طرف کرونا وباکا مسئلہ ہے تو دوسری طرف ہندوستان کی غاصب حکومت نے لاک ڈاﺅن کررکھا ہے ۔ دنیا کو ہندوستان کے مقبوضہ کشمیر کے لوگوں پر ظلم و جبر کا نوٹس لینا چاہیے ۔ وزیر اعظم نے ممبر اسمبلی شازیہ اکبر کے پیٹرول کی قلت کے حوالے سے توجہ طلب نوٹس پر کہاکہ یہ حکومت پاکستان ، پیٹرولیم منسٹری اور تیل درآمد اور ڈسٹری بیوٹ کرنے والوں کا معاملہ ہے ،پھر بھی مرکزی حکومت سے رابطہ میں ہیں توقع ہے کہ جلد یہ معاملہ حل ہوجائے گا ۔ پیٹرول کی قلت کے مسئلے کا تعلق پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردل بدل سے ہے ۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭